• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی سرکار نے ایسے حالات قائم کر دئیے ہیں کہ انڈیا جا کر اپنا مؤقف پیش کرنا اور برف پگھلانے کی کوشش کرنا سر دست ناممکن ہوگیاہے ۔ دلی سے رابطہ کیا گیا کہ ایک سیمینار میں آپ ورچوئل شرکت کرکے سارک کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہا ر کریں۔ اس ویبینار سے پاکستان سے اِس خاکسار ، خرم دستگیر خان ، جاوید جبار ، انڈیا سے منی شنکر ، اوپی شاہ ، بنگلا دیش سے سیف الرحمان اور سری لنکا سے ڈاکٹر گنیشن نے خطاب کیا ۔ میں نے عرض کیا کہ اگر ہم اس وقت دنیا میں نظر دوڑائیں توہمارے سامنے یہ حقیقت کھڑی ہوگی کہ ممالک نے علاقائی تعاون کو فروغ دیکر اپنی معیشتوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ عمومی طور پر قرب و جوار کے ممالک کی باہمی تجارت کا حجم ہی 50 سے 60 فیصد تک ہے جو انکو نہ صرف باہمی تصادم سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے بلکہ باہمی مسائل کا حل بھی اس سے ہی تلاش کیا جاتا ہے ۔ اسکی بڑی مثال ہمارے سامنے یورپی یونین کے طور پر سامنے ہے کہ جن کی باہمی تجارت ہی کم و بیش 75 فیصد کے لگ بھگ رہتی ہے ۔ اب ذرا جنوبی ایشیا کی حالت کا جائزہ لیجئے ۔ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اس خطے میں آباد ہےمگر اسکے باوجود اسکی باہمی تجارت صرف پانچ فیصد ہے ۔ بلا شبہ غیر معمولی اختلافات موجود ہیں اور ان میں بہت تلخی بھی پائی جاتی ہے اور انکے سبب ہی سارک 2016ءسے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے لیکن جب سارک کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تو کیا اس وقت کوئی بہت مثالی تعلقات تھے ؟ جواب نفی میں آئیگا ۔ پاکستان سانحہ مشرقی پاکستان کے جذباتی اثرات سے ابھی باہر نہیں آیا تھا ۔ اس تنظیم کے اہم محرک موجودہ وزیر اعظم بنگلا دیش طارق رحمان کے والد جنرل ضیاء الرحمان اس وقت بنگلا دیش کے صدر تھے ، جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے سب سے پہلے بنگلا دیش کی آزادی کا اعلان کیا تھا مگر اس سب کے باوجود سارک کے قیام کو عمل میں لایا گیا۔پاکستان اور انڈیا کےمابین کشمیر اور دیگر مسائل تو موجود ہی تھے ، پھر بھی آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود کہ مسائل منہ کھولے کھڑے تھے ایسی تنظیم کو کیوں قائم کیا گیا ؟ جواب بالکل واضح ہے کہ اگر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا جائے تو مسائل کی موجودگی انکے حل کرنے کی ضرورت کو بھی ظاہر کر رہی ہوتی ہے۔ تاہم جب ہم آپس میں ملیں گے ہی نہیں تومسائل کا حل کون تلاش کرئیگا؟ سارک کے قیام کے وقت سادہ سی بات تھی کہ ہم آپس میں ملاقات رکھیں گے تو روابط کو مضبوط بنانے کے مواقع بھی ميسر آ ئیںگے ، پرانے مسائل سے بھی نبٹنے کی سوچ پروان چڑھےگی اور اسکی ضرورت عام لوگ بھی محسوس کریں گے ۔ اور یہ تصور پوری دنیا میں طاقت پکڑ رہا ہے ابھی گزشتہ برس میں ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیٹک فورم میں شریک ہوا تو وہاں بھی اہم ترین سوال یہی تھا کہ قریبی ریاستيں باہمی تعلق کو کیسے مضبوط بنا سکتی ہیں ۔ پاکستان فخریہ طور پر اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین کسی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے اس حوالے سے مجھ سے برطانیہ کے معروف اخبار گارڈین نے سوال کیا تو اس میں بھی پاکستان کی سول و فوجی قیادت کی مشترکہ کاوشوں کا ذکر کیا اور دنیا یہی جاننا چاہتی ہے کہ اسکے ریجنل اثرات کیا مرتب ہونگے ۔ خلیج ٹائمز کا تو مجھ سے سوال ہی سیدھا یہ تھا کہ اس معاہدے کی صورت میں پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ پوری دنیا ریجنل معاملات کی اہمیت سے آگاہ ہے مگر جنوبی ایشیا میں بس دشمنی ہی نبھائی جا رہی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سارک کو تو باہمی دشمنی کی وجہ سے عضو معطل بنا کر رکھا ہوا ہے کہ ہم ساتھ نہیں بیٹھ سکتے مگر اس کیساتھ ساتھ ہی پاکستان اور انڈیا ایس سی او کے اراکین ہیں ، مختلف ایس سی او کے تحت فورمز پر ایک دوسرے کیساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں مگر سارک کے حوالے سے 2016 سےہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔ انڈیا میں ایک تجارتی سوچ پائی جاتی ہے مگر یہ رویہ بھی سب کے سامنے ہے کہ علاقائی تعاون کے حوالے سے یہ تصور کہ ہم سب سے بڑے ہیں،نے ہر سوچ کو انڈیا میں پچھاڑا ہوا ہے اور وہاں کی حکمران جماعت جس کو اب انتہائی طویل مرکزی سطح پر بھی حکمرانی کا تجربہ ہو چکا ہے کی جانب سے کوئی مثبت آواز سامنے نہیں آتی ۔ مجھے یہ کہتے ،بہت خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں انڈیا دشمنی کے تصورات کے ساتھ نہیں جی رہیں ۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے صدر اور تین بار پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نےکچھ عرصہ قبل یہ رائے دی تھی کہ پاکستان کی اضافی بجلی انڈیا کو فروخت ہونی چاہئے کیونکہ انڈیا کو بجلی چاہئے اور پاکستان اسکو سستی بجلی فروخت کر سکتا ہے ، صرف موسمی تبدیلی پر تعاون نہیں بلکہ تجارت ہونی چاہئے اگر دونوں ممالک کی تجارت شروع ہو جائے تو ضرورت کا سامان دو گھنٹے میں پاکستان پہنچ سکتا ہے ۔ جبکہ ایسی مثبت آواز انڈیا کی حکمران جماعت تو چھوڑئیے حزب اختلاف کی جانب سے بھی نہیں آرہی۔ اب تو گزشتہ مئی کے بعد کسی فوجی برتری کےاحساس کو بھی عملی طورپر غلط ثابت کرکے دکھا دیا گیا ہے اور صدر ٹرمپ تو آئے روز جہازوں کے تباہ ہونے کی گنتی بھی سناتےرہے۔ ایک بات ہم سب کو اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ علاقائی تعاون ہی خطے کے عوام کا مستقبل سنوار سکتاہے اور علاقائی طور پر بالا دست ہونے کے تصور کو کوئی بھی برداشت نہیں کرئیگا۔ مثالی صورتحال یہ ہوگی کہ کلکتہ سے کابل تک اور کوئٹہ سے تہران تک اور کراچی سے استنبول تک کوئی بھی تجارت میں رکاوٹ نہ ہو اور اس کیلئے سارک جیسی تنظیم کو فعال کرنا از حد ضروری ہے جو کہ جلد از جلد ہونی چاہئے ۔

تازہ ترین