• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان آئیڈل جیسے مزید پلیٹ فارمز اچھا گانے والوں کے لیے ضروری ہیں، راحت فتح علی خان

دنیا بھر میں اپنی گائیکی سے پاکستان کا نام روشن کرنے والے سروں کے سلطان استاد راحت فتح علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسیقی کے حوالے سے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس سے تو سامنے آنا ہی ہے، لیکن یہ بات ضروری ہے کہ پاکستان آئیڈل جیسے مزید پلیٹ فارمز اچھے گانے والے بچوں کے لیے مہیا ہوں اور حکومت پاکستان کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے۔

وہ منگل کی شب برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے بنگالی گانے کی لانچنگ کے موقع پر جنگ سے گفتگو کر رہے تھے، برٹش ایشین آرٹسٹ راجہ کاشف کی موسیقی میں راحت فتح علی خان نے یہ گانا برٹش بنگالی آرٹسٹ روبا عیات جہاں کے ساتھ مل کر گایا ہے۔ گانے کے بول ’’تمی امر پریم پیاشا‘‘ ہیں۔

تقریب میں لارڈ طارق احمد، رتھ کیڈبری ایم پی، افضل خان ایم پی، آدم پٹیل ایم پی، افسانہ بیگم ایم پی، بیرونس الدین، بیرونس نوشین مبارک و دیگر نے بھی شرکت کی اور راحت فتح علی خان کے فن کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر راحت فتح علی خان اور ان کے صاحبزادے شاہ زمان خان و دیگر افراد کو اپنے شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈز و تحائف بھی پیش کیے گئے۔

استاد راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ انہیں بنگلہ دیش جا کر پرفارم کرنا بہت اچھا لگا، وہاں ہمیشہ بہت پیار ملا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لندن کے تاریخی رائل البرٹ ہال میں ان کا شو شاندار رہا۔ شرکاء ویسے تو تمام غزلوں اور گیتوں کو دلچسپی سے سنتے ہیں، لیکن سانسوں کی مالا، جھولے جھولے لال اور دم مست قلندر پر ان کا ردعمل دیدنی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لندن کی پارلیمنٹ میں انہیں ایوارڈ ملنا بہت اچھا لگا، یہ میرے والدین کی دعاؤں اور ہماری محنت کا صلہ ہے۔

شاہ زمان خان نے کہا کہ ایوارڈ ملنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے جس پر بڑی خوشی ہوئی ہے، اور یہ میری زندگی کے یادگار لمحات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے والد سے صرف موسیقی میں غلطی پر ڈانٹ پڑتی ہے، بصورت دیگر وہ بہت ہی سوئٹ انسان ہیں۔

روبا عیات جہاں کا کہنا تھا کہ لیجنڈ سنگر استاد راحت فتح علی خان کے ساتھ گانا میرے لیے اعزاز ہے، انہوں نے بنگالی الفاظ کی ادائیگی بالکل درست کی ہے، انہوں نے بنگلہ زبان میں گانا گا کر بنگلہ دیش کے لیے جو محبت دکھائی، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ “روباعیات، تم بہت خوبصورت گایا ہے‘‘، میرے لیے ان کا یہ کہنا بہت معنی رکھتا ہے۔

تقریب کے انعقاد میں تعاون کرنے والے فاران فارانی نے کہا کہ یہ گانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور بنگلہ دیش اور پاکستان کی دوستی اور موسیقی کے حوالے سے آج بہت اہم دن ہے۔

تقریب کے میزبان اور گانے کے موسیقار برٹش ایشین آرٹسٹ راجہ کاشف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موسیقی کے میدان میں جس شراکت داری کا آغاز ہوا تھا، آج اس کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ تقریب میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر آصف اکبر نے بھی شرکت کی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید