• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اور تم سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اس میں تفرقہ مت ڈالو۔ //القران سورہ ال عمران/ جنگ بندی کے ساتھ اگر زبان بندی نہ ہو تو ماحول پرامن نہیں رہتا۔ 79 سالہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات ماحول کو مسلسل کشیدگی میں تبدیل کر رہے ہیں ۔

ا س لیے ایران امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی خبروں پر یقین نہیں آرہا ۔ البتہ ایرانی قیادت کے بیانات بہت محتاط اور ذمہ دارانہ ہیں۔ امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان کیری نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم یتن یاہو نے صدر بش، صدر اوباما، صدر بائیڈن کو بھی ایران پر حملے کا منصوبہ پیش کیا تھا مگر ان سب نے مسترد کر دیا تھا ۔صدر ٹرمپ نے اسے اپنا کر امریکہ کاوقار خاک میں ملا دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سرخروئی حاصل کرنیوالے پاکستان کو اب کیا کرنا چاہیے۔ عام رجحان تو یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہوگا ۔اس کا کوئی منطقی جواز تو مجھے نظر نہیں آتا۔کیونکہ مذاکرات ہمیشہ کچھ دو اور کچھ لو کےتحت ہوتے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے روانگی کے وقت جو بیان دیا اس میں تو یہی کہا گیا کہ امریکہ کی طرف سے مکمل اور آخری پیشکش تھی جو ایران نے نہیں مانی۔ ایران نے جس موقف پر ایک طرف دنیا کی ہمدردیاں حاصل کی ہیں اور دوسری طرف اسے اپنے عوام کی ناقابل تسخیر حمایت میسرآئی ہے۔ وہ ایٹمی پروگرام کو اپنا حق کہہ رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے۔ چین بھی اس موقف کی حمایت کر رہا ہے۔ یورپی ممالک بھی خاص طور پر برطانیہ، اٹلی، اسپین، ڈنمارک، فرانس تو ایران اس سے پیچھے کیوں ہٹے۔ اٹلی کی جرات مند وزیراعظم تو جلد ایران جا کر ایران کے عوام کے حوصلوں پر انہیں مبارکباد دینا چاہتی ہے۔ ایران کی طرف سے پہلا نکتہ اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی رہا۔ امریکہ اس پر کوئی بات ہی نہیں کر رہا ۔ اس لیے دوبارہ امریکہ سے مذاکرات کی درخواست کرنا یا توقع رکھنا کسی کیلئے بھی بے سود ہے۔ دنیا کی اکثریت امریکہ کی ہم نوا نہیں رہی۔ اسکی ہاں میں ہاں صرف اسرائیل ملا رہا ہے۔ اسرائیل کی لبنان پر چنگیزیت کی مذمت دنیا بھر میں کی جا رہی ہے مگر امریکہ اسرائیلی قبضے اور ہلاکتوں کی مذمت بھی نہیں کر رہا۔ اب ایک اسلامی مملکت واحد مسلم ایٹمی طاقت کی حیثیت سے ہمارے لیے صراط مستقیم یہی ہے کہ ہم اسلامی بھائیوں کے درمیان مکمل اتحادکی کوشش کریں۔ یہود و نصاریٰ کو مطمئن کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ مسلمان ملکوں کے درمیان جو غلط فہمیاں، نفرتیںپیدا ہوئی ہیں ان کو دور کیا جائے ۔ جیسے وقتی طور پر ہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے سمیٹے جو ایک بہت مشکل بلکہ ناممکن کام تھا ۔ یہ کیسے ہوا۔ ہماری کوششوں سے یا چین کی سفارتکاری سے یا خود امریکہ اس پر مصر تھا یا ایران اپنے قاتلوں کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ تھا ۔بہرحال ہفتہ 11 اپریل ایک تاریخی دن تھا جس سے پاکستان کو عالمی افق پر ایک درخشاں ستارے کا رتبہ نصیب ہوا ۔ اب سیاسی فوجی قیادتوں دانشوروں ،میڈیا اور خاص طور پر سمندر پار پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ اس درخشندگی کو ماند نہ پڑنے دیں۔ اب ہم سب کی کوشش اسلامی ملکوں کو ایک میز پر لانا ہونی چاہیے ۔ طویل المیعاد منصوبہ تو یہ ہو کہ 1974 کے معیار کی اسلامی سربراہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کی جائے اس کیلئے حکومت پاکستان اسلامی ملکوں میں اپنے سفیروں کو متحرک کرے۔ اب واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ، اسکے وزیر دفاع غیر مسلموں کو متحد کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اگرچہ یورپ کی زیادہ تر طاقتیں انکار کر رہی ہیں لیکن یہ بھی دیکھیں کہ غزہ میں دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت پر یورپ خاموش رہا۔ یہود و نصاریٰ کے مقابلے میں مسلمانوں کو ایک طاقت بننا چاہیے۔ 41 مسلم ملکوں والے فوجی اتحاد کو بھی جنرل راحیل شریف کی قیادت میں متحرک کیا جائے ۔فوری منصوبہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک ایران اور خلیجی ریاستوں میں اختلافات ختم کرانے کی کوشش کریں تاریخ کے ادنی ٰ طالب علم اور جمیل الدین عالی کے نغمے کے مصداق ہم سب مصطفوی ہیں۔ پاکستان سارے مصطفویوں کو متحرک کرنے کا آغاز خلیج کی ریاستوں سے کرے۔ انہیں ایک سیاسی عسکری اور اقتصادی قوت بنانے کا مشورہ دے ۔ ہم ایران اور خلیج کے چھ ملکوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے نکات مرتب کریں۔ خلیج کی ریاستوں کو اس وقت سرمائے کے انخلا، ٹیکنوکریٹس کی واپسی کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کا سرمایہ یہاں اس لیے اکٹھا ہو رہا تھا کہ یہاں سیاسی انارکی نہیںقانون کی حکمرانی تھی۔ جان و مال کا تحفظ تھا زندگی کی آسائشیں میسر تھیں ۔ یہاں عدم تحفظ کا احساس کیوں پیدا ہوا ۔ 28 فروری کے بعد یہاں آگ کیوں بھڑکی ۔ ان ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی نے انہیں غیر محفوظ بنایا یہاں اکثر ریاستوں میں غیر ملکی آبادی مقامی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے سرمایہ دار یہاںہیں بڑی کمپنیاں ہیں اور بڑی تعداد میں غیر ملکی محنت کش ہیں۔ پاکستانیوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ پاکستان جب سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر سکتا ہے تو وہ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، مسقط، بحرین کو بھی ایسا معاہدہ کر کے تحفظ کا احساس دلا سکتا ہے پاکستان نے پہلے بھی ان ریاستوں میں سے بعض کے جوانوں کو فوجی تربیت بھی دی ہے۔ یہ ساری خلیجی ریاستیں زر مبادلہ کے محفوظ ذخائر رکھتی ہیں۔ تیل اور گیس وافر مقدار میں انکے پاس ہے۔ متحدہ عرب امارات کے زرمبادلہ کے ذخائر 215 ارب ڈالرہیں، آبادی 11ملین۔ قطر کے زر مبادلہ کے ذخائر 37 بلین ڈالر آبادی صرف تین ملین ،بحرین ذخائر 4 بلین ڈالر آبادی صرف 1.59ملین۔ مسقط ذخائر 17 بلین ڈالر آبادی صرف ساڑھے پانچ ملین۔ کویت 35 بلین ڈالر ذخائر آبادی پونے پانچ ملین۔ سعودی عرب کی آبادی 35.3 ملین اورزرمبادلہ کے ذخائر ماشاءاللّٰہ 451 بلین ڈالر۔ ان ملکوں کی اپنی خلیج کوآپریشن کونسل بھی ہے۔ تعلیمی معیار بھی بلند ہے انہیں خطرہ صرف ایران کی طرف سے امریکی فوجی موجودگی کے باعث ہوا اور اب وہاں یہ تاثر ہے کہ امریکہ تحفظ نہیں دے سکا ۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کو روکنے کا نظام بھی بہت مہنگا پڑا ہے۔ ان ریاستوں کو پاکستان ،چین، روس اور ترکی کے تعاون سے باہمی تعاون پر آمادہ کر سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی ہماری سفارت کاری پر شکر گزار ہے۔ تو پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت۔ ایران خلیج مفاہمت مہم کا آغاز کرے یہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا بھی ہوگا اور مسلمانوں کی دولت اور فوجی طاقت کو مسلمانوں کے مفادات کیلئے بروئے کار لانابھی ہوگا۔

تازہ ترین