کیا اب واشنگٹن عالمی دارالحکومت نہیں رہے گا۔ طاقت کا مرکز بحر اوقیانوس کے اس پار نہیں ہوگا بلکہ اس علاقے میں منتقل ہو جائے گا جہاں دس ہزار سال پہلے تھا ،پہلے یہاں سے سفر کر کے مرکزیت 10 ہزار میل دور گئی تھی۔ اس نئی دنیا نے یہ کوشش کی کہ اب جنگیں اسکے آس پاس نہیں بلکہ سمندر پار یورپ میں ہوں گی ایشیا کے گنجان شہروں میں یا افریقہ کے ریگستانوں میں ۔ہم مشرق والوں کو اور ایشیا کے رہائشیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے متعصب وزیر دفاع کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انکی زبان درازیوں سے عالمی بالادستی وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ ہماری ممنونیت اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے کہ وہ اگر امریکی صدر کو اپنا یرغمال نہ بناتے تو طاقت کا مرکز اتنی تیزی سے سات سمندر پار کرتا یورپ سے گزرتا جنوبی ایشیا نہ پہنچتا۔
پوری دنیا میں ایک عجب قسم کی آگہی اور بیداری ہے ۔بیم و رجا کا عالم ہے۔ ایک انجانا خوف بھی ہے اور ایک موہوم سی امید بھی۔ پہلے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا نظریات سے بھی خالی ہے اور قیادت سے محروم بھی۔ لیکن ایران کی 50 روزہ مزاحمت نے ثابت کر دیا کہ کوئی ریاست تو نظریاتی اقتصادی بھی ہے اور جدید اسلحی ٹیکنالوجی سے ہمکنار بھی ۔ 47 سال کی پابندیوں نے اسے مفلوج نہیں متحرک اور فعال رکھا ہے۔ پوری دنیا میں ایران کی اس استقامت اور مزاحمت پر تحقیق کا رجحان چل پڑا ہے۔ الجزیرہ کی نشریات سے ہی مجھے ایک کتاب
How sanctions work ایران اور اقتصادی جنگ۔۔ کا علم ہوا تو اپنے بیٹے قاسم محمود سے اوٹوا سے اس کا پی ڈی ایف منگوایا ۔نرگس باجغلی ۔ولی نصر۔ جاوید صالح اصفہانی اور علی واعظ کی مرتب کردہ یہ دستاویز پڑھنے والے کو بتاتی ہے کہ جب ایک معاشرے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، ایک ریاست کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ایک معیشت نظربند کر دی جاتی ہے۔ اس سے امریکہ کو کیا قیمت چکانا پڑی ۔اس سے ایران پر عرصہ حیات کیسے تنگ ہوا اور دنیا کو اس کا کیاتاوان ادا کرنا پڑا۔ یہ ایک مستقل محاصرہ ہے۔ میں اس کے اوراق سے گزر رہا ہوں اس کا اختتامی باب ۔مستقل محاصرہ ۔اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ بتاتا ہے کہ ان طویل پابندیوں سے نتائج کیا وہی ہوں گے جو امریکہ کی توقعات ہیں۔ ایسی اقتصادی سزائے قید با مشقت کے ایک قوم کو محصور کرنے کے اثرات اس کے عوام پر کیا ہوں گے۔ ایک صدی پہلے ولسن نے کہا تھا کہ یہ پابندیاں ایک قوم کو مطیع کرنے اور گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں۔ لیکن یہ گلا گھونٹنا کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ اس سے ایک قوم میں مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ نتائج وہ نہیں ہوں گے جس کی توقع امریکہ کر رہا تھا بلکہ وہ ہوں گے جن پر اس طویل مدت میں دنیا نے قناعت کی ہے۔
2024 ء میں کتاب کے لکھے گئے اختتامی پیرے کے یہ الفاظ آج اپریل 2026ء میں حرف بہ حرف ثابت ہو رہے ہیں۔ 40سے زیادہ برسوں سے عائد پابندیوں میں نو کروڑ ایرانیوں نے جینا کس طرح سیکھا۔ غربت ،قلاشی رہی لیکن تعلیم کا معیار گرنے نہیں دیا ،برآمدات درآمدات سفری پابندیاں سب اپنی جگہ۔ ہمیں جناب احمدی نژاد کے زمانے میں تہران میں ایک کتاب میلے میں جانے کا اتفاق ہوا تو ہم نے مشاہدہ کیا تھا کہ کس طرح ایران کی یونیورسٹیوں میں سیمینار ہو رہے تھے غیر ملکی محققین اور مہمانوں کی میزبانی ہو رہی تھی۔ تحقیق کا سفر جاری تھا۔ 2008ء میں ہمیں ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں فلمیں دکھائی گئیں کہ ایران پہلا اسلامی ملک ہے جس نے سلول/ سٹیم سیل/ اور شبیہ سازی/ کلوننگ /کے ذریعے اپنی بھیڑیں تخلیق کر لی ہیں۔ علماء نے باقاعدہ اس کی اجازت دی ہے۔ اخلاقیاتی کمیٹی نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں کہ اس طرح پیدا ہونے والے جانوروں کو عام جانوروں سے کس طرح الگ رکھا جائے گا۔ پہلی بھیڑرویانہ بڑی ہو گئی ہے۔ ہشاش بشاش زندگی گزار رہی ہے۔ جدید علوم میں تحقیق اور سائنسی علوم میں تدریس آگے بڑھی ہے۔ اب جب اپریل 2026ءمیں جنگ بندی کے دوران تک ایران نے آبنائے ہرمز کھول کر دنیا کو اطمینان کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ تو پوری دنیا بالخصوص مسلم ملکوں کو ایران سے گریز کے بجائے ان 45 سال پر تحقیق کرنا ہوگی۔ اقبال یاد آتے ہیں۔۔
مر ا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
پہلے ایران کے قالین یاد آتے تھے۔ اب ایران کا حوالہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون ہیں۔ ہم جو خوفزدہ رہتے ہیں۔ قرضوں پہ قرضے لیتے رہتے ہیں اس وقت جب ہم عالمی افق پر دو متحرک ملکوں امریکہ اور ایران میں دوبارہ مذاکرات کی میز سجانے والے ہیں ۔اب ہمارے لیے امریکہ نہیں ایران لائق مطالعہ و مشاہدہ ہوگا کہ کس طرح پابندیوں میں فخر اور غیرت کے ساتھ جینا ممکن ہے۔ اب پاکستان پر 138 بلین ڈالر قرضہ ہے۔ کیا اس سفارتی مشن کی کامیابی کے بعد یہ قرضہ کچھ کم ہوگا۔ کیا ہم قرضوں بھری زندگی گزارنے کے بجائے ایران سے سبق سیکھیں گے کہ 45 سال پابندیوں میں رہ کر بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کا سر اٹھا کر مقابلہ کیسے کیا جائے ۔اس کے گماشتے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کے خواب کو کیسے پارہ پارہ کیا جائے۔ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر صرف 20 بلین ڈالر ہیں۔ اس میں بھی ہمارے دوست ممالک کے قابل ادائیگی ڈیپازٹ شامل ہیں ۔50لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ہماری 25کروڑ کی آبادی میں سے 45 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ واہگہ سے گوادر تک قوم یہ دعا کر رہی ہے کہ امن عالم کیلئے ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جس تندہی سے ملکوں ملکوں سفر کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ جیسی متنازع شخصیت کے ممدوح بن رہے ہیں۔ ان دونوں کی مساعی کے نتیجے میں ہمیں قرضوں سے، غربت سے ،بےروزگاری سے ،مہنگائی سے نجات نصیب ہو ۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ آج ضرور اناطولیہ، دوحہ ریاض ،پاسداران انقلاب کی باتیں ہوں گی۔ ماں باپ ان سوالات کیلئے تیار رہیں جو ان دنوں میں نیٹ پر ویڈیو دیکھ کر اولادوں کے ذہن میں جوار بھاٹا پیدا کر رہے ہوں گے۔ ہماری قومی سیاسی جماعتیں تو داخلی پابندیوں کا شکار ہیں۔ عالمی پابندیاں نہ ہوں تو ملکی پابندیاں ضرور ہوتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے ہر قسم کے وسائل سے نوازا ہے۔ دل سے دعا یہی نکلتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ افراد کو بیداری اور ریاست کے حکام کو بندہ پروری عطا کرے۔ ہم اپنے گھروں کو محلے کو مستحکم کریں ۔ ریاست از خود مستحکم ہو جائے گی۔ ایشیا اور افریقہ جاگ اٹھے ہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ غزہ میں اپنے پیاروں کی اسی ہزار سے زیادہ قبروں سے کچھ دور خیموں میں زندگی گزارتے نو عمر فلسطینی بیٹے بیٹیاں اس بے گھری میں بھی تربیت حاصل کر رہے ہیں کہ دنیا کو فلسطینی مصائب سے کیسے آگاہ کرنا ہے۔