دہائیوں قبل قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا: ”زمین پر کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی“ بعد ازاں متعدد سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے اسی طرح کے بیانات دیئے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے ”پاکستان کو اسلامی دنیا کی قیادت کی نوید سنائی تھی“۔ حضرت صوفی ابو انیس برکت علی نے فرمایا تھا: ”دنیا کی ہاں اور ناں کے فیصلے پاکستان میں ہوا کریں گے“۔
یہ باتیں اس وقت تو شائد خواب تھیں، مگر آج حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستان اللہ اور رسولﷺ کے نام پر لازوال قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا تھا۔ ان شاءاللہ قیامت تک قائم و دائم رہے گا۔ سقوطِ ڈھاکہ کا غم بھی اب بنگلہ دیش سے دوستی کی خوشی میں ختم ہو گیا۔ گزشتہ برس افواجِ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو شرمناک شکست ہوئی۔ دنیا میں ہماری عزت، مقام ،وقار اور اختیار میں بے پایاں اضافہ ہوا اور یہ فوجی فتح دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اس کا سہرا تربیت یافتہ ،بہادر، جرات مند اورشوقِ شہادت سے معمور بری فوج ،تجربہ کار، فتح مند، جان پر کھیلنے والی فضائیہ اور دانش مند، حربی اطوار، ٹیکنالوجی سے بھرپوربحریہ کو جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر فوجی قیادت اور حافظِ قرآن سی ڈی سی سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
امریکہ، ایران، اسرائیل اور خلیجی قضیہ میں پاکستان ایک اہم بنیادی اور قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ عالمی سطح پر سیاسی کے ساتھ ساتھ معاشی تغیر و تبدیلی ظہور پذیر ہو رہی ہے۔موجودہ حالات نے خلیج میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کے اذہان میں ایک اضطراب اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔غیر مستحکم حالات، معاشی طلاطم، جغرافیائی ردوبدل نے انہیں اس امر پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنی سرمایہ کاری کو خلیجی ممالک کے بجائے کسی اور ملک میں لے جائیں، جہاں ان کا سرمایہ محفوظ ہو اور وہ بلاخوف کاروبار کر سکیں۔
مذکورہ بالا حالات پاکستان کے لئے ایک نادر موقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ سوال جواب طلب ہے کہ کیا ہماری ملکی قیادت اور حکومت اس موقع کی نزاکت و اہمیت کا ادراک رکھتے ہوئے بروقت اقدامات ، تدبر اور دانش کا مظاہرہ کرے گی۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو واپس پاکستان لے آئے گی یا حسب سابق تساہل اور تذبذب کا شکار رہے گی۔
دنیا کی ابھرتی ہوئے معیشتوں خصوصاً ہانگ کانگ، سنگاپور، ملائیشیا نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بصیرت اور حکمتِ عملی سے بہ سرعت سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے۔نئے مالیاتی اور قانون ڈھانچے بنا کر اربوں ڈالر کا سرمایہ منتقل کیا ہے۔ چنددنوں میں سینکڑوں سرمایہ کار اربوں ڈالر لے کر ان ممالک کے منصوبوں اور سرمایہ کاری میں شریک ہوگئے ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز پاکستان میں تاحال کوئی جامع، شفاف اور قابل اعتماد حکمتِ عملی منظر عام پر نہیں آئی جو اوورسیز پاکستانی، سرمایہ کاروں کو راغب کر سکے۔
یہ امر تشویشناک ہے موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ اوورسیز پاکستانی جب اپنی رقوم وطن منتقل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو انہیں بیورو کریسی کی رعونت ،پیچیدہ قوانین و ضوابط، غیر شفاف مالیاتی نظام، کرپشن، سفارش اور جعلی احتساب سے خوف آتا ہے۔ یہ عوامل ہر سرمایہ کار کے عزم اور اعتماد کو متزلزل کر دیتے ہیں۔
اب موقع ہے کہ ہم بیرون ملک پاکستانی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں، انہیں سرمایہ کاری کی دعوت دیں۔ محدود المدت جامع ایمنسٹی سکیم کا اجراءناگزیر ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو بلا استفسار اپنی رقوم وطن منتقل کرنے کی اجازت دی جائے اور انہیں مکمل رازداری اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ کسی قسم کی پوچھ گچھ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ مزید براں سرمایہ کاری کے لئے ایک مربوط ،سہل، غیرمبہم اور شفاف فریم ورک کی تشکیل از حد ضروری ہے۔
پاکستان میں تعمیرات،رئیل اسٹیٹ، صنعت، سیاحت، سروسز (ہسپتال، ہوٹل، تعلیمی ادارے) کے شعبہ جات غیر معمولی استعداد کے حامل ہیں انہیں فروغ دیا جائے۔ بیورو کریسی اور ریڈ ٹیپ ازم سے نجات دلا کر ”ون ونڈو آپریشن“ کا قیام ضروری ہے جو اس جمودکو توڑ سکتا ہے، تمام اجازت نامے ،لائسنس، قانونی تقاضے، ٹیکس، ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت سرانجام دیئے جائیں۔ٹیکس مراعات، مالیاتی سہولتیں، ہمدردانہ رویہ اس عمل میں کلیدی قرار ادا کر سکتے ہیں۔
تحفظ سرمایہ کار کے اعتماد کی اساس ہے۔ ماضی میں عدم تسلسل، تغیرات اور سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کو بدظن کیا ہے۔ اب حکومت کو واضح ضمانت اور قانونی یقین دہانی کرانا ہوگی۔ بیرون ملک سرمایہ کاروں سے فعال اور موثر رابطہ اہم ہے۔ یہ اوورسیزپاکستانی جذبہ حب الوطنی اور جذبہ قربانی سے سرشار ہیں۔ اسی جذبے کو منظم حکمت عملی سے قومی مفاد میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ سفارت خانوں، اہم افراد، عالمی فورمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے براہ راست روابط اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔اب موقع ہے کہ ہم فائدہ اٹھائیں اگر ہم نے یہ اقدامات خلوص نیت، استقامت ، ایمانداری اور حب الوطنی سے کر دیئے تو زرمبادلہ آئے گا، ذخائر مستحکم ہوں گے، صنعتی و تجارتی تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، روزگار میں اضافہ ہوگا، معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہوگی۔
یہ امر تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ ایک معاشی موقع ہی نہیں بلکہ امتحان بھی ہے۔ جرات مندانہ اور دور اندیش فیصلوں سے ملکی معیشت کو بقاءملے گی۔آیئے ہم اپنے پاکستانی سرمایہ کاروں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہیں۔ سرمایہ کاری بڑھے، ملک مضبوط ہو، یہ پاکستان کی اقتصادی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب بن سکتا ہے۔ ان شاءاللہ دنیا بھر کے فیصلے پاکستان میںہوں گےوطن سے محبت ایمان کی پہچان ہے یہ جذبہ ہو تو ہر مشکل آسان ہے۔