• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ نے شاید نوٹ کیا ہو کہ کچھ عرصے سے مذہبی رہنما کہلوانے والے لوگ بھی انٹرٹینمنٹ سے بھرپور وڈیوز اپ لوڈ کرنے لگے ہیں۔ان میں سے اکثر تو بڑے بڑے کامیڈینز کو مات دیتے نظر آتے ہیں۔ان کا لہجہ، بات کرنے کا انداز، ایکسپریشنز اور پنچ لائن غضب کی ہوتی ہے۔ یہی نہیں بعض ایسے مذہبی تہوار جن میں ہر چہرے سے دکھ ٹپکنا چاہیے یہ وہاں بھی مائیک پر آکر مختلف پینتروں سے لوگوں کی دندیاں نکلواتے نظر آتے ہیں۔سامعین کا بھی جواب نہیں جو ہر بات پر ’سبحان اللہ‘ کا نعرہ بلند کررہے ہوتے ہیں۔یہ تبدیلی کیوں آئی؟ کیونکہ واعظین کو اس چیز کے ویوز زیادہ ملتے ہیں۔ کئی مذہبی رہنماؤں کے یوٹیوب چینل لاکھوں سبکرائبرز حاصل کرچکے ہیں۔یہود و نصاریٰ کے خلاف سربکف اِن رہنماؤں کے کمروں میں ’سلور بٹن‘ بھی پورے اہتمام سے آویزاں ہوتے ہیں۔یا توانہیں پتا نہیں کہ یوٹیوب کن کی ملکیت ہے، یااِنہیں اِس سے کوئی سروکار نہیں۔یہ سمجھ گئے ہیں کہ ہنستی مسکراتی وڈیوز زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں۔روایتی باتیں چونکہ یہ بہت کرچکے لہٰذا اب یہ اپنے بیانات میں ’کامیڈی ٹچ‘ شامل کرکے مجمع الٹا دیتے ہیں۔یہ کہانیاں سنائیں، دلچسپ واقعات بیان کریں، لطیفوں کا تڑکا لگائیں، سب انہی کو زیبا ہے۔کوئی اور یہ حرکت کرے تو اِن کی آنکھوں سے انگارے برسنے لگتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نام کیساتھ چار چار سابقے اور لاحقے لگے ہوتے ہیں۔ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ انہیں امانت چن نہ سمجھنے لگیں۔کبھی کبھی تو ان کے جملے سن کر مجھے لگتاہے کہ اگر یہ اپنی باتیں ذرا بہتر انداز میں ا ور اُردو میں لکھ سکیں تو دورحاضر کے بہترین مزاح نگار بن سکتے ہیں۔ان میں سے اکثر اُس پیڑی سے ہیں جو تصویر کو حرام کہا کرتے تھے او رآج یوٹیوب چینل پراپنی وڈیوز بھی ڈالتے ہیں اوربمباسٹک قسم کا تھمب نیل بنانے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہیں۔

٭ ٭ ٭

مزاح نگاری کا ذکر چلا ہے تو علی رضا احمد کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔ یہ میرے پسندیدہ مزاح نگار تو ہیں ہی، دوست بھی باکمال ہیں۔ ان کا دل بھی ان کے دستر خوان کی طرح وسیع ہے۔مزاح کی چھ کتابوں کے مصنف ہیں اور ایسا کرارا جملہ لکھتے ہیں کہ پڑھنے والا پھڑک اٹھتاہے۔دنیا ئے اُردو میں جو مزاح نگار رضائے الٰہی سے حیات ہیں ان میں علی رضا احمد بھی شامل ہیں۔ان سے شکوہ ہے تو اتنا کہ بہت کم لکھتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے تازہ تازہ مزاح لکھنا شروع کیا تو میں نے ان سے گزارش کی کہ آپ کم نہ لکھا کریں، بہت کم لکھا کریں۔لیکن علی رضا سے تو یہی فرمائش بنتی ہے کہ زیادہ نہیں بہت زیادہ لکھا کریں۔جو لوگ مزاح پسند کرتے ہیں اور تحریر کا لطف اٹھانا جانتے ہیں وہ علی رضا کی کتابیں ’دھجی آں، ایرے غیرے، مزاح مت اور مزاح مین‘ ضرور پڑھیں۔ بقول استاد محترم عطاء الحق قاسمی’علی رضا صرف مزاح نگار ہی نہیں،بہت پڑھا لکھا بھی ہے اس کا انگریزی اور اردو ادب کا مطالعہ اس کی تحریرکی اضافی خوبی کا باعث بنتاہے تاہم بہت اچھی بات یہ ہے کہ اس کی تحریریں اور اس کا علم شوربے کے اوپر تیرتے ہوئے تیز مسالے کا نہیں بلکہ اس کی تحریر میں رچا بسا نظر آتا ہے اور یوں اس کی لذت میں اضافہ ہوجاتاہے“۔خودعلی رضا کا اپنے متعلق کہنا ہے کہ ”ایک زمانہ تھا جب لوگ ہڈیوں اور درختوں کے پتوں پر اپنی تخلیقات کو دامن تحریر میں لایا کرتے تھے مگر میں نے اپنی ’مشق وری‘ کا آغازہاسٹل کے کمروں، دروازوں اور نوٹس بورڈ سے کیاجہاں میں نوٹس بورڈ پر لکھی ہوئی ہدایات میں خفیہ طریقے سے ٹمپرنگ کرکے فکاہیہ سخن وری کیا کرتا تھا۔ یہ اہتمام رات کے پچھلے پہر ہوتا تھا تاکہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کرجوتے چھوڑ کر بھاگنے میں کوئی پریشانی نہ ہو“۔

٭ ٭ ٭

مجھے لگتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے گرمیاں انسان کی اصلیت ظاہر کرنے کیلئے بنائی ہیں۔ گرمیوں میں بآسانی پتا چلا یا جاسکتا کہ کون سا بندہ اصل میں بہت غصے والا ہے، کون سا زیادہ جلدی ’تپ‘ جاتاہے، کس میں قوت برداشت کی کمی ہے، کون صفائی پسند ہے، کون روز نہاتاہے، کون خوش لباس ہے، کون اے سی کے بغیر زیرو ہے، کون پنکھے کی نعمت کو سمجھتاہے، کون لائن مین سے ملاقات کیلئے میٹر کے اوپر کاغذ لکھ کر چپکاتاہےاور کون موسم کی پروا کیے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیتاہے۔اس کے باوجودیہ گرمیاں ہی ہیں جو ہمارے لیے آم لاتی ہیں، تربوز لاتی ہیں، گرما لاتی ہیں، فالسہ لاتی ہیں، جامن لاتی ہیں۔ پھلوں کے حوالے سے گرمیوں سے اچھا موسم کوئی نہیں، لیکن اخراجات کے حوالے سے بھی گرمیوں سے برا موسم کوئی نہیں۔ یہ پانی والی موٹر کے خراب ہونے کا موسم ہے، ٹرانسفارمر اُڑنے کا موسم ہے، ایئرکولر کی خس بھروانے کا موسم ہے، اے سی کی گیس بھروانے کا موسم ہے، یو پی ایس کی بیٹری تبدیل کروانے کا موسم ہے۔ جن گھروں کے فریج اس موسم میں کولنگ نہیں کرتے ان گھروں کی بیگمات کو چاہیے کہ اپنے شوہروں پر نظر رکھیں جو آتے جاتے ہر دو منٹ بعد فریزر میں منہ دے کر ٹھنڈحاصل کرنےکی کوشش کرتے رہتے ہیں۔شادی شدہ لوگوں کیلئے گرمیوں کا موسم کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔تفصیل اس اجمال کی ناقابل بیان ہے،تاہم خواتین کو داد دینی چاہیے جو آدھی گرمیاں چولہے کے سامنے کھڑی ہوکر گزار دیتی ہیں۔ ویسے تو ایسے مردوں کی بھی کمی نہیں جو ’مدری روٹیوں‘ کی آس میں تنور پر ڈیڑھ میل لمبی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود زیادہ نمبر خواتین کے ہی بنتے ہیں۔ ایسی خواتین واقعی قابل تعریف ہیں جن کا آدھا دن چولہے پر گزرتا ہے اور آدھا دن بچوں کو سنبھالتے ہوئے۔ایسے میں اگر وہ شوہرحضرات کی خواہشات کا احترام نہ کرتے ہوئے ایک آدھ گستاخی کر بھی جائیں تو اسے درگزر کرنا چاہئے۔

تازہ ترین