• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیوبا کا نام پہلی دفعہ 1962میں سننے میں آیا کہ جہاں سویت یونین نے میزائل نصب کئے تھے جہاں سے امریکی ریاست فلوریڈا کو بڑی آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ صدر کنیڈی نے سویت یونین کی حکومت یعنی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل مسٹر خروشیف کو 48گھنٹوں میں میزائل ہٹانے کی دھمکی دی اور خروشیف صاحب نے وہ میزائل ہٹا لئے۔نیوکلیر جنگ کا خطرہ ٹل گیا، بڑی امریکی فتح۔

اس وقت کا قائم کیا ہوا انٹیلی جینس سگنل کا نظام آج بھی موجود ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ اور روس کے تعلقات بہتر ہوگئے تھے اور اس نظام کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ مگر پچھلے برسوں میں، خصوصاً یوکرین کی جنگ کے آغاز کے ساتھ جاسوسی کا یہ نظام دوبارہ کام کرنے لگ گیا تھا۔ امریکہ ہوشیار ہوگیا اور اس نے کیوبا کو اسے بند کرنےکو کہا ورنہ پابندیوں کا سامناکرنے کی دھمکی دی گئی۔

ایسا ہی ایک انٹیلی جینس کا ایک نظام ہوانا سے20کلومیٹر دور چین نے بھی قائم کررکھا ہے ۔ کیوبا کو ان دونوں دوستوں کی اپنی زمین پر موجودگی نفع دے گی یا اس کی مصیبتوں میں اضافہ کرے گی ؟یہ دیکھنا باقی ہے۔

وینزویلا پر قبضے کے بعد مسٹر ٹرمپ کے لئے بالکل آسان ہوگیا کہ وہ کمیونسٹ کیوبا کوتیل کی ترسیل مکمل طور پر بند کردیں اور اسے تیل کے فاقے میں مبتلا کردیں۔ کیوبا اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے اور گھٹنے ٹیکنے کے قریب ہے۔ اب خبر ہے کہ روس کا ایک جہاز ساڑھے سات لاکھ بیرل تیل لےکر کیوبا کی جانب چلا ہے ۔ یہ تیل کیوبا ہی جارہا ہے یا کہیں اور۔

یہ بھی خطرہ ہے کہ اس جہاز کو حادثہ نہ پیش آجائے۔ بحفاظت پہنچ جائے تو سمجھئے امریکہ نے روس کے ساتھ سرد جنگ کا محاذ کھول دیا۔ تیل کی قلت ہر جگہ محسوس ہورہی ہے ۔فلپائن اور تھائی لینڈ سخت راشننگ کررہے ہیں اور پیٹرول پمپ پر لمبی لمبی لائنیں، دفتری کارکنوں کو گھر سے کام کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور وطن عزیز میں تو پرائمری اسکولوں تک کو آن لائن پڑھانے کوکہا جارہا ہے۔

بھلا پرائمری یا کچی پہلی یا پکی پہلی کے بچے اماؤں کی مدد کے بغیر لیپ ٹاپ پر گھنٹوں بیٹھے سبق پڑھیں گے ؟ چھوٹے بچوں کو جانے دیجئے، کالج اور یونی ورسٹی کے طلبا کی تو عید ہوگئی۔آن لائن پڑھانے کا تجربہ اساتذہ کو نہیں، جنہیں ہے وہ تن آسانی کا شکار ہیں ۔ آپ کو کچھ نہیں معلوم کہ آپ کی کلاس سے کون اٹھ کر چلا گیا اور کون بیٹھے بیٹھے سوگیا۔

جاپان نوے فیصددرآمد کئے گئے تیل سے زندگی رواں دواں رکھتا ہے۔ چین اپنی ضرورت کا پچھتر فیصد تیل اوپن مارکیٹ سے خریدتا ہے۔ اس کے دوسرے سپلائر ایران اور وینزویلا ہیں۔ ایک ملک پر قبضے کے بعد وہاں سے تیل آنا بند ہوگیا، دوسرا حالت جنگ میں ہے۔ بھارت کو اپنی صنعتوں کو چلانے کے لئے ضرورت کا پچاس فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے۔ بھارت کے سوویت یونین سے بڑے قریبی تعلقات تھے اور اب روس سے بھی گرمجوشی کا معاملہ ہے۔ 

روس تیل کا بہت بڑا سپلائر ہے اور ساتھ ہی دوستوں کو کم قیمت پر تیل مہیا کرتا ہے۔ یوکرین سے جنگ کی سزا میں روسی ایکسپورٹ پر بھی امریکا بہادر نے پابندی لگائی تھی لیکن اب پانسہ پلٹااور وہ روس کو کھلے عام تیل بیچنے کو کہہ رہے ہیں۔ تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی رسد کسی حد تک برقرار رہے اور قیمتیں مستحکم رہیں۔ پچھلے دنوں ٹرمپ صاحب بھارت کو ہدایت دے رہے تھے کہ روس سے تیل نہ خریدیں۔

اس طرح وہ روسی معیشت کو نقصان پہنچارہے تھے تاکہ یوکرین پر روس بڑھ چڑھ کر حملے نہ کرے۔ بھارت نہ مانا تو انہوں نے ٹیرف میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ بھارت کی خود مختاری زمین بوس ہوئی، اس نے روس کا تیل بند کیا، ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کی اور انہوں نے ایک مہینے کا تیل خریدنے کی اجازت دے دی۔

روس کی ایک پائپ لائن یورپی ممالک کو جرمنی کے راستے قدرتی گیس پہنچاتی تھی۔ یوکرین کی جنگ کے باعث مسٹر ٹرمپ یورپی ملکوں کو ورغلاتے رہے کہ آپ روسی گیس پر انحصار کم کریں اور متبادل ملکوں سے گیس امپورٹ کریں۔اب روسی پائپ لائن بحال ہورہی ہے۔

مڈل ایسٹ کے کچھ تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں کچھ نہر سوئزسے اور ایک تنگ راستے باب المندب سے جو بحیرہ احمر میں یمن کی سرحد پر واقع ہے ۔ ہرمز کا تنگ راستہ، جہاں ایران کا مکمل کنٹرول ہے، دشمن کے جہازوں کے لئے بند ہے، مگر دوست یا غیر جانبدار ریاستوں کے جہاز جاسکتے ہیں۔ 

باب المندب کھلا ہے ،مگرکب ایران کی حمایت میں یمن اسے بلاک کردے۔ خود ایران کو اپنا تیل بیچنا ہے کہ وہ جنگ کاہے سے لڑے گا۔ ایران کا سارے کا سارا تیل اس وقت صرف چین کو جارہا ہے کیونکہ اصل قلت کا سامنا چین کو ہے، جو ایران کا حلیف بھی ہے۔

پاکستان کو سفارتی کوششوں میں اپنے قد سے بڑھا ہوا کردار ادا کرتے دیکھ رہے ہیں۔ اس کی پشت پر چین ہے، جسے جنگ بندی کی جلدی ہے، ورنہ اس کے سارے ترقیاتی کام ، اے آئی ، بلکہ پوری صنعت مندی کا شکار ہوجائے گی اور ہورہی ہے۔ چین، جاپان اور بھارت، جو جنگ کے محاذوں سے بہت دور ہیں اور لاتعلق بھی، مگر توانائی کے بحران میں گھرے ہیں اور جتنی جلدی جنگ بند ہویا کم از کم شدت میں کمی آئے، ان کے لئے بہتر ہے۔ ٹرمپ کے لئے اس جنگ سے باہر نکلنے کا بہترین وقت ہے۔

ایران کی صف اول کی قیادت منہدم کرنے اور اس کے انفرا اسٹرکچرکو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے بعد جنگ کی دلدل سے نکل آنا سب سے بڑی عقل مندی ہوگی۔ مگر کیا ایسا ہوگا ؟ نہ ان کے بدمست مشیر انہیں نکلنے دیں گے نہ بڑے خلیجی ممالک جو سمجھتے ہیں کہ جنگ جاری رہے تاکہ ایران کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے ۔ مسٹر ٹرمپ مسلسل معاہدے اور مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایران مذاکرات کے لئے گڑگڑا رہا ہے۔ درحقیقت وہ خود دل کی گہرائیوں سے مذاکرات کے خواہشمند ہیں۔ لیکن نہ ایران جواب دے رہاہے نہ سعودی عرب تیار ہے۔ ٹرمپ کی کابینہ کرے تو کیا کریں۔

اب تک اس جنگ سے امریکہ کومالی نقصان پہنچا نہ جانی۔ تابوت ضرور آئے، مگر وہ بھی فرینڈلی فائر یا حادثے کے نتیجے میں۔ خلیج میں جو امریکی اڈے ایران نے تباہ کئے ہیں اس کی دوگنی تگنی ناجائز قیمت امریکہ پہلے ہی وصول کرچکا ہے اور جتنے اڈے تباہ ہوں، اتنا امریکہ کی چاندی ہے کہ ان کی دوبارہ تعمیر کا ٹھیکہ بھی اسے ہی ملے گا۔

جتنا امریکی اسلحہ جنگ میں برباد ہو، امریکہ کی وار انڈسٹری اتنا پھلے پھولے۔ گی آپ کہیں گے کہ مگر عرب ملکوں کا تو نقصان ہوا۔ مجھے اس کا بھی شبہ ہے کہ ان کے پاس ڈالر کے اتنے بڑے ڈھیر ہیں کہ جنگ ختم ہوتے ہی سو دوسو ارب ڈالر کے تھپے وہ یوں دیں گے جیسے ریزگاری ہو ۔ شاید مبالغے کا شکار ہوں، مگر حقیقت سے بہت دور نہیں۔

جنگ آخر جنگ ہے۔ مانتا ہوں کہ امریکہ کے بھی اخراجات ہوئےہوں گے، کچھ رقم ان کے اختیار میں تھی اور ایک بڑی رقم وہ کانگریس سے مانگ رہے ہیں۔ لیکن جو بھی جنگی اخراجات چار ہفتوں میں ہوئے ہیں وہ ہمارے یہاں سے تو بہت بڑی رقم ہے۔ مگرامریکہ کے لئے یہ کہنی کی چوٹ ہے، جب لگتی ہے تو چیخ نکل جاتی ہے ، مگر تھوڑی دیر میں آدمی بھول جاتا ہے۔ 

اس جنگ کے ختم ہوتے ہی امریکہ ایک نئی جنگ روس کے زیر اثر ممالک سے چھیڑ دے گا۔ وینزویلا پر قبضہ ہوچکا ہے، کیوبا گھٹنے ٹیک چکاہے اور وہاں امریکہ فرینڈلی حکومت دور نہیں۔ بھارت کی روسی تیل کی خریداری اور روس سے دوستانہ تعلقات میں وہ دراڑ ڈال سکتے ۔اب رہ گیاجنوبی کوریا جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور دوسرا چین۔

ٹرمپ جس مہم پر نکلے تھے، اس میں رجیم چینج بہانہ تھا۔ جوہری ہتھیار ختم کرنا دکھاوا تھا۔ اصل مقصد ایران کے تیل پر کنٹرول تھا۔ مگر امریکہ کے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں۔ وہ دس ملین بیرل روزانہ اپنی زمینوں سے نکالتا ہے اور سعودی عرب کی تیل کی پیداوارسے ٹکر لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے جس سے چین پریشان ہے کہ اوپن مارکیٹ سے خریدنا پڑتا ہے۔ جب تیل کی قلت ہوتی ہے تو امریکہ کے پاس اپنی ضرورت کا پورا تیل اس کے اپنے کنوؤں سے دستیاب ہوجاتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں قیمت بڑھنے سے امریکی عوام کو برھتی ہوئی قیمت دینا پڑتی ہے، لیکن امریکہ کا کوئی کام تیل کی قلت سے نہیں رکتا۔

اس کے برعکس تیل کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک چین ہے۔ یہ نہیں کہ اسے مہنگا تیل ملے گا بلکہ جس مقدار میں اسے چاہیے وہ اوپن مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کی مہم جوئی کا اصل ہدف ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، وہ کیسے ؟

آیت اللہ کو شہید کرنے سے پہلے وہ وینزویلا کے صدر کو اغوا کرکے اس کا تیل اپنے قبضے میں لے چکے تھے۔ انہوں نے فوری طور پر کمیونسٹ کیوبا اور نیم کمیونسٹ چین کو تیل بند کردیا۔ اب ایران کی جنگ نے چین کے گرد گھیرا تنگ کردیا۔ اب اس کے دوسپلائر رہ گئے، روس اور برازیل۔ 

عالمی بازار میں جب تیل کی قیمت بڑھی تو روس نے بھی اپنا تیل مہنگا کردیا۔ چین کو تیل روس سے پہنچ رہا ہے، مگر زیادہ قیمت پر۔ رہا برازیل تو ٹرمپ اس کا انتظام بھی کرنے کی سوچیں گے، ذرا ایران سے فارغ ہولیں۔

خارگ، ایران کا چھوٹا سا جزیرہ ہے، جہاں سیکڑوں کنووں کا تیل اسٹور ہوتا اور جہازوں سے خریدار ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اس وقت تو نوے فیصد پیداوار چین کو جارہی ہے جس سے اس کا کام لشتم پشتم چل رہا ہے۔ ٹرمپ بار بار دھمکی دیتے ہیں کہ وہ اس جزیرے پر اپنے فوجی اتار کر قبضہ کرلیں گے۔ 

آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے بھی وہ جنگی جہاز بھیجیں گے، جن میں سپاہیوں کو لڑنا پڑے گا۔یہ دھمکیاں ہیں۔ان پر عمل درآمد کی صورت میں بڑی تعداد میں تابوت پہنچیں گے۔ صدر ٹرمپ یہ نہیں چاہتے، اسی لئے انہیں جنگ ختم کرنے کی جلدی ہے۔

یہ اختیار اور اقتدار کی جنگ ہے۔ پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب نہیں، مگر پوری دنیا کو جھکا کر رکھنے کی خواہش۔ پہلے یہ کام انہوں نے ٹیرف کے زور پر کیا، جس ملک نے سر اُٹھایا اس پر دگنا ٹیرف اور جو دم دبا کر بیٹھ گیا اس پر ہلکا ٹیرف۔ساتھ ہی ان کی زبان مسلسل چلتی رہی۔

کینیڈا، امریکہ کی ریاست بن جائے تو کیسا عظیم ملک وجود میں آئے، ہمارا بارڈر آخر ایک لکیر ہی تو ہے کیوں نہ ہم اسے مٹادیں۔ یہ وہ تیکنیک ہے جو عظیم باکسر محمد علی کلے استعمال کرتے تھے۔ مخالف کو نفسیاتی دباو میں رکھو۔

گرین لینڈ کرہ ارض پر سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ ننانوے فیصد رقبہ بے آب و گیاہ اور آبادی کل ستاون ہزار۔ یہ درست ہے کہ حال ہی میں اہمیت پانے والی وہ ارتھ منرلز، یعنی نایاب اور نادر دھاتیں جوبرقی مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہیں اور الیکٹرک وہیکل سے لیکر اے آئی تک کی صنعت کا لازمی جزو ہیں، وہاں موجود ہیں۔

یہ خود مختار جزیرہ ڈنمارک کا حصہ ہے، مگر ٹرمپ کو چھیڑ چھاڑکرنا ضروری تھا،لہذا بولے کہ کیوں نہ امریکہ اسے خرید لے۔ آخر دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ہی اسے جرمن فوجوں سے چھڑایا تھا۔ پھر اسے ڈنمارک کو کیوں واپس دے دیا؟ خود رکھ لیتا۔ یہ مسٹر ٹرمپ کی بڑبڑاہٹ ہے جو کیا دوست کیا دشمن ، ہر ایک کو دباؤ میں رکھنے کے لئے وہ کرتے رہتے ہیں۔

پچھلا ورلڈ آرڈردو مرتبہ ڈھے چکا۔ پہلے نائن الیون کےبعد، دوسرے صدر مادورو کے اغوا کے بعد نیا ورلڈ آرڈرجوبے اصولی، اخلاقیات سے عاری اور جناب ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہشات پر مبنی ہوگا۔ ان کو نکیل ڈالنے کی روس میں ہمت نہیں اور چین کی خواہش نہیں۔ 

ٹرمپ دنیا کو بازیچہ اطفال بنائے رکھیں گے اور ہماری نظریں نئے منتخب امریکی صدر کو ڈھونڈتی رہیں گی۔ لیکن ٹرمپ کی تیسری غیرقانونی ٹرم کا خطرہ بھی سروں پر منڈلاتا رہے گا۔

عالمی منظر نامہ سے مزید