• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پٹھوں کے درد میں مفید چیری کی روزانہ کتنی مقدار کھائی جا سکتی ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

چیری وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور پھل ہے جو روزمرہ غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

100 گرام چیری میں روزانہ درکار وٹامن سی کا تقریباً 18 فیصد جبکہ پوٹاشیئم کی یومیہ ضرورت کا تقریباً 10 فیصد موجود ہوتا ہے۔

انڈین جرنل آف کلینیکل بایو کیمسٹری میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ دائمی امراض کے خلاف بہتر انتظام میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ پوٹاشیئم پٹھوں کی فعالیت برقرار رکھنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

چیری کی اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنیوالی خصوصیات

جریدے ایڈوانس ان نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چیری اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات سے مالا مال ہے۔

اسی طرح فوڈز نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چیری میں فلیوونائڈز کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے، جو جسم کو آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق چیری دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس کے عرق میں بھی یہی مفید خصوصیات پائی جاتی ہیں، جبکہ اس میں موجود پولی فینولز خلیات کو نقصان سے بچانے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔

پٹھوں کے درد اور سوزش میں کمی

چیری کا ایک اہم فائدہ سوزش اور پٹھوں کے درد میں کمی لانا بھی ہے، خصوصاً کھٹی چیری (Sour Cherries) اس حوالے سے زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چیری پٹھوں کی جلد بحالی، ورزش کے بعد ہونے والے درد میں کمی اور طاقت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق چیری جسمانی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

دل کی صحت کے لیے مفید

چیری میں موجود پوٹاشیئم دل کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ایک کپ چیری میں پوٹاشیئم کی یومیہ ضرورت کا تقریباً 10 فیصد موجود ہوتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور جسم سے اضافی سوڈیئم خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

یورک ایسڈ کی سطح کم کرنے میں مددگار

یورک ایسڈ کی بلند سطح ہائی بلڈ پریشر، گردوں کی پتھری اور دل کی کمزوری جیسے مسائل سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق چیری کا استعمال یورک ایسڈ کی سطح کم کرنے، گاؤٹ (جوڑوں کی سوزش) کی علامات، اچانک ہونے والے درد اور جوڑوں کی سوجن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

6 مختلف مطالعات کے جائزے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیری یا چیری کا جوس استعمال کرنے والے افراد میں گاؤٹ کے حملوں اور یورک ایسڈ کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔

بہتر نیند میں معاون

چیری میں قدرتی طور پر میلاٹونن موجود ہوتا ہے، جو جسم کے سونے اور جاگنے کے قدرتی نظام کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یورپیئن جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 20 افراد کو 7 روز تک یا تو پلیسبو یا کھٹی چیری کا جوس دیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق چیری کا جوس استعمال کرنے والے افراد میں میلاٹونن کی سطح میں اضافہ، نیند کا دورانیہ زیادہ اور نیند کا معیار بہتر دیکھا گیا۔

چیری کو غذا کا حصہ کیسے بنایا جائے؟

چیری کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا نہایت آسان ہے۔

اسے تازہ پھل کے طور پر کھایا جا سکتا ہے یا مختلف میٹھے پکوانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خشک چیری کو چاکلیٹ چپس اور ناریل کے ساتھ ملا کر ہلکی پھلکی غذا کے طور پر بھی کھایا جا سکتا ہے۔

چیری فروٹ سلاد اور اسموتھیز میں بھی شامل کی جا سکتی ہے، جبکہ نمکین کھانوں میں اسے پنیر سے تیار کردہ ڈشز میں شامل کرنے یا روسٹ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ چیری کھانے کے ممکنہ مضر اثرات

ایک وقت میں زیادہ مقدار میں چیری کھانے سے بعض افراد کو ہاضمے کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حساس معدے والے افراد میں اسہال، گیس اور پیٹ پھولنے جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض افراد کو چیری سے الرجی بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریض چیری کو اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

روزانہ کتنی چیری کھانی چاہیے؟

ماہرین کے مطابق بالغ افراد روزانہ تقریباً 15 سے 25 چیریاں کھا سکتے ہیں، جبکہ بچوں اور نوعمر افراد کے لیے 15 سے 20 چیریاں مناسب مقدار سمجھی جاتی ہیں۔

زیادہ مقدار میں چیری کھانے سے ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید