• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت ہے کہ زندہ قوموں کو دنیا میں باوقار مقام دلانے کے لیے مضبوط، باصلاحیت اور دوراندیش قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نصف صدی قبل ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے ہی عالمی مسلم رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے، جب 1973 میں تیل بحران نے عالمی سیاست اور معیشت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔اسی پس منظر میں 22 سے 24 فروری 1974 تک لاہور میں مسلم دنیا کے 38 سربراہان کی ایک تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کی میزبانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کی، جنہوں نے مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اتحاد کی ایک نئی مثال قائم کی۔

یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب 1973 عرب اسرائیل جنگ کےاثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے تھے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کے حامی مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی محدود کر دی، جس سے امریکہ اور یورپ شدید دباؤ میں آ گئے۔ اسی تناظر میں ’تیل بطور ہتھیار‘ کا تصور ایک مؤثر سیاسی اور معاشی حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا، جس نے مغربی طاقتوں کو پہلی بار اسلامی دنیا کی اجتماعی قوت کا احساس دلایا۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں مسلم اتحاد کو فروغ دینے، فلسطین کی آزادی کی مکمل حمایت کرنے،اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ تسلیم کرنے جیسے اہم فیصلے شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کو مضبوط بنانے اور نوآبادیاتی نظام کی مخالفت پر بھی زور دیا گیا۔اس کانفرنس کے بعد مغربی دنیا نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بااثر اور طاقتور مسلم رہنما کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔’تیل بطور ہتھیار‘ کا نعرہ صرف ایک معاشی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام تھا کہ اگر مسلم دنیا متحد ہو جائے تو وہ عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتی ہے۔

نصف صدی بعد، موجودہ عالمی حالات ایک بار پھر اسی نوعیت کے چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، غزہ کی صورتحال، اور بڑی عالمی طاقتوں کی مداخلت نے خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس تناظر میں توانائی کے وسائل، خصوصاً تیل اور گیس، ایک بار پھر عالمی سیاست میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔موجودہ حالات میں جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سائبر وار، معاشی پابندیوں، اطلاعاتی جنگ اور سفارتی محاذوں تک وسعت اختیار کر لی ہے۔ بڑی طاقتیں براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے پراکسی جنگوں اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔یہاں سفارت کاری کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ جدید دور میں کامیاب قومیں وہی ہیں جو صرف عسکری طاقت پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ سفارتی مہارت، اقتصادی حکمت عملی اور عالمی اتحادوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ چین، روس، امریکہ اور یورپی یونین جیسے عالمی کھلاڑی اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی نظام پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

مسلم دنیا کیلئے یہ ایک اہم موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر وہ 1974کی اسلامی سربراہی کانفرنس جذبے کو دوبارہ زندہ کرے تو وہ عالمی سیاست میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ باہمی اختلافات کو کم کیا جائے، مشترکہ اقتصادی بلاک تشکیل دیا جائے، اور توانائی کے وسائل کو اجتماعی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے۔

پاکستان اس تناظر میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اس کی حیثیت ایک پل کی ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت، بشمول صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اور عسکری قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مسلم دنیا کو اتحاد اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔

آج کی دنیا میں ’’تیل بطور ہتھیار‘‘ کا تصور ایک نئی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب یہ صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ گیس، تجارتی راستوں، ڈیجیٹل معیشت اور مالیاتی نظام تک پھیل چکا ہے۔ جو ممالک ان وسائل پر کنٹرول رکھتے ہیں، وہی عالمی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ 1974کی لاہور کانفرنس صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اور وژن تھا۔ آج کے حالات میں اس وژن کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ اگر مسلم دنیا اس سے سبق حاصل کرے اور اتحاد، حکمت عملی اور مؤثر سفارت کاری کو اپنائے تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مضبوط مقام بھی حاصل کر سکتی ہے۔

تازہ ترین