’’میں 50سال کی عمر میں کیسا ہو جاؤں گا اگر قدرت نے مجھے زندہ رکھا جبکہ 25 سال کی عمر میں ہی میں دنیا کو اس قدر تلخ پاتا ہوں " برطانوی شاعر لارڈ ایلفریڈ ٹینی سن کے یہ الفاظ اس شخص نے اپنی سب سے پیاری بیٹی کے نام خط میں دہرائے جسے51سال کی عمر میں سزائے موت دے دی گئی۔جیل کی کال کوٹھڑی سے لکھا گیا یہ خط شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مطالعے اور یادداشت کا ایک خوبصورت شہ پارہ ہے گزرے زمانوں کی عالمی سیاست اور آنیوالے برسوں کے علاقائی اور بین الاقوامی مناظر کی سرگوشیاں بھی ہیں اور خبرداریاں بھی۔ میں تو پاکستان پیپلز پارٹی کے جوان سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بارہا کالموں میں مشورہ دے چکا ہوں کہ وہ اپنے نانا کی بے شمار کتابوں، تقریروں کو پڑھیں نہ پڑھیں اپنی والدہ کے نام 21 جون 1978 کو لکھے خط کا ضرور مطالعہ کریں۔ ایک صحافی کی یہ خوش نصیبی ہوتی ہے کہ اسے اپنے وقت کی مقبول اور کامیاب شخصیتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔اور یہ اتفاق بھی اس لیے ہوا کہ اپریل 1970 کی مشرقی اور مغربی پاکستان کی اخبار نویسوں کی ہڑتال میں مغربی پاکستان کے 200 صحافیوں کو برطرف کر دیا گیا تھا ان میں میں بھی شامل تھا۔9دن اخبارات شائع نہیں ہوئے تھے۔ پھر دائیں بازو کے صحافیوں نے ہڑتال توڑنے اور کام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا اس طرح مطالبات منظور ہوئے بغیر ہی ہڑتال ختم ہو گئی۔ اس بے روزگاری کے زمانے میں منہاج برنا، ابراہیم جلیس، شوکت صدیقی، احمد ندیم قاسمی اور فاروق پراچہ کے ساتھ میں بھی ارشاد راؤ کے ہفت روزہ الفتح کے کارواں میں شامل ہو گیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی بائیں بازو کے صحافیوں کی حمایت کر رہی تھی اور اس کا وعدہ تھا کہ وہ برسر اقتدارآکر صحافیوں کو بحال کروائے گی، یہ وعدہ اس نے اپریل1972میں پورا بھی کیا، اپریل1970ء سےاپریل 1972ء تک دو سال پاکستان کی سیاست کے بلکہ دنیا کی سیاست کے بہت ہی اہم مگر خطرناک سال تھے۔ماؤزے تنگ ،شہنشاہ ایران، اندرا گاندھی ،جمال ناصر ،شاہ فیصل ،سوئکارنو ،نکسن کوسیجن ،بن باللہ بو مدین، قذافی کیا کیا شخصیتیں سیاسی منظر نامے پر تھیں ۔آپ کو یقینا ً ہمارے ساتھ ہمدردی ہوگی کہ ہمیں کتنے باوقار روشن خیال لیڈروں سے گفت و شنید کا موقع ملتا تھا اور اب مودی ٹرمپ جیسے لاا بالی طبیعت کے لوگ اور اپنے ملک میں ایسے ایسے رہبر جو کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرتے ۔اپریل کا مہینہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی 51 سال کی عمر میں شہادت کی یاد دلانے آ جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی تدبر کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 1957ءمیں مکمل پاکستان کے افق پر چمکنے والے اس ستارے کو تاریخ نے بہت بلند مقام دیا وہ چار اپریل 1979ءتک ایک زندہ فرد کی حیثیت سے سیاست پر چھائے رہے پھر اس کے بعد اب تک ان کا سیاسی سورج غروب نہیں ہوا ۔ بھٹو کے نام پر اب تک ووٹ مل رہے ہیں۔ اگرچہ ان قائدین میں بھٹو والی کوئی بات نہیں۔یہ بھی تاریخ نے ثابت کیا کہ 1971ءکے بعد ذوالفقار علی بھٹو پہلے اور آخری سویلین لیڈر تھے جنہیں مکمل اقتدار منتقل ہوا تھا۔ 1971 ءمیں ملک کسی آئین کے تحت نہیں بلکہ ایک لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت چل رہا تھا اس لیے 20 دسمبر کو اس وقت کے صدر اور کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کے پاس جتنے بھی عہدے تھے وہ ذوالفقار علی بھٹو کےحوالے کرنے پڑے تھے۔ صدر چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر کمانڈر ان چیف۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ ملک کو ایک متفقہ آئین دینے کیلئے بھٹو صاحب نے اپنے سخت ترین مخالفین خان عبدالولی خان، مفتی محمود، شیر باز مزاری، غوث بخش بزنجو سے ملاقاتیں کر کے پہلے ایک عبوری آئین اورپھر ایک مستقل آئین منظور کروایا ۔
متفقہ منظوری ہی ہےکہ اس آئین کو اب تک بقا ملی ہوئی ہے اگرچہ یہ زخم زخم ہے۔ 27ترامیم ہو چکی ہیں ۔28ویں کی تیاری ہے ۔خود بدلتے نہیں آئین بدل دیتے ہیں ۔اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور 1974ءنے مسلم دنیا کو ایک نئی زندگی اور طاقت دی جب پٹرول کو اقتصادی اور عسکری ہتھیار بنایا گیا ۔مشرقِ وسطیٰ اس وقت بھی امریکہ کے زیر عتاب تھا اسرائیل کو امریکہ کی سرپرستی ان دنوں بھی آج کی طرح ہی حاصل تھی۔ اکیس جون 1978ءکے خط میں ایک قیدی کا وژن دیکھیے۔"تیل پیدا کرنے والے ممالک کو فوری خطرہ پڑوسی ممالک کی فوجی جنتاؤں کی مہم جوئی سے ہے۔فوجی جنتاؤں سے میری مراد مطلب پرست جنرلوں کی فوجی حکومت ہے ترقی پسند پارٹی ڈکٹیٹر شپ نہیں ۔ جس میں فوج انقلاب کی ایک منظم اور ماتحت تلوار کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے سیاسی عزائم رکھنے والے جنرل پڑوسی ممالک کے جنرلوں کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ایک خطرہ تو یہ ہے دوسرا خطرہ اسرائیل کی جانب سے اچانک فوجی کارروائی ہےتاکہ وہ مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت پر قابض ہو سکے ۔اس امکان کو نظر انداز نہ کیجئے ۔جس قدر زیادہ ضدی اور ہٹ دھرم اسرائیلی وزیراعظم ہوتا ہے اسی قدر یہ خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے" ....ایسا لیڈر جسکی جڑیں عوام میں ہوں تازہ ترین کتابوں کا مطالعہ کرتا ہو وہ حالات کا صحیح اندازہ لگا سکتا ہے۔ کیا نیتن یاہو ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہے۔ سیاست اور عوام کی قربت کیلئے انہوں نے اپنی بیٹی کو لکھا کہ"اللہ تعالی کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے لیکن سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے" ۔وہ اپنی زمین کی خوشبو سے واقف تھے ان کا کہنا یہی تھا کہ آپ زمین کا دفاع نہیں کر سکتے جب تک آپ زمین کی خوشبو سے واقف نہ ہوں۔ اگست 1971 میں جب روس اور بھارت کا دفاعی معاہدہ ہواوہ ایک آپریشن کیلئے کراچی ہسپتال میں داخل تھے۔ ان کا فوری رد عمل یہ تھا کہ اب بھارت پاکستان پر ضرورحملہ کرے گا اگر جنگ ہی ہونی ہے تو ہونے دیں۔ سندھ اور گنگا کے پانیوں کے رنگ بر صغیر کی تقدیر بدل دیں گے۔ ہر جنگ کے بعد قومیں آزاد ہوتی ہیں ۔پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپ کے ملک آزاد ہوئے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد افریقہ اور ایشیا کے ممالک کو آزادی میسرآئی....جون 1970 میں کئی اسلامی ملکوں کے طوفانی دورے کیے آخر میں ہم ابوظہبی کے محل میں سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو ملٹری سیکرٹری جنرل امتیاز نے کہا کہ وزیراعظم آپ کو بلا رہے ہیں۔ چلتے چلتے بات ہوئی کہا کہ میں اسلامی ملکوں میں ایک دفاعی معاہدے کیلئے بات کر رہا ہوں۔ پاکستان واپسی پر تفصیلی بات کریں گے۔ پھر پانچ جولائی آگئی ۔سب کچھ بدل گیا۔ اسلامی ملکوں میں نیٹو کی طرز پر معاہدے کی بات آگے نہ بڑھی ۔اپنی بات ایک فرانسیسی اخبار کو 1972 میں دیے گئے بھٹو صاحب کے انٹرویو کے اس تاریخی جملے پر ختم کرتا ہوں۔ میں ہسٹری/ تاریخ کے بجائے ملٹری کے ہاتھوں تباہ ہونا پسند کروں گا...