امریکا اور ایران کے درمیان 40 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پا گئی ہے جس کے تحت امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے روکیں گے جبکہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔
یہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں ممکن ہوئی، پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے امن اور استحکام کے لیے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
معاہدے کے مطابق امریکا 2 ہفتوں تک ایران پر تمام فوجی حملے روک دے گا، ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرے گا جبکہ اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا تھا جس میں اب کمی کی توقع ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجاویز میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت، آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی میں محدود گزرگاہ، ایران کے جوہری افزودگی پروگرام کو تسلیم کرنا، ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ، اقوامِ متحدہ اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی قراردادوں کا خاتمہ، خطے سے امریکی فوج کا انخلاء، جنگی نقصانات کا معاوضہ، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور معاہدے کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے جوہری ذخائر کا مسئلہ مکمل طور پر حل کیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں جمعے سے باضابطہ مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے جہاں اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تازہ صورتِ حال سے متعلق بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ 2 ہفتے مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی توانائی منڈی اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔