اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی نے اسرائیل کی سیاست اور حکمتِ عملی پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس تنازع میں سیاسی اور اسٹریٹجک طور پر کمزور دکھائی دے رہا ہے جبکہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط حیثیت میں سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب امریکا، اسرائیل اور خطے کے لیے جوہری یا میزائل خطرہ نہیں رہا تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان میں حزب اللّٰہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہو گی۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے جنگ بندی کو اسرائیل کی تاریخ کی بڑی سیاسی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کا حصہ ہی نہیں تھا اور حکومت اپنے اعلان کردہ تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
بائیں بازو کے رہنما اوفر کاسیف نے بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم زیادہ تر بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہیں، عوام سے نہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے مطابق جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے حالات پیدا کرنا تھا۔
نیتن یاہو کے اس بیان سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔
کنگز کالج لندن کے تجزیہ کار آہرون بریگمین کے مطابق ایران کی حکومت برقرار ہے، اس کا میزائل پروگرام دوبارہ بحال ہو سکتا ہے اور اس کے پاس 60 فیصد افزودہ 440 کلوگرام یورینیئم موجود ہے جو تقریباً 10 ایٹم بم بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدید حملوں، فضائی برتری کے نقصان اور اعلیٰ قیادت کی ہلاکتوں کے باوجود ایران حکمتِ عملی کے لحاظ سے فاتح بن کر ابھرا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے کو بھی جنگ کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی عوام میں حکومت کے حق میں حمایت میں اضافہ ہوا جبکہ اسرائیلی حملوں سے بعض اپوزیشن مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔
نیتن یاہو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے۔
سابق اسرائیلی سفارت کار آلون پنکاس کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہی تو اسرائیل نے عملی طور پر کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں کیا۔
بقول ان کے ایران نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے جبکہ اسرائیل کو اب ایک عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں متوقع امن مذاکرات میں اسرائیل کی شرکت غیر یقینی ہے جبکہ مستقبل میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا فیصلہ بھی انہی مذاکرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔