یہ کہانی نئی نہیں، بہت قدیم ہے۔ ساڑھے چودہ سوبرس پہلے شروع ہونے والی ایک ایسی مقدّس حکایت کہ جو شروع تو فخرِ موجودات، سرکارِ دوعالم حضرت محمّد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی، مگر تاحال اُن کے اُمّتی اپنی عزیز ترین ہستی کی سُنتِ پاکیزہ کو مسلسل آگے بڑھارہے ہیں۔ ہوا کیا تھا بھلا؟ واقعہ نہایت حیران کُن ہے، سُنیے۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب مسلمان مکّہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حُکم پر ’’مواخات‘‘ یعنی بھائی چارے کا ایک نظام قائم کیا گیا۔
مدینہ کے مقامی مسلمانوں یعنی انصار نے مکّہ سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں یعنی مہاجرین کے ساتھ اپنے گھر، کاروبار اور زمینیں بانٹ لیں۔ یہ اسلامی تاریخ میں قربانی کی وہ عظیم مثال ہے، جو کہیں اورنہیں ملتی۔ دن، مہینے، سال گزرتے چلے گئے، صدیاں بیت گئیں۔ برِعظیم پاک و ہند میں اسلام کےنام پر ایک مُلک بنا مگر اُس مُلک میں غریب غریب تر ہوتا چلا گیا اور امیر امیر تر۔
مسکین اپنی مسکینی میں ساکن، یتیم اپنی یتیمی سے تمام اور نادار اپنی ناداری کی دار پر لٹکا ہوا۔ ایسے میں اُس مُلک کی سول سروس کے ایک خدا ترس، فرشتہ صفت افسر کے دل میں اللہ نے یہ شمع روشن کی کہ جا اور نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنّتِ مبارکہ کو پھر سے رائج کر۔ وہ مُلک پاکستان تھا، وہ سُنّت، ’’مواخاتِ مدینہ‘‘ کی تھی اور وہ شخص ڈاکٹر امجد ثاقب ہے۔
’’اخوت‘‘ ڈھائی دہائیاں پہلے ایک مُفلس عورت کو دس ہزار روپے بِلا سُود قرضِ حسنہ دے کر شروع کی گئی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب تب سول سروس آف پاکستان میں تھے۔ بدگمانوں کی ایک کثیر تعداد نے کہا کہ یہ قرض واپس نہیں ملنے والا۔ اِسے ضائع شُدہ ہی سمجھو۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہُوا یُوں کہ چھے ہی ماہ بعد وہ عورت پلٹی۔
اُس کی آنکھوں میں تشکّر کے آنسو، ہونٹوں پر خوش حالی کی مسکراہٹ اور ہاتھوں میں ایک پوٹلی تھی، جس میں وہی دس ہزار روپے تھے۔ بولی۔ ’’ڈاکٹر صاحب! مَیں نے ان دس ہزار روپوں سے دو سلائی مشینیں لی تھیں۔ خُوب محنت کی۔ آج میرے بچّے پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں۔ اسکول بھی جاتے ہیں۔ مَیں آج یہ قرضہ واپس کرنے آئی ہوں، مگر گزارش کرتی ہوں کہ آپ اب اِسے میرے ہی جیسے کسی اور ضرورت مند کو دے دیجیے۔ یہ سلسلہ اب رُکنا نہیں چاہیے۔‘‘ اور وہ سلسلہ نہیں رُکا۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے وہی دس ہزار کسی اور مستحق کو قرضِ حسنہ کے طور پر دیے۔ ’’اخوت‘‘ کا بیج بویا جاچُکا تھا۔ چند ہی روز میں اُس کی خوشبو دردِ دل رکھنے والے کچھ اور صاحبانِ حیثیت تک پہنچی اور وہ دامے درمے سخنے ’’اخوت‘‘ کے ساتھ جُڑتے چلے گئے۔ ہوتے ہوتے کڑی سے کڑی ملی، سلسلہ بنا۔ لڑی سے لڑی جُڑی، رابطہ استوار ہوتا چلا گیا۔ آج ’’اخوت‘‘ پاکستان بھر میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو ساڑھے چار سو ارب روپے کے قرضے دے چکی ہے۔ جی صاحبو! آپ نے ٹھیک پڑھا ہے۔
ساڑھے چار سوارب روپے۔ یہ کتابت کی غلطی نہیں،بلکہ اُس وعدۂ خدا کی تکمیل کا ثبوت ہے کہ اللہ سُود کو گھٹاتا اور صدقے کو بڑھاتا ہے۔ ’’اخوت‘‘ کی اس داستانِ حقیقت میں ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ سُن پائیں تو دل پگھل جائے اور آنکھیں نم ہوجائیں۔ دل چسپ بات یہ ہےکہ ڈاکٹر امجد تیرہویں کامن ٹریننگ پروگرام میں سول سروس میں آئے۔ ٹاٹ والے اسکول میں پڑھ کے بھی مقابلے کے اس دیومالائی امتحان میں پاکستان بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
کچھ برس افسرِشاہی کی چکاچوند میں گزارے، مُلکوں مُلکوں پھرے، مگر کسی جاہ و منصب سے نہ مرعوب ہوئے، نہ متاثر۔ عاجز نےایک بار بصد احترام پوچھا کہ ’’اتنے ترقی یافتہ مُلکوں کی ترقی دیکھی، کبھی کچھ دل کو نہیں لگا کیا ؟‘‘ فرمانے لگے۔’’اس کا جواب اُس شعر کی کہانی میں ہے، جو بچپن میں مجھےبار بار لکھنے کو دیا گیا۔ بات کچھ یُوں تھی کہ بچپن میں مَیں خوش خط نہیں تھا۔ سو، اُستاد نے نہایت نفیس خط میں ایک تختی پر اقبال کا ایک شعر لکھ دیا اور مجھے تاکید کی کہ ہر روز گھنٹہ بھر تختی پر لکھے اس شعر پر خشک قلم یُوں پھیروں کہ ہر حرف کے دائرے، نیم دائرے، نقطے، کشش اور ساخت پر دھیان رہے۔
مَیں کئی برس یہ کام کرتا رہا اور اُنہی برسوں میں کہیں وہ شعر تختی سے خوشبو بن کر اُبھرا اور میری شخصیت کا ایک لازمی جُزو بن گیا۔ اِسی وجہ سے مَیں بادشاہوں کے محلات، سربراہانِ مملکت کے دفاتر اور امیر ترین رؤسا کی عالی شان حویلیاں دیکھ کر بھی مرعوب نہیں ہوتا۔‘‘ ’’اور وہ شعر کون سا ہے؟‘‘ ناچیز نے بےتابی سے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کامل سکون سے آنکھیں موندیں اور حرف حرف کی مستی میں ڈوب کر اقبال ؒ کا شعر پڑھا ۔ ؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
درویش صفتی کی یہ کہانی عجب ہے۔ عین عروج کے عالم میں کہ جب مملکتِ خداداد میں ڈپٹی کمشنر کا راج ہوا کرتا تھا، ڈاکٹر امجد ثاقب اُس کُرسی سے خود بخود اُتر آئے، ہولے سے آکر مسجدِ محبت میں بچھی ’’اخوت‘‘ کی چٹائی پر بیٹھ گئے اور آج تک اپنی من موہنی مسکراہٹ کے ساتھ وہیں بیٹھے ہیں۔ ناچیز نے ایک بار ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کا سب سے بڑاحاصل وصول کیا سمجھتے ہیں؟ کہنے لگے۔ ’’میاں! اس کا جواب حیران کُن حد تک پُرلطف ہے۔
’’اخوت‘‘ نے دو ڈھائی دہائیوں کے اپنے سفر میں پاکستان کے بارے میں کچھ عالمی مغالطے اور غلط فہمیاں توڑ پھوڑ کر پھینک دیں۔ دُنیا کو یقین تھا کہ پاکستان ایمان داروں کا ملک نہیں، پاکستانی دیانت دار قوم نہیں۔ لیکن ’’اخوت‘‘ نے خیبر سے کراچی تک اور مہران سے ملتان تک جن لاکھوں لوگوں کو اربوں روپے بِلاسُود قرضے دیے، اُن لوگوں میں سے 99.9 فی صد نے وہ قرض ایمان داری سے مقررہ وقت پر ادا کیا۔ یہ ہے اصل پاکستانی قوم! اور بے ایمانی کی اس myth کو توڑنا میرا کمال نہیں، سُنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احیاء کا ثمر بلکہ معجزہ ہے۔‘‘ ایک اورمزےکی بات سُنیے۔
پچھلے برس جولائی میں امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کی تنظیم APPNA نے ڈیلاس میں ایک شان دار کنونشن کیا، تو ناچیز بھی مشاعرے کا حِصّہ تھا۔ تین دن پر مُحیط اُس عالی شان کنونشن میں ڈاکٹر امجد ثاقب بھی ’’اخوت‘‘ کی خوشبو ساتھ لیے موجود تھے۔
مَیں نے خُود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس میں کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں کہ راک اسٹارز، فلم اسٹارز اور سیلیبرٹیز کو چھوڑ چھاڑ کر چاہنے والوں کا ایک جمِ غفیر جس شخص کے گرد پروانوں کی مانند اکٹھا تھا، اُس کا نام ڈاکٹر امجد ثاقب ہے۔ موصوف نے مجھ ناچیز کو ’’شاعرِ اخوت‘‘ کا خطاب دے رکھا ہے، جس کا میں اہل تو ہرگز نہیں لیکن سُنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ کر اس کارِ خیر میں اپنے ٹوٹے پھوٹے کلام کے ساتھ پیش پیش رہتا ہوں۔ یہ سلسلہ ایسے شروع ہوا کہ دو برس قبل ڈاکٹر صاحب کی نظر میرے اِن اشعار پر پڑ گئی۔ ؎
جس کا بھی اخوّت پر ایمان نہیں ہوتا
آدم تو وہ ہوتا ہے، انسان نہیں ہوتا
خیرات کیا کیجے، یہ رب سے تجارت ہے
اور رب سے تجارت میں نُقصان نہیں ہوتا
سو، اُس دن سے آج تک ’’اخوت‘‘ کا شاید ہی کوئی ایسا ایونٹ ہو، جس میں مجھ عاجز نے اپنے کج مُج الفاظ کےنذرانۂ عقیدت سمیت شرکت نہ کی ہو۔ ایسا نہیں کہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے سول سروس کےامتحان میں کام یابی کے بعد پڑھائی لکھائی کے ذوق کو خیرباد کہہ دیا، جیسا کہ عموماً ہمارے ہاں افسر بن جانے کے بعد ہوتا ہے۔ کمالیہ میں پیدا ہونے سے لے کر گورنمنٹ کالج لاہور تک کے سفر میں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس سے لے کر ہیوبرٹ ہمفرے اسکالر شپ پر امریکن یونی ورسٹی، واشنگٹن میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز تک موصوف کتابوں کے بھرپور دوست رہے ہیں۔ پہلے محض پڑھتے تھے، پھر لکھنے بھی لگے۔
’’چار آدمی‘‘، ’’مالو مصلی‘‘،’’کام یاب لوگ‘‘، ’’ شہرِ لبِ دریا‘‘، ’’ گوتم کے دیس میں‘‘، ’’اخوت کا سفر‘‘، ’’دشتِ ظلمت میں ایک دیا‘‘، ’’ایک یادگار مشاعرہ‘‘، ’’غُربت اور مائیکرو کریڈٹ‘‘، ’’سیلاب کی کہانی‘‘ان کی چند معروف تصنیفات ہیں۔ خوش گوار حیرت اس بات پر ہے کہ چوبیس برس کے دوران صدقِ دل سے صدقۂ جاریہ کے اس کام کو جاری رکھنے کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب میں خواص والی کیفیت نہیں آئی۔
ہر چند کہ وہ خاص الخواص ہیں، مگر انتہائی انکسار پسند۔ جُوں جُوں اس معاشرے کے لیے اُن کی خدمات بڑھ رہی ہیں، وہ ایک پھل دار درخت کی طرح جُھکتے چلے جارہے ہیں۔ حال ہی میں اخوت کے ایک ایونٹ میں کچھ احباب سے کہنے لگے کہ ’’فارس کا ایک شعر مَیں نے اپنے پوتے کو یاد کروا رکھا ہے اور وہ ہرجگہ یہ شعر اتنی بار پڑھ چُکا ہے کہ اب یہ شعر فارس کا نہیں، اُس بچّے کا ہوگیا ہے۔‘‘ مَیں نے پوچھا کہ ’’سر! میرے کس شعر کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے ؟‘‘ تو لہک لہک کر پڑھنے لگے۔ ؎
جب اُس کی زندگی میں کوئی اور آگیا
تب مَیں بھی گاؤں چھوڑ کے لاہور آگیا
ایک بار ڈاکٹر صاحب نےناچیز کو ’’اخوت یونی ورسٹی‘‘ کادورہ کرنےکی دعوت دی، جو قصور لاہور روڈ پر رُونما ہونے والی ایک اور کرامت ہے۔ ہم پہنچے تو ڈاکٹر صاحب کو منتظر پایا۔ دُھلی دُھلائی مسکراہٹ، خلوص سے لبالب لہجہ اور آواز میں وہی دھیما پن۔ ہم تو یونی ورسٹی کو دیکھ کر ہی ششدر رہ گئے۔ قرطبہ و بغداد، غرناطہ و اصفہان یاد آگئے۔ الحمرا اور جامعہ الازہر کو ملالیا جائے تو اُن کے حُسن کے امتزاج سے وہ تراش خراش بنے، جواخوت یونی ورسٹی کے ماتھے پر چمکتی دمکتی ہے۔
پوچھا تو فرمانے لگے کہ ’’صاحب! یہ بھی الگ کہانی ہے۔ جب قرضے بلا سُود دیے تو تعلیم بِنا فیس دینے کا فیصلہ کیا۔ سوچا کہ ہماری جامعہ میں بچّے پڑھیں گے پہلے اورفیس وغیرہ کا جھنجھٹ بعد میں ہوگا، جب روزگار سے منسلک ہوجائیں گے۔ تعمیر کے لیے زرِخطیر چاہیے تھا اور درویشوں کی گرہ میں اتنا مال کہاں۔ بہرحال، اللہ کا نام لے کر ایک نعرہ جاری کیا کہ ایک اینٹ ایک ہزار روپوں میں خرید کر ایک یونی ورسٹی تعمیر کیجے۔
کسی نےدس خریدیں، کسی نے پانچ ہزار۔ یُوں پانچ لاکھ اینٹیں بِک گئیں اور پچاس کروڑ جمع ہوگئے۔ آنکھوں کو بھگو دینے والا واقعہ یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے قصبے سے ایک بوڑھی بیوہ کا فون آیا کہ مجھے بھی اس یونی ورسٹی کی تعمیر میں حصّہ لینا ہے، لیکن میرے پاس ایک ہزار روپے نہیں ہیں، صرف پانچ سو ہیں۔ تو کیا میں آدھی اینٹ خرید سکتی ہوں؟‘‘ ڈاکٹر امجد ثاقب یہ الفاظ سہج سہج دھیمے دھیمےبول رہے تھے اور مجھ سمیت تمام سُننے والوں کی آنکھوں سے رُخساروں تک اشک جاری تھے۔
اُس روز ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سُننے کے لائق تھی۔ جدھر جاتے، یونی ورسٹی کے اسٹوڈنٹس جان چھڑکتے۔ ہاسٹلز سے متعلق بتایا کہ ’’ہر کمرے میں اتنے بچّے رہائش پذیر ہیں کہ پاکستان کے ایک ایک صوبے سے ایک ایک بچّہ موجود ہے۔ یُوں ہر کمرا ایک مُنا سا پاکستان ہے۔‘‘ ڈاکٹر امجد ثاقب یُوں اُن نوجوانوں کے دِلوں میں پاکستانیت کے جو پھول مہکا رہے ہیں، وہ گلی گلی، کُوچے کُوچے، قریہ قریہ، شہر شہر پھیل جائیں گے۔ بات صرف پاکستانیت تک محدود نہیں بلکہ آگے بڑھتی ہے اور آگے ہےشہری تربیت کا انتظام، دیانت داری کا اہتمام۔
مزے کا واقعہ یہ ہے کہ اخوت یونی ورسٹی کی سیر کے دوران ہی وہاں ایک کینٹین نظر آئی جس کو ’’دُکانِ دیانت داری‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہاں طلبہ کےلیےکھانےپینے کی سب اشیاء موجود ہیں، ہرچیز پر اس کی قیمت لکھی رکھی ہے، لیکن نہ تو کوئی دکان دار ہے، نہ کوئی کیمرا۔ بس ایک ڈبا دھرا ہے۔ بچّوں سے امید یہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی من پسند اشیاء خُود ہی اٹھائیں اور ایمان داری سے مطلوبہ قیمت کے برابر پیسے خود ہی ڈبّے میں ڈال دیں۔
مَیں نے جب ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ ’’دکانِ دیانت داری‘‘ کیسی چل رہی ہے؟ تو ان کی آنکھوں میں چمک سی بھر آئی۔ کہنے لگے۔ ’’روز شام کو گنتی ہوتی ہے۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جتنی چیزیں بِکیں، ڈبّے میں اُن کی قیمت سے ایک روپیا بھی کم ہو بلکہ ہمیشہ کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں۔‘‘ یقین کیجے، یہ سُن کر دل ودماغ خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوگئے کہ کیا یہ وہی مُلک ہے، جس میں پبلک ٹوائلٹس میں لوٹوں تک کو زنجیریں لگی ہوتی ہیں کہ کوئی چُرا نہ لےجائے؟ جی ہاں، یہ وہی مُلک ہے، بس فرق صرف تربیت کاہے۔ جہاں بیش تر لوگ پاکستان کے نظامِ تعلیم کے ناکارہ وبےاثر ہونے کا نیم زندہ اشتہار ہیں، وہیں ڈاکٹرامجد ثاقب کے طالبِ علم دیانت داری کی روشن مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ ؎ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔
پشاور میں ایک ایونٹ میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی دستار بندی کی جارہی تھی۔ ناچیز اُس ایونٹ کا نقیبِ محفل تھا۔ وہیں مَیں نے دو معصوم سے لوگوں کو ایک میز پر محوِگفتگو پایا۔ پہلا دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ ’’یہ شخص (ڈاکٹر امجد) کوئی پوشیدہ ولی ہے، اللہ اسے مزید نوازے۔‘‘ مَیں نے سوچا کہ شاید بلکہ یقیناً خدمتِ خلق کی جائے تو لوگوں کے دِلوں سے ایسے ہی جذبات اورایسی ہی دُعائیں نکلتی ہیں۔
ایک بار لاہور میں گفتگو کے دوران مَیں نے ڈاکٹر صاحب سے پاکستان میں غُربت کے خاتمے کا حل پوچھا۔ کہنے لگے۔ غریب کو امداد نہیں روزگار دینا چاہیے۔اُسےبھکاری نہیں، کاروباری بنانا چاہیے۔ بِلاسُود قرضہ دیں تو کوئی شرط ایسی ساتھ رکھیں کہ جس سے معاشرے کا بھلا ہو مثلاً جو شخص ایک بچّے کو اسکول بھیجے گا اور اسّی فی صد اسکول حاضری کا ثبوت دے گا، اُس کو قرض کی واپسی میں سہولت دی جائے گی۔
ایسا کرنے سے مقروض کی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں ہوگی اور معاشرے میں چُپکے چُپکے رفتہ رفتہ مگر مسلسل سُدھار آتا چلا جائے گا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب اور ’’اخوت‘‘ اب ایک دوسرے میں اتنے گُتھے اور گُندھے ہوئے کہ عملِ جراحی سے بھی دونوں کو علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ لازم و ملزوم ہی کہہ لیجے۔ بات یہ ہے کہ جس کو خدمتِ خلق اور اس سے ملنے والے سکون کا چسکا لگ جاتا ہے، وہ پھر دُنیا میں جہاں بھی پھرے، اُسے کسی اور کام میں مزہ ہی نہیں آتا۔ ؎
سفر کردم بہر شہرے دویدم
بہ لُطف و حُسنِ تو کس را ندیدم
(مَیں مُلکوں مُلکوں، شہروں شہروں گھوما، لیکن یہ تیرے لُطف اور حُسن کا فیضان ہے کہ مَیں نے کچھ نہیں دیکھا)
کچھ تو ہے، جو لوگوں کے دِلوں کو اس من موہنے شخص کی جانب کھینچتا ہے۔ ورنہ چار سو شہروں میں نو سو کے قریب برانچز اور آٹھ ہزار سے زیادہ اسٹاف اور کروڑوں لوگوں کے دِلوں کی دھڑکن اُن کے ساتھ کیسے جُڑ گئی؟ نہ صرف جُڑ گئی بلکہ مسلسل جُڑی ہوئی ہے اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ دھیان دھول میں لت پت انسان کا ہر اُٹھتا قدم خود شناسی کی طرف جاتا ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب بھی خُود شناسی کے ٹھنڈے میٹھے پانی میں شرابور ہیں۔ مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ بروزِ قیامت جب یزداں کے سامنے پیشی ہوگی، تو ان شاء اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ ہی ہوگا۔ اور جب فرشتے تعارف کروائیں گے کہ ’’اللہ میاں! یہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں، اخوت والے۔‘‘ تو اللہ کہے گا۔ ’’جنّت میں داخل کردو۔ یہ میرے (اللہ ہی کے) بندے ہیں۔‘‘
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)