آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے ، جس نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’ ضرب عضب ‘‘ کے دوران پاکستان کی فوج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے کراچی میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد کیا ۔ رمضان المبارک کے باوجود 6 جولائی 2014 کو منعقد ہونے والے اس جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ ان لوگوں نے بھی رمضان المبارک کے دوران اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کردیں، جو ملک میں انقلاب یا سونامی لانا چاہتے ہیں ۔عبادات کے اس مہینے میں کوئی بڑا سیاسی جلسہ منعقد کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن اس مرحلے پر فوج کو سیاسی حمایت فراہم کرنے کی جتنی اس وقت ضرورت ہے ، اتنی پہلے کبھی نہیں تھی کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے بلکہ پاکستان کی بقا کے لئے جنگ لڑ رہی ہیں ۔ایم کیو ایم کی قیادت نے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اکیلی نہیں ہیں ۔ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہیں ۔
یوں تو پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی،مذہبی اور قوم پرست جماعتیں آپریشن ’’ ضرب عضب ‘‘ کی حمایت کرتی ہیں ۔ کچھ مکمل حمایت کرتی ہیں اور کچھ اپنے تحفظات کے ساتھ اس آپریشن کی حامی

ہیں ۔ مگر آپریشن کے لئے موجود وسیع تر عوامی حمایت کو متحرک کرنے کے لئے انہوں نے وہ کردار ادا نہیں کیا ہے ، جو انہیں کرنا چاہئے تھا ۔ کچھ سیاسی جماعتیں آپریشن کی اس لئے حمایت کررہی ہیں کہ انہیں ہرحال میں فوج کے اقدامات کی حمایت کرنا ہوتی ہے ۔ کچھ اس لئے حمایت کررہی ہیں کہ وہ فوج کے اقدامات کی مخالفت نہیں کرناچاہتیں ۔ کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو اس آپریشن کے مقاصد سے متفق ہیں اور ان سیاسی جماعتوں کی قیادت آپریشن کے حق میں زوردار بیانات بھی دیتی رہتی ہے لیکن وہ شاید انتہا پسند قوتوں کے خوف سے سیاسی قوت کا مظاہرہ نہیں کرسکتی ہیں ۔ اس لئے یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم واحد جماعت ہے ، جو نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مخالف ہے بلکہ وہ انتہائی جرأت کے ساتھ اپنے سیاسی مؤقف کے ساتھ میدان میں کھڑی ہے اور ان قوتوں کو للکاررہی ہے ، جو ملک کو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے تصورات کے برعکس ایک بنیاد پرست ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے ساتھ بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف واضح ،دو ٹوک اور جرأت مندانہ مؤقف کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی لبرل ، روشن خیال اور ترقی پسند حلقوں میں ایم کیو ایم کی حمایت بڑھ رہی ہے ۔ طالبان اور ان کے حامیوں کی مخالفت کرنا اس قدر آسان بات نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ’’ نیوز ویک ‘‘ میں دیئے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایم کیو ایم کے 4 منتخب عوامی نمائندوں کو طالبان نے قتل کردیا ہے اور ان کا تازہ ترین شکار ایم کیو ایم کی خاتون رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف ہیں ، جنہیں18 جون کو لاہور میں نشانہ بنایا گیا ۔عام انتخابات کے دوران بھی طالبان کی طرف سے 3سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) اور ایم کیو ایم کو دھمکیاں دی گئی تھیں اور ان سیاسی جماعتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم نہ چلائیں ۔ ایم کیو ایم کی انتخابی کارنر میٹنگز اور دفاتر پرحملے ہوئے ، جن میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے یہ تمام تر کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان اور ان کے حامیوں کی طرف سے ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنوں کے لئے خطرات موجود ہیں۔ اس کے باوجود کراچی میں پاک فوج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد کیا گیا ۔ یہ جلسہ عام اس وقت منعقد کیا گیا ، جب ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں کے ذریعہ یہ واضح کر دیا تھا کہ کراچی طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ یہ رپورٹیں بھی شائع ہوئیں کہ کراچی کے کچھ علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے ، جہاں حکومت کی عمل داری نہیں ہے ۔ ان علاقوں میں طالبان اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور بقول الطاف حسین اپنی خود ساختہ شریعت کے مطابق لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں ۔ یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ ان علاقوں میں انتہا پسند گروہوں نے پولیس کو بھی بھتے کی پرچیاں ارسال کی ہیں ۔ 2008ء میں جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ کراچی میں طالبان اور دیگر انتہا پسند گروہوں کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے تو اس وقت کسی نے اس بات پر یقین نہیں کیا تھا ۔ اب خود وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ یہ کہتے ہیں کہ کراچی کی بد امنی میں سب سے زیادہ یہی انتہا پسند گروہ ملوث ہیں ، جن کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے ۔ سندھ پولیس کے افسران بھی اب اس کھلی حقیقت کا پریس کانفرنسوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ کراچی کے امن کو سب سے زیادہ طالبان اور دیگر انتہا پسند گروپوں سے خطرہ ہے ۔ ایسے حالات میں جب انتہا پسند گروہ کراچی پر اپنا قبضہ مضبوط کرچکے ہیں اور ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو نشانہ بھی بنا چکے ہیں، فوج سے یکجہتی کے اظہار کے لئے جلسہ عام کا انعقاد ایم کیو ایم کی قیادت کی پاکستان سے کمٹ منٹ اور جرأت مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں جو کام نہیں کرسکی ہیں، وہ ایم کیو ایم نے اس لئے کر دکھایا ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے زیادہ مضبوط اور منظم جماعت ہے ، جس کا اپنے کارکنوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ اعتماد کا بہت گہرا رشتہ ہے ۔اس جماعت کے کارکن وہ کام کرکے دکھا دیتے ہیں ، جو کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب میں جو امدادی کام کئے ہیں ، ان پر دنیا حیران ہے ۔ ایم کیو ایم کے کارکن کسی بھی قدرتی آفت اور قومی بحران میں ایک منظم اور پر عزم ہراول دستے کے طور پر کام کرتے ہیں ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سردار نبیل گبول کا کہنا ہے کہ اسی نظم و ضبط اور جذبے سے متاثر ہو کر انہوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور ایم کیو ایم نے بھی ان کی حیثیت اور سیاسی اثر ورسوخ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو جائزمقام دیا۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور رہنماؤں کا اپنی پارٹی کے ساتھ اعتماد کا جو رشتہ ہے ، وہ اس جماعت کی سیاسی طاقت کا بنیادی ماخذ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ایسے حالات میں میدان میں کھڑی ہے اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف کسی مصلحت کا شکار نہیں ہے ۔