• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدھ کی رات بہت خطرات تھے ۔نیند بہت دور تھی امریکہ نے ایران کے ۔متعدد شہروں پر بمباری شروع کردی تھی کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے امریکہ اور ایران سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ امریکہ سے ایران کی تہذیب مٹانے کی یلغاردو ہفتے کیلئے روکنے کی درخواست کی گئی ابھی تک کی اطلاع یہ ہےکہ امریکہ اور ایران دونوں نے اپیل مان لی ہے۔ دنیا نے ضرور اطمینان کا سانس لیا ہوگا۔ لیکن جس طرح 40 روز سے امریکہ اور اسرائیل کے تابڑ توڑ حملے پورے ایران پر جاری ہیں ۔دیکھنا ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی چنگیزیت میں وقفہ کرتے ہیں یا نہیں۔اخلاقی طور پر ایران کو فتح حاصل ہو چکی ہے پوری دنیا ایران کو مظلوم تسلیم کر رہی ہے اور امریکہ کو اس وقت خدا یاد آ رہا ہے۔"تنگ جب آئے بتوں سے تو خدا یاد آیا"...امریکہ جب یورپ کے اتحادیوں کے جوابات سے تنگ آیا تو اسے خدا یاد اگیا ۔امریکی جنگجو وزیر دفاع ہیگستھ کہتے ہیں،خدا ایران کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت کر رہا ہے کیونکہ خدا اچھا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ خلق خدا کا خیال رکھا جائے۔امریکنوں کوویت نام ، افغانستان مختلف جنگوں میں انکے اندر کا مجرم بارہا خبردار کرتا رہتا ہے۔ایران امریکہ اسرائیل کی چنگیزیت مسلسل بمباری کے سامنے اکیلا ڈٹا ہوا ہے۔ اس کے بعض مسلمان پڑوسی تو گو مگو کے عالم میں ہیں۔ امریکی فوجی اڈوں والے عرب مسلم ممالک ایران کی فوجی کارروائیوں کا ہدف ہیں اس لیے وہ امریکہ اسرائیل کی صف میں ہیں۔اسلامی ملکوں کی تنظیم لمبی نیند سو رہی ہے یا شاید اسکے نزدیک ایران اسلامی ملک نہیں ہے۔ غیر مسلم ممالک تو ایران سے ویسے ہی خوفزدہ رہتے ہیں۔ کوئی بھی ملک آگے بڑھ کر امریکا اسرائیل کا ہاتھ نہیں روک رہا ۔ حالانکہ یہ صرف ایران پر حملہ نہیں ، عالمی امن کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ہر ملک کی معیشت دگرگوں ہو رہی ہے۔ اگر امریکہ اسرائیل ایران پر حملے نہ کرتے تو ایران بھی اسرائیل پر یلغار نہ کرتا اور نہ ہی وہ خلیجی ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا تا۔ مسئلے کا حل صرف اور صرف امریکہ اور اسرائیل کے دست سفاک کو روکنا ہے۔ پاکستان ایران دیوار بہ دیوار ہمسائے ہیں ایک رشتہ تو دین اسلام کا ہے ہی۔ دوسرا رشتہ زبان کا ہے ۔فارسی ہمارے برصغیر میں سرکاری زبان بھی رہی ہے اب بھی بہت سی فارسی اصطلاحات سرکاری دفاتر میں رائج ہیں ۔ 1965 ءاور 1971ءکی جنگ کے دوران ایران نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اب جب ایران انتہائی مشکل میں ہے تو پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت عوام یونیورسٹیوں ادیبوں شاعروں سب سے ایران کی معاونت کی توقع کی جاتی ہے۔ پاکستان نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی کا جو فریضہ سنبھالاوہ بہت خوش آئند ہے مگر صورت حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم صرف پوسٹ مین کا کردار ادا نہ کریں ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ایران کا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے ایٹم بم ابھی تک نہیں بنایا جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایٹم بم بنا چکے ہیں اور امریکہ تو ایٹم بم گرانے کا ہولناک تجربہ بھی کر چکا ہے۔ امریکہ اس لیے لائق مواخذہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسرائیل کی فوجی طاقت بڑھاتا رہا ہے اسرائیل کے خلاف سیکیورٹی کونسل میں ہر اہم قرارداد کو ویٹو کرتا رہا ہے اب دو سال سے تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے غزہ میں جنگی جرائم میں امریکی صدر ٹرمپ برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے بھی پاکستان کو اس جارحیت میں ثالثی بہت ہی محتاط ہو کر کرنا ہوگی ۔ اس وقت پاکستان میں رائے عامہ امریکہ اور اسرائیل سے سخت نفرت کا اظہار کر رہی ہے ۔سوشل میڈیا کی سکرینیں اس کی گواہ ہیں ۔اس لیے کسی موڑ پر بھی ہماری قیادت کی طرف سے اگر امریکہ نوازی کا مظاہرہ ہوا تو پاکستانی رائے عامہ اسے مسترد کر دے گی ۔ پاکستانی اس وقت اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔ حملہ آوروں کی واضح طور پر مذمت کی جا رہی ہے۔ مگر ہماری بڑی قومی سیاسی جماعتیں بالکل خاموش ہیں۔ ہمارے پڑوس میں قیامت کی راتیں گزر رہی ہیں ۔خلیجی ریاستیں، جہاں ہمارے لاکھوں ہم وطن بہ سلسلہ معاش مقیم ہیں ،وہ خطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ جنگ چھڑے 40 دن گزر چکے ہیں اقتصادی طور پر پاکستان کے عوام کو زبردست مشکلات کا سامناہے مگر ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہ چپ کاروزہ رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان تو جیل میں ہیں انہیں کسی سے ملنے جلنے نہیں دیا جا رہا انکی طرف سے کسی پالیسی بیان کا جاری نہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ مگر مسلم لیگ ن کے سربراہ ،تین بار وزیراعظم رہنے والے، ان سے تو ہر روز ہی قوم رہنمائی کی توقع کر رہی تھی لوگ روزانہ انکے کسی پالیسی بیان کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں یا اسرائیل کے یا ایران کے۔ سوچ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اتنے بڑے مظالم اور دنیا بدل دینے والی جنگ پر ایک حقیقی سیاستدان کیسے خاموش رہ سکتا ہے۔ مسلم لیگ نون نے ابھی تک اپنی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا بھی کوئی اجلاس اس سلسلے میں نہیں بلایا گیا اور نہ ہی کوئی پالیسی بیان جاری کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی، سینٹ اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ کے پی کے میں اس کی اپنی حکومت ہے۔ اس پارٹی نے بھی کسی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کے نزدیک اب بھی عمران کی رہائی اس عالمی تباہی سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس بحران میں سب سے بڑی ذمہ داری پی ٹی آئی کی اس لیے بھی ہے کہ عوام نے 1985 سے اب تک سیاسی اور غیر سیاسی حکمرانوں پر اپنے عدم اعتماد کا جو مظاہرہ کیا ان جماعتوں کی مخالفت میں سامنے صرف عمران خان تھا اس لیے وہ ان کی آرزوؤں کا پرچم بن گیا۔چنانچہ عوام نے عمران خان کا ساتھ دیا آٹھ فروری کو اس کو ووٹ بھی دیا۔ عمران خان کی حکمرانی کا زیادہ تجربہ نہیں ۔ 2018 سے 2022 تک کی حکومت کوئی مثالی نہیں تھی۔ پی ٹی آئی سے عوام کی ہمدردی کا جواب سیاسی طور پر پی ٹی آئی اب تک نہیں دے سکی۔ اس لیے تینوں پارٹیوں کی سیاسی عدم موجودگی دیکھ کر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان ایک غیر سیاسی ریاست ہو گیا ہے کیونکہ کسی عالمی سیاسی اقتصادی بحران پر کسی پارٹی کا مرکزی اجلاس نہیں ہو رہا۔اب جب یہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہورہے ہیں تو قومی سیاسی پارٹیوں کی اور بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے کارکنوں اور لیڈروں سے مشورہ کر کے حکومت پاکستان کی رہنمائی کریں۔

تازہ ترین