موجودہ صد ی کا آغاز موسمیاتی تبدیلیوں پر خصوصی توجہ دینے سے ہوا سال 2015 میں اس بابت عالمی کانفرنس پیرس میں منعقد ہوئی جس میںدنیا بھر کے راہنماؤں نے شرکت کی اور متعد داہم فیصلےکئے جن میں موسمیاتی تبدیلوں سے نپٹنے کےلئے فنڈز اکھٹے کرنے کا فیصلہ بھی ہوا جس کوامریکی صدر ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کرکے ناکام کرنے کی کوشش کی جبکہ اب اسی صدی میں صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی دیاہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پیش آنے والے واقعات نے دنیا کے سیاسی، معاشی اور سفارتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خصوصاً ایران پر ایک بڑی عالمی طاقت کے حملے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئی حقیقت سے روشناس کرایا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کئی ایسے رجحانات سامنے آئے ہیں جو مستقبل کی عالمی ترتیب کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
ایران پر حملے نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو ایک تلخ حقیقت کا ادراک دلایا کہ عالمی طاقتوں کے مفادات ہمیشہ علاقائی استحکام سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ ممالک جو ماضی میں بڑی طاقتوں پر انحصار کرتے تھے، اب اپنی خودمختاری اور سلامتی کے بارے میں ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور ہیں۔ اس خطے میں اتحاد اور تعاون کی نئی کوششیں شروع ہو چکی ہیں، کیونکہ ریاستیں اب سمجھ چکی ہیں کہ بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار انہیں غیر مستحکم کر سکتا ہے۔دوسری جانب یورپ اور امریکہ کے د رمیان تعلقات میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماضی میں یہ دونوں ایک مضبوط اتحاد کی شکل میں عالمی معاملات پر اثرانداز ہوتے تھے، لیکن حالیہ بحرانوں نے ان کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ یورپی ممالک اب اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ خودمختار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر توانائی اور دفاع کے شعبوں میں۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی اتحاد اب پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔
اسی دوران ایک ایسا ملک جو ایک سال قبل معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، اس نے حیران کن طور پر عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو بڑھا لیا ہے۔ مئی 2025میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی طرف سے حاصل کی جانے والی سفارتی اور اسٹرٹیجک برتری نے دنیا کو حیران کر دیا۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوتی چلی گئی اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ اس کی متوازن خارجہ پالیسی اور اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا بہتر ہونا ہے۔مگر اس میں چند ایک کردار انتہائی اہم ہیں جن میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فیلڈمارشل سید عاصم منیر ، صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم میاں شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارشامل ہیں۔
پاکستان نے نہ صرف اپنی معاشی صورتحال کو سنبھالا بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی ایک فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ چین اور روس کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا اس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں درمیانے درجے کی طاقتیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ درست حکمت عملی اپنائیں۔
توانائی کا بحران بھی اس پوری صورتحال کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ توانائی بحران نہ صرف معیشتوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عام انسان کی زندگی کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ کئی ممالک اس حد تک متاثر ہوئے ہیں کہ وہ جدید سہولیات سے محروم ہو کر ایک طرح سے قدیم دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
اسی تناظر میں چین کا کردار بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خود چین کو ایک سپر طاقت تسلیم کرنا عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنایا ہے بلکہ ٹیکنالوجی، تجارت اور سفارتکاری کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے بیلٹ اینڈ روڈجیسے منصوبے دنیا کے کئی ممالک کو اپنے ساتھ جوڑ رہے ہیں، جس سے اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ رہا ہے۔روس بھی اس نئی عالمی ترتیب میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ اس کا اتحاد امریکہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہ دونوں ممالک مل کر ایک ایسا متبادل عالمی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو مغربی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔ اس صورتحال نے دنیا کو ایک بار پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ پرانے اتحاد کمزور ہو رہے ہیں اور نئے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔ طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایسے میں وہ ممالک جو دانشمندی، توازن اور دور اندیشی سے کام لیں گے، وہی اس نئی عالمی ترتیب میں اپنا مقام بنا سکیں گے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات نہ صرف چیلنجز سے بھرپور ہیں بلکہ مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ دنیا کے ممالک تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں، تاکہ ایک پرامن اور مستحکم عالمی نظام کی بنیاد رکھی جا سکے اس مقصد کےلئے اسلام آباد پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد شروع ہوگا۔