• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قم یونیورسٹی ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا کہ موجودہ حالات پر اپنی گزارشات پیش کروں۔ حالات کے سبب یہ تو ممکن نہ تھا کہ ورچوئل تقریر کر سکوں لہٰذا طے یہ ہوا کہ ریکارڈ تقریر انکے نمائندے کے حوالے کر دوں ۔ میں نے گفتگو کے آغاز میں عرض کی کہ جے ڈی وینس نے Hillbilly Elegy کتاب تحریر کی تھی ۔ جس میں اس نےلکھا ہے کہ’’ There is nothing lower than the poor stealing from the poor"اس کتاب پر دی ٹائمز نے تبصرہ کیاتھا کہ مسٹر وینس کے پاس تمام جوابات نہیں ہیں لیکن وہ بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ دی گارڈین نے تبصرہ کیا تھا کہ وینس کی کہانیاں خاص طور پر ریگن کی صدارت کے دوران سیاہ فام لوگوں کیخلاف سماجی تحفظ پر حملے کا جواز پیش کرنے کیلئے’ فلاحی ملکہ ‘کی کہانیوں کی یاد دلاتی ہیں بس حالیہ مذاکرات پر بھی یہی تبصرہ ہے کہ وینس تمام جوابات نہیں رکھتے تھے مگر وہ بات چیت کو بھی آگے بڑھا گئےہیںاور اسی طرح سے انہوں نے یہ امکان بھی باقی رہنے دیا کہ امریکہ کوئی سخت کارروائی کرے اور اس کو کرتے ہوئے ویلفیئر کوئین ہونے کا دعویٰ کیا جائے۔

اس وقت صورتحال نہایت پیچیدہ ہو چکی ہے اور سوائے ہٹ دھرمی کے اور کوئی بھی اس صورتحال میں پاکستان کے مثبت کردار سے انکار نہیں کر سکتا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے روابط کا جس مہارت سے استعمال کیا ہے اس نے پاکستان کی حقیقی طاقت کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے ۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ دو دشمنوں کو جب مذاکرات کی میز پر لایا جاتا ہے تو فوری طور پر یا ایک دو ملاقاتوں میں مسائل حل ہونے کی امید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور جیسے کہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’یہ مذاکرات کسی ایک ایونٹ کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہیں، جس نے ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھ دی ہے جو باہمی اعتماد اور سیاسی عزم مضبوط ہونے کی صورت میں تمام فریقین کے مفادات کیلئے پائیدار راستہ ہموار کر سکتا ہے‘ جب راستہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے تو پھر وہ مکمل ہو ہی جاتا ہے ۔

امریکہ کی سمجھ یہ تھی کہ جیسے ہی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا تو آبنائے ہرمز کو کھل جانا چاہئے تھا جیسے کہ ایران یہ سمجھتا تھا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی فی الفور ہونا چاہئے تھا ۔ اسی طرح سے امریکہ کا یہ خیال تھا کہ ایران بات چیت کو وہیں سے جوڑنے پر آمادہ ہوا ہے کہ جہاں یہ جنگ سے قبل رُکی تھی مگر ایران کے پاس کچھ نئے امور بھی تھے ۔ اتنی طویل دشمنی اور بد اعتمادی کے بعد اس قسم کی مس انڈر اسٹینڈنگ ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں اور پہلی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ دونوں فریق کم از کم ایک ميز پر تو بیٹھیں جو کہ پاکستان نے ممکن کر دکھایا ۔ پاکستان نے یہ بھی کر دکھایا کہ سعودی عرب نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس کیلئے بجا طور پر سعودی ولی عہد قابل تعریف ٹھہرتے ہیں ۔ خبریں تو یہ بھی ہیںکہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست گفت و شنید بھی شروع کرا چکا ہے ، اسی وجہ سے ایران کے وزیر خارجہ نے جنگ بندی کے فوری بعد عرب ممالک میں سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو فون کیا اور اب اسلام آباد ٹاکس کے بعد بھی عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا ۔اسی دوران امید تھی کہ شہزادہ خالد بن سلمان بھی پاکستان آ رہے ہیں،پاکستان نے اپنی فضائی فوج کو سعودی عرب میں تعینات کرکے اسرائیل کو بھی واضح پیغام دیا ہےکہ وہ موجودہ حالات کے سبب سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیںکیونکہ یہاں پاکستان موجود ہے ۔ اسی دوران پاکستان مایوس نہیں ہوا اور اس نے دوبارہ سے مذاکرات بحال کرانے کیلئے سفارتی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور مذاکرات کی بحالی کی بھی امیدرکھنی چاہئے ۔ جس وقت اسلام آباد ٹاکس ہو رہی تھیں تو اس وقت بھی سعودی عرب ، قطر اور یو اے ای کے اعلیٰ سطح کے لوگ موجود تھے ۔ امریکہ کیلئے یہ بالکل بھی فیس سیونگ نہیں ہو سکتی کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایرانی ٹول ٹیکس کو تسلیم کر لے ۔ عرب یہ عام بات کر رہے ہیں کہ امریکہ نے اچھی بھلی چلتی ہوئی اس بحری گزر گاہ کو ان حالات کا شکار کردیا اور اگر ٹول ٹیکس امریکہ قبول کرلے تو یہ امریکہ نے کیا کردیا ہے ۔ اسی لئے امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کی بات کر رہا ہے مگر ایران کی سب سے بڑی ایکسپورٹ تیل کا 80 سے 92 فیصد تک خریدار چین ہے جو اس سے 6 سے 10 ڈالر فی بيرل کم قیمت پر پیٹرول خریدتا ہے ۔ اگر ایران پیٹرول نہ بیچ سکا تو چین خرید بھی تو نہیں سکے گا اور اگر چین نے کوئی کوشش ایرانی تیل لینے کی نہ کی اور عالمی منڈی میں چلا گیا تو اس سے اس کے اخراجات بھی لا محالہ بڑھ جائینگے ، پیٹرول کی قیمت بھی پر لگا کر مزید اڑنے لگے گی ۔کوئی طویل بحری ناکہ بندی بہت مشکل بات ہے اور اندھا دھند بمباری سے بھی اہداف حاصل کرنا بہت مشکل نظر آ رہا ہے ۔ ایران بھی اس صورت حال سے نکلنا چاہتا ہے اگر صرف پیٹرول ہی وہ مارکیٹ کی قیمت پر بیچ سکے تو سالانہ اربوں ڈالرز اس کے خزانے میں مزید شامل ہو سکتے ہیں ۔ اس وقت امریکہ کیساتھ ساتھ ایرانی قیادت کا بھی زبر دست امتحان ہے کہ وہ اپنے ملک اور خطے کو اس بحران سے کیسے نکال سکتے ہیں کیوں کہ مسٹر وینس کے پاس تمام سوالات کے جوابات نہیں تھے مگر وہ بات چیت کو بھی آگے بڑھا گئے ہیں ۔

تازہ ترین