• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ گواہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک اکثر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہتےہیں ان ممالک کے حکمران،جمہوری ہوںیاآمر ،اکثر اپنی بقا واقتدارکیلئے بڑی طاقتوںپر انحصار کرتے ہیں۔ خصوصاً امریکہ،یورپی ممالک اور برطانیہ وہ نمایاں ممالک ہیں جن سے تعلقات کی خاطر حکمرانوں کو اپنی حکومتوں اور کابینہ میں ایسے افراد کو شامل کرنا پڑا جنہیں وہ ذاتی طور پر پسند نہیں کرتے تھے، بظاہر یہ فیصلے سیاسی مصلحت تھی ، مگر یہی عناصر حکومتوں کے اندر کمزوری کا سبب بن گئے اور ایسےبعض ممالک کو بالآخررجیم چینج جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ داخلی سیاسی دباؤ، مذہبی مخالفت، میڈیا کی مہمات اور عالمی طاقتوں کے اثرات نے مل کر ایران کے سیاسی نظام کو اس نہج تک پہنچایا جہاں بالآخر انقلاب برپا ہو گیا۔ ایران کی تاریخ کو دیکھیں پہلوی خاندان کا اقتدار 1925ء میں بانی رضا شاہ پہلوی سے شروع ہوا ۔ وہ فوج کے اہم عہدوں تک پہنچے اور 1921ء میں فوجی بغاوت کےذریعے سیاسی طاقت حاصل کی ۔1925ء میں ایرانی پارلیمنٹ نے قاجار خاندان کے آخری بادشاہ احمد شاہ کو معزول اور رضا شاہ کو ایران کا بادشاہ قرار دیا۔ یوں پہلوی خاندان کی حکمرانی کا آغاز ہوا جسے ایران میں جدیدیت کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نےسماجی سطح پر بھی بعض اصلاحات متعارف کرائیں خواتین کو معاشی و سماجی میدان میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941ء میں برطانیہ اور سوویت یونین کے دباؤ کے باعث رضا شاہ کو اقتدار چھوڑنا پڑااسکے بعد ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی ایران کے بادشاہ بنے، جو ایران کے آخری شاہ ثابت ہوئے۔محمد رضا شاہ نے یورپ میں سوئٹزرلینڈ کے ایک تعلیمی ادارے میں تعلیم پائی، جسکے باعث ان کی سوچ اور حکمرانی کے انداز پر مغربی اثرات نمایاں تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایران کو ایک جدید اور طاقتور ریاست بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی پالیسیوں میں صنعتی ترقی، جدید تعلیم کا فروغ اور فوجی طاقت میں اضافہ شامل تھا۔1963ء میں انہوں نے ایک وسیع اصلاحاتی پروگرام شروع کیا جسے ’’وائٹ ریولوشن‘‘ کہا اس پروگرام میں زرعی اصلاحات، زمین کی تقسیم، خواتین کو ووٹ کا حق ،تعلیم کے فروغ جیسے اقدامات شامل تھےمگر ساتھ ہی مذہبی حلقوں ، سیاسی مخالفین کی ناراضی بڑھنے لگی معروف مذہبی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی نے شاہ کی پالیسیوں کی شدید مخالفت کی اور شاہ کی بعض اصلاحات ایرانی معاشرے کی مذہبی ،روایتی اقدار سے متصادم قرار دیں ۔یہ اختلافات مضبوط سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئے1970ء دہائی میں ایران میںشدید سیاسی بحران کی شروعات ہوئیں محمد رضا کے مطابق، حکومت پر داخلی اورخارجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا، سیاسی توازن برقرار رکھنے کیلئےناچار مختلف سیاسی دھڑوں کو حکومت میں شامل کرنا پڑا۔ حالات کے دباؤ کے تحت ایران میں وزرائے اعظم کی تبدیلیاں بھی تیزی سے ہوئیں امیر عباس ہویدا طویل عرصے تک وزیر اعظم رہے، ان پر بدعنوانی اور کمزور حکمرانی کے الزامات لگے ان کوعہدے سے ہٹا دیا۔ انقلاب کے بعد 1979ء میں انہیں پھانسی دے دی گئی بعدازاںجمشید آموزگار وزیر اعظم بنے، جنکی معاشی پالیسیوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عوامی ناراضی مزید بڑھ گئی جسکو سنبھالنے کیلئے جعفر شریف امامی کو وزیر اعظم مقرر کیاگیا، جنہوں نے مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکےبعد ازاں فوجی جنرل غلام رضا ازہاری کو حکومت کی باگ ڈور دی گئی اور ملک میں سخت اقدامات کیے گئے، مگر احتجاج کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گیا۔ آخرکار شاہ نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے شاپور بختیار کو وزیر اعظم مقرر کیا، جنہوں نے اصلاحات کے ذریعے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی، مگر اس وقت تک سیاسی طوفان بہت طاقتور ہو چکا تھا۔1978ء اور 1979ء میں ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے،ہڑتالیں شروع ہو گئیں۔ان مظاہروں کی قیادت آیت اللہ خمینی کے حامی کر رہے تھے۔ بالآخر یہی تحریک ایک بڑے انقلاب میں تبدیل ہو ئی اورجنوری 1979ء میں محمد رضا شاہ کو ایران چھوڑنا پڑا۔ اپنی کتابAnswer to Historyمیں شاہ نے لکھا کہ انکی حکومت کے خاتمے کی وجوہات میں مذہبی قیادت کی مخالفت، سیاسی اپوزیشن کی سرگرمیاں، کابینہ کے غیر وفادار عناصر، میڈیا کی مہمات اور بیرونی طاقتوں کے اثرات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ بین الاقوامی سیاست اور عالمی میڈیا نے ایران کے سیاسی بحران کو مزید پیچیدہ بنا یا۔یوں 1979ء کا ایرانی انقلاب صرف ایک داخلی سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ایران میں صدیوںپر محیط بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایک نیا اسلامی نظام قائم ہوا، جس کے اثرات آج بھی عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔موجودہ صدی میں بڑی طاقتوں نے ’’رجیم چینج “کی خاطرایرانی حکومت کےاعلیٰ منصب پر فائز افسروں کی وفاداریوں کو خریدا ،پڑوسی ممالک سے جتھے خرید کر ایران میں تشدد ، لوٹ مار کرائی ، ایرانی حکومت نے پولیس کو وسیع اختیار سونپ کر فتنہ فساد پیدا کرنے والے خوارج مارا اور پکڑے جانیوالوں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ ایرانی قوم نے حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے روپ دھار کے رہنے والوں کی بلاتفریق نشاندہی کی جسکے بعد اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر اس امید میں حملہ کیا کہ وہ بیرونی دہشت گرد بدامنی پیدا کریں جو غلط ثابت ہوا اور ایرانی حکومت نےجاسوسی کرنے والے ضمیر فروشوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا ۔ وطن عزیز بھی اس وقت اسی قسم کی سازشوں سے دوچار ہے فتنہ الخوارج اور بعض ضمیر فروش پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ڈالروں کے عوض ملک دشمن سرگرمیوں کیساتھ ساتھ ملکی اداروں خصوصی طور پر مسلح افواج کیخلاف بے بنیاد زہریلا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔

تازہ ترین