یوکرینی فوج کے مطابق مارچ میں روسی فوج کو جنگ میں ریکارڈ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کی بڑی وجہ یوکرین کے نئے ڈرون حملے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یوکرین کے حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ماہ 35,351 روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں سے 96 فیصد نقصان ڈرون حملوں کے ذریعے ہوا۔
یوکرین کے وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر حملے کا ویڈیو ثبوت موجود ہے، فروری کے مقابلے میں یہ شرح 29 فیصد زیادہ ہے جبکہ روسی افواج کی پیش قدمی سست ہوتی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شائع کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2026ء کے پہلے 3 ماہ میں روس نے ہر ایک اسکوائر کلو میٹر علاقے کے حصول کے لیے اوسطاً 316 فوجیوں کا نقصان اٹھایا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
دوسری جانب روس کو نئے فوجیوں کی بھرتی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
یوکرین کے مطابق روس روزانہ اوسطاً 940 فوجی بھرتی کر رہا ہے جبکہ ہدف 1,120 یومیہ تھا، جس سے سال کے آخر تک 65,000 فوجیوں کی کمی کا خدشہ ہے۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روسی فوج کو ماہانہ 50,000 تک نقصان پہنچانا ان کا اسٹریٹجک ہدف ہے تاکہ روسی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔
یوکرین کی فوج کے سربراہ اولیکساندر سرسکی کے مطابق مارچ میں 151,207 ڈرون حملے کیے گئے جو ایک نیا ریکارڈ ہے، یوکرین اب روزانہ تقریباً 11,000 ڈرون مشنز انجام دے رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین نے روسی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے جدید انٹرسیپٹر ڈرونز بھی تیار کیے ہیں جبکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل بھی جَلد تعینات کیے جانے کے قریب ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے حاصل کیا جانے والا علاقہ کم ہو رہا ہے اور یوکرین اب دفاعی میدان میں اسٹریٹجک برتری حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔