بحیرۂ اسود میں آبنائے باسفورس سے 30 کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر ترکیہ کے آئل ٹینکر پر حملہ ہوا۔
ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر یورا اوغلو نے بتایا کہ جمعرات کی صبح روس سے خام تیل لے کر آنے والے ترکیہ کے ایک جہاز نے ہمارے ایمرجنسی کال سینٹر کو اپنے انجن روم میں دھماکے کی اطلاع دی۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ڈرون حملے میں جہاز کے انجن روم کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہمارے خیال میں یہ حملہ کسی ڈرون کے ذریعے نہیں کیا گیا بلکہ یہ حملہ پانی کے اندر سے کیا گیا ہے۔
ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ جہاز کو مکمل طور پر غیر فعال کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ضروری یونٹس کو جائے وقوعہ پر بھیج دیا ہے، جو کہ اب صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ بحیرۂ اسود روس اور یوکرین کے ساتھ بھی لگتا ہے جن کے درمیان گزشتہ 4 سالوں سے جنگ چل رہی ہے۔