امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اتنے ہتھیار اور عسکری وسائل موجود ہیں کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں ہونے والے شنگریلا دفاعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اسلحے کے ذخائر کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے کافی ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کسی بھی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہے تاہم ایرانی حکام نے کسی حتمی اتفاقِ رائے کی تصدیق نہیں کی۔
پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے خطاب میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں چین کی فوجی سرگرمیوں اور دفاعی توسیع پر جائز خدشات موجود ہیں تاہم امریکا غیر ضروری محاذ آرائی نہیں چاہتا۔
امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکا ایشیاء میں ایسا طاقت کا توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے جس میں کوئی بھی ملک بشمول چین، خطے پر اپنی بالادستی مسلط نہ کر سکے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے بیجنگ کے ساتھ احترام اور نیک نیتی پر مبنی تعلقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تاہم مستقبل میں اسلحے کی فروخت سے متعلق فیصلے امریکی صدر کی صوابدید پر ہوں گے۔