امریکی ڈیموکریٹس نے سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی پر سخت تنقید کی ہے جس کی وجہ پام بونڈی کا جیفری ایپسٹین سے متعلق کیس کی سماعت میں پیش ہونے سے انکار ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی نگراں کمیٹی کے مطابق پام بونڈی کو گزشتہ ماہ طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا تاکہ وہ جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری فائلز کی اشاعت پر وضاحت دیں۔
یہ فائلز ’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘ کے تحت جاری کی جانی تھیں۔
محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ بونڈی اب عہدے پر نہیں رہیں، اس لیے وہ گواہی نہیں دیں گی تاہم ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ عہدہ چھوڑنے سے قانونی ذمے داری ختم نہیں ہوتی۔
کانگریس رکن رابرٹ گارسیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر بونڈی پیش نہ ہوئیں تو اِنہیں کانگریس کی توہین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ رو کھنہ اور ریپبلکن نینسی میس نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عوام کو سچ جاننے کا حق ہے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا پہلے کیا کانگریس کو گمراہ کیا گیا تھا؟
ایک حالیہ سروے کے مطابق 56 فیصد امریکی شہری ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپسٹین فائلز سے متعلق پالیسی سے نالاں ہیں جبکہ 53 فیصد کا خیال ہے کہ حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین 2019ء میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا، وہ اس وقت ہیومن ٹریفکنگ کے الزامات کا سامنا کر رہا تھا، اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا تاہم یہ معاملہ آج بھی تنازعات کا شکار ہے۔