• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کل سے شروع اسلام آباد مذاکرات اس جنگ کے خاتمے کیلئے ہو رہے ہیں جو امریکہ اسرائیل کی طرف سے عمان میں ہونیوالے ایران امریکہ مذاکرات کے دوران ایران پر مسلط کی گئی۔ اس جنگ سے دو نمایاں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ امریکہ نے عالمی عسکری اور اقتصادی سربراہ کی حیثیت کھو دی ہے ۔ دوسری ہلاکت اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی ہوئی ہے۔40روز میں او آئی سی کہیں نظر نہیں آئی ۔اسرائیل فلسطین کے مظلوموں کا واحد حامی ایران کو سمجھتا ہے اور ایران کو ہی گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے ۔79سالہ ٹرمپ اسرائیل کے یرغمال ہیں۔ لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی 41سالہ نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں انہیں اپنا شاندار مستقبل بھی تعمیر کرنا ہے اور امریکہ کا بھی کہ وہ اسرائیل کا یرغمال نہ رہے۔ایران کے وفد کے سربراہ باقر غالب 64 سال کے ہیں، ثالث شہباز شریف 74 سال، اسحاق ڈار 75 سال ہمارے فیلڈ مارشل 57 سال کے۔ مذاکراتی ٹیموں میں کم عمر امریکی نائب صدر ہیں جو یقیناً جلد قائم مقام صدر بھی ہو سکتے ہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔دیر پا امن کی امیدیں ان کم عمروں سے ہی کی جا سکتی ہیں ۔دنیا بھر کی ہمدردیاں بلا خوف تردد ایران کے ساتھ ہیں جو ایک نئی ایشیائی مزاحمتی سپر طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

آج اتوار ہے لیکن پہلے 79 سال کے سب اتواروں سے بالکل مختلف۔ اس اتوار پاکستان دنیا بھر کے چینلوں اخبارات سوشل میڈیا کی اسکرینوں پر مرکز امن کے طور پر چمک رہا ہے ۔

سب سے پہلے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جانا چاہیے کہ جب اندرونی طور پر پاکستان بدترین حالات سے دوچار ہے۔ قوم بٹی ہوئی ہے۔47 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ اس وقت پاکستان کو دنیا بھر کے امن پسندوں میں مرکز نگاہ بننے کا موقع نصیب ہوا ہے ۔ایں سعادت بزورِ بازو نیست ،تانہ بخشد خدائے بخشندہ۔

پاکستان کی شناخت صرف سیاسی نہیں فوجی بھی رہی ہے۔ یہ واحد ملک ہے جہاں جب عالمی شخصیات آتی ہیں تو صرف سیاسی قیادت سے نہیں فوجی قیادت سے بھی ملتی ہیں۔ ان دنوں بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے ۔ایران کا وفد بھی ہمارا مہمان ہے اورامریکہ کے نائب صدر بھی۔

آج اتوار ہے ،اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں سے تبادلہ خیال کا دن۔ بچے پوچھ رہے ہیں کہ مسلمان ممالک متحد کیوں نہیں ہیں۔ ایران اور خلیج کے مسلم ملکوں میں جنگ کیوں جاری ہے۔ جب امریکہ یورپ کے غیر مسلم ملکوں نے اپنی ایک فوجی تنظیم نیٹو بنا رکھی ہے تو مسلمان ملکوں کی ایسی اپنی فوج کیوں نہیں ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ 2015 میں سعودی عرب میں 41 اسلامی ملکوں نے دہشت گردی کے مقابلےکیلئے اسلامی فوجی کولیشن بنائی تھی جسکے کمانڈر سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں وہ اس وقت متحرک کیوں نہیں ہوئی۔ اسرائیل دو سال سے غزہ پر جس بر بریت کا مظاہرہ کر رہا ہے کیا وہ کھلی دہشت گردی نہیں ہے۔ 1969ءمیں جو آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن بنائی گئی تھی اس کا کوئی اجلاس کیوں نہیں ہوا ۔اب ساری دنیا سے پاکستان کو مبارکبادیں مل رہی ہیں ،او آئی سی کی طرف سے مبارکباد کیوں نہیں ملی ۔او آئی سی کا بھی اربوں کا بجٹ ہے ۔جنرل راحیل والی کولیشن کوبھی تو کوئی مسلمان ملک ان دونوں کو یاد کیوں نہیں کر رہا ہے۔

ہمیں یہ عالمی رتبہ ملا ہے کیونکہ ہم اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت ہیں۔ اس عالمی حیثیت کے بعد ہمارے حکمرانوں ،سیاسی سربراہوں، دانشوروں، علماء اسکالرز ،تاجروں سب کی سوچ اور رویے بھی عالمی ہونے چاہئیں۔اس اعزاز کو صرف اپنے مقامی سیاسی حریفوں پر سبقت تک محدود نہ کریں اور نہ ہی اسے علاقائی فتح قرار دیں۔ یہ منصب مقامی اور علاقائی حیثیت سے بالاتر ہے۔سب سے پہلی ذمہ داری اقوام متحدہ کی تھی ۔پھر یورپی یونین کی، چین کی ،روس کی۔ امریکہ اور ایران نے پاکستان کو ہی یہ اہمیت کیوں دی ؟

سب سے پہلے تو یہ کہ عالمی افق پر جگمگ ہمیں تکبر اور رعونت کی طرف نہ لے جائے۔ ہمیں عجز اور انکسار کا مظہر ہونا چاہیے۔ اپنے سیاسی حریفوں کو ہم اس حیثیت کے سہارے کچلنے کی کوشش نہ کریں ۔ ایک دوسرے کی حیثیت کا احترام کریں۔ بلوچستان، کے پی کے، پنجاب ،سندھ ،گلگت، بلتستان، آزاد جموں کشمیر میں خوشگوار ماحول بنائیں۔ تلخیاں اور محرومیاں جن سختیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں ان کو نرمیوں میں بدلیں۔

پاکستان کو اللہ تعالی نے ایک خاص محل وقوع عنایت کیا ہے پھر اس کی آبادی 60 فیصد نوجوان ہے 15 سے 30 سال کے درمیان۔ معدنی ذخائر میں سونا ،تانبا، قیمتی دھاتیں یورینیم وغیرہ سب کچھ ہے ۔ہماری تہذیب اور ثقافت کہیں 10 ہزار سال کہیں آٹھ ہزار سال کہیں پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔اس تاریخی علمی ثقافتی خمیر سے جو ذہن تعمیر ہوں گے وہ یقیناً اس گلوبل سوچ کے حامل ہوں گے۔ ہمیں پہلے بھی امریکہ چین کو آپس میں ملانے کا اعزاز حاصل ہوا مگر بدقسمتی کہ اسی سال پاکستان دو لخت بھی ہوا۔ پھر ہم نے افغانستان میں روس کی مزاحمت کی۔ سوویت یونین منہدم ہوا مگر اسکے نتیجے میں ہمیں کلاشنکوف اور ڈرگ کلچر ملا ۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اب اپریل 2026 میں پاکستان سے یہ کام لیا جا رہا ہے اسے ہم برقرار کیسے رکھ سکتے ہیں۔ کیا پاکستان کو او آئی سی کو زندہ نہیں کرنا چاہیے 57 ملکوں کی تنظیم کو اب 57 سال ہو رہے ہیں۔ مسجد اقصی کی بے حرمتی پر 1969میں قائم کی گئی تھی اب پھر فلسطین پراسرائیل بربریت کر رہا ہے حالیہ جنگ بھی اسرائیل کی اسی سفاکی کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ ایران اسلئے ہدف بنا کہ 56 اسلامی بہنوں کا یہ اکیلا بھائی تھا جسے فلسطین کی فکر رہی ۔لبنان کیوں تباہ و برباد ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں کو پناہ دینے کے جرم میں۔ ہمارا میڈیا جب بار بار ہماری سیاسی اورفوجی قیادت کی تصویریں امریکی صدر کے ساتھ دکھا رہا ہے اسے یہ احساس کیوں نہیں ہے کہ امریکہ اس وقت مذاکرات کا ایک فریق ہے۔ اس سے قریبی تعلق ظاہر کرنے والی تصویریں ثالثی کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔یہ تو طے ہو چکا ہے کہ ایران مظلوم ہے۔ ایران اسلامی ملک ہے اور اوآئی سی کا رکن ہے۔

ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کے عوام کے مصائب میں بھی کمی ہونی چاہیے۔ اس نیک نامی اور گلوبل شہرت کا کچھ ثمر پاکستان کے عوام کو بھی نصیب ہو غربت کی لکیر سے 47فیصد میں سے کچھ تو اوپر آئیں۔ اسکے علاوہ تمام اسلامی ملکوں میں اجتماعی دفاعی تجارتی اقتصادی معاہدے ہونے چاہئیں ۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو لگام دی جائے۔

تازہ ترین