ٹرمپ اور یاہو کی مسلط کردہ جنگ کا نتیجہ ... مغرب کی قیادتیں ناکام ہو گئی ہیں۔ مشرق کی قیادت کے امکانات ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ ایشیا میں نئی سیاسی معاشی عسکری صف بندی جنم لے گی۔ ہمیں سوچنا ہے کہ پاکستان مغرب کیساتھ ہوگا یا مشرق کے۔ قیادت کا بحران صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں بے یقینی پیدا کر رہا ہے ٹویٹر سے حکومتیں نہیں چلائی جاسکتیں۔ مسخرے بڑی بڑی مملکتوں کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ امریکہ کبھی جمہوریت کا علمبردار ہوتا تھا اپنے فیصلے کانگریس اور ایوان نمائندگان کی باقاعدہ منظوری پر کرتا تھا۔ اب مقامی ہوں یا عالمی ادارے ان سب سے امریکی انتظامیہ ماورا ہو گئی ہے۔ 3ہزار امریکی شہروں میں نعرے لگ رہے ہیں ۔بادشاہ نہیں چاہئے۔ ٹرمپ خود بھی اپنے آپ کو بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں۔ ایک روز آرمی چیف کو برطرف کیا جاتا ہے دوسرے روز اٹارنی جنرل خاتون کو ۔بادشاہ ہیں بادشاہوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔ عوام کے منتخب رہنماؤں کو پسند نہیں کرتے ۔
میں تو تاریخ کا طالبعلم ہوں اسلئے بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ اگر کہیں بھی دنیا میں ذمہ دار حکمران ہوتے، نظریاتی قیادت ہوتی۔ اول تو امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوتے۔ جنگ چھڑتی ہی نہیں اور اگر شروع ہو بھی جاتی تو اتنا طول نہ پکڑتی۔ عالمی ماہرین حیران ہیں کہ اس جنگ کی حکمت عملی کیا تھی۔ ایران سے یہود و نصاریٰ خوفزدہ کیوں تھے اور ہیں۔ جنگ مصنوعی ذہانت سے لڑی جا رہی ہے جب ذہانت مصنوعی ہوگی تو مصنوعی قیادت کو ہی جنم دیگی۔ مصنوعی قیادتیں اکثریت کا احترام نہیں کرتی ہیں اس لیے جنگ کا سارا بوجھ عوام کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ جیسے مارکیٹوں میں دکاندار ساری مہنگائی گاہک کے سر پر ڈال دیتے ہیں۔ دارالحکومتوں میں بیٹھے سربراہ بھی دکاندار ہی تو ہیں۔ پاکستان میں پٹرول ڈیزل کا خرچہ جیسے اکثریت کے سر پر ڈال دیا گیا ہے جس میں 47 فیصد ویسے ہی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ سب چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے سے چار سے پانچ ارب روپے حکومت کو روزانہ اضافی آمدنی ہوگی۔ یہ تو ماہرین معیشت ہی بتائیں گے کہ حکومت کا روزانہ خرچہ کتنا ہے۔ غریب پاکستانیوں پر یہ سنگین ظلم ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے سرمایہ دار، جاگیردار اور سردار حکمرانوں کو اپنے ہموطنوں کی اکثریت سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ فیصلے سے اگلے دن وزرائے اعلیٰ مختلف اسکیموں سے غریب نوجوانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو صرف اشک شوئی ہے۔ کیونکہ پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ساری ضروری اشیاء کے نرخ بڑھ گئے ہیں عام پاکستانیوں کی آمدنی وہی ہے۔ حکومت تاجروں کی من مانی روک نہیں سکتی کیونکہ حکومت بھی تاجروں ہی کی ہے۔
امریکی صدر کی جمعرات کی صبح کی تقریر سے ساری اسٹاک ایکسچینج بیٹھ گئیں، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ وائٹ ہاؤس نے دنیا سے کبھی اتنی دشمنی اختیار نہیں کی تھی۔ کھل کر کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ جنگ بندی کرنا چاہتے تھے۔ انہیں مشورہ بھی یہی دیا گیا تھا مگر اسرائیل نے روک دیا۔ ٹرمپ اور اسرائیل میں کیا ڈیل ہوئی ہے۔ سودا کتنے میں ہوچکا ہے یہ بعد میں سامنے آئیگا۔ امریکی ووٹر پریشان ہیں کہ انہوں نے قصر سفید میں کس کو بٹھا دیا۔ نومبر میں امریکی اداروں کے الیکشن ہیں۔ جائزے ٹرمپ کی پارٹی کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی طرح نیتن یاہو اکتوبر 2026ء میں الیکشن نہیں جیت سکیں گے۔ انہوں نے اپنا بجٹ تو منظور کروالیا ہے مگر صرف سات ووٹ کے فرق سے۔ اب وہ اکتوبر تک وزیر اعظم ہیں۔ ایران میں کوئی فوری الیکشنز کے امکانات نہیں ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے مصنوعی حکومتوں کو جنم دیا، مصنوعی معیشت مصنوعی تجارت مصنوعی ریاستیں اور اس میں مصنوعی حکمران جن کی ڈوریں کہاں کہاں سے ہلائی جاتی ہیں۔ اب جو مثبت اور منفی رحجانات اس مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں رونما ہونیوالے ہیں میرے ناقص خیال میں یوں بن رہے ہیں۔(1)امریکہ اور یورپ میں فاصلے بڑھ گئے ہیں برطانیہ اسپین فرانس نے جنگ کا حصہ بننے سے قطعی انکار کیا ہے۔ (2) یورپی ممالک کھل کر اسرائیل کی مذمت تو نہیں کر رہے ہیں لیکن یورپ کے عوام اس جنگ کا اصل ذمہ دار اسرائیل کو ہی سمجھتے ہیں۔(3) امریکا میں صدر کے مواخذے کی تحریک زورپکڑے گی مگر اس کیلئے تین نومبر 2026ء تک ایوان نمائندگان کے انتخابی نتائج کا انتظار کرنا پڑیگا اب تک کے جائزےڈیموکریٹک کے حق میں ہیں۔(4) اقوام متحدہ اور اس کے ادارے اپنے بے دست و پا ہونے کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ (5) چین اور روس اگرچہ جنگ سے باہر ہیں لیکن اس جنگ کے مثبت ثمرات ان کا ہی مقدر ہیں۔ وہ مئی میں کھل کر اپنے راستے اختیار کریں گے اور اپنے اتحادیوں کا انتخاب کرینگے۔(6) پاکستان کا 2026/ 2027 ءکا بجٹ مرتب ہو رہا ہے جنگ کے نتیجے میں خوفناک ٹیکس لگ سکتے ہیں۔قرضوں کا بوجھ بڑھے گا ۔برآمدات کم ہو گئی ہیں۔ آمدنی کے وسائل محدود ہو رہے ہیں۔(7) اب متبادل توانائی کیلئے بھی ٹیکنیکل کوششیں زیادہ تیزی سے شروع ہونگی۔(8) چین نے پاکستان کو افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے کو کہا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے اب امریکہ کا نہیں چین کا حکم چلنے کا زیادہ امکان ہے۔ (9) روس اور چین ایشیا میں نئی صف بندی کر سکتے ہیں۔(10) اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی اپنی طبعی موت تو مر چکی ہے اس کو بحال کرنے کی کوئی کوششیں نظر نہیں آرہی ہیں۔(11) ان دنوں خلیج کوآپریٹو کونسل زیادہ سرگرم رہی ہے۔ مستقبل میں اپنے سیکورٹی کے امور طے کرنے کیلئے یہ ممالک اپنی دفاعی فوج تیار کر سکتے ہیں۔(12) امریکہ نیٹو سے باہر نکل سکتا ہے لیکن پھر نیٹو کا وجود امریکہ کے بغیر بے معنی اور کمزور ہوگا۔
28 فروری 2026ءسے شروع ہونے والی اس جنگ کے کشتگان میں سر فہرست جمہوری ادارے ہیں۔ غیر جمہوری اداروں کو فروغ ملا ہے ۔جمہوری اداروں کو نظر انداز کر کے سربراہان مملکت نے فیصلے کیے ہیں ۔دوسری ہلاکت معیشت کی ہوئی ہے جو اب انتہائی علاج کے مرحلے میں ہے۔ تیسری ہلاکت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کی ہوئی ہے۔ دسمبر 2026 یا جنوری 2027 میں جب نئے سیاسی بلاک وجود میں آئیں گے تو نئے عسکری اتحاد نئے ٹیکنالوجی اشتراک اور نئے اقتصادی معاہدے بھی ہو سکتے ہیں۔ حکومتی ادارے، عالمی ادارے غیر موثر ہو گئے ہیں۔ اسلئے اب تعلیمی اداروں کی اہمیت بڑھے گی۔ نئی نسل کسی بھی ملک کی ہو ان کے درمیان سوشل میڈیا پر روابط مستحکم ہوں گے۔ نوجوانوں کی سرحدوںسے ماورا نئی تنظیمیں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ مغرب میں قیادتیں اور حکمران عوام میں اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ اب عالم مشرق کیلئے بہت قوی امکانات ہیں۔ ایران کی مزاحمت اسے قائدانہ کردار دے رہی ہے۔ اگر ایشیا کی قیادتیں اپنے عوام پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے فیصلے کریں تو نئےایشیائی اتحادی ادارے مغرب پر سبقت حاصل کر سکتے ہیں۔