• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران نے کہہ دیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ یہ تاریخ کےعجیب و غریب مذاکرات ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے ۔ ایک اپنی سپر طاقت کے زعم میں صرف دھمکیاں دیتا ہے۔ ہماری بات مان لو ورنہ ہم سارے بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ پل گرا دیں گے۔ دوسرا صرف عالمی اصول پیش نظر رکھتا ہے اپنی شرائط بتاتا ہے سپر طاقت ان شرائط کو پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتی۔ امن عالم کیلئے ثالثی کرنے والے بھی مشکل میں ہیں۔ اب کے میرا خیال ہے کہ ہم عالمگیریت اور علاقائیت سے دور اپنے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے انتظام و انصرام پر بات کریں۔ 42سالہ مرتضیٰ وہاب کے دور کا جائزہ لیں مگر اس سے پہلے ایک تقریب کی بات جہاں تعلیم ،صحت، فلاحی خدمات کے صلے میں 2026ء کے اطراف میگزین کے اعتراف خدمت اعزاز تقسیم کیے گئے۔ جنگ گروپ کے مقبول ہفت روزہ اخبار جہاں میں 50سال سے تین عورتیں تین کہانیاں لکھنے والی سینئر ترین صحافی، ناول نگار سعیدہ افضل کراچی کی چیف سرجن ڈاکٹر سمیہ سید طارق براڈ کاسٹر ناول نگار سیما رضا روزانہ سمندر پار کر کے بابا آئی لینڈ میں 800بچوں کو پڑھانے والی منیرہ علوی۔ سماعت میں مشکلات کا سامنا کرنے والی شاہین زمان ۔

گائیکی میں پاکستان آئیڈل کی نو عمر طرب نفیس۔ اس بار کی اعزاز یافتگان تھیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن اس تقریب کیلئے بطور خاص لاہور سے آئے تھے۔ اپنے دل نشیں خطاب سے انہوں نے سامعین کو مسحور کئے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی محفل غزہ کے ذکر کے بغیر منعقد ہو ہی نہیں سکتی۔ الخدمت نے غزہ کے یتیموں، بزرگوں زخمیوں کیلئے گزشتہ دو سال کے عرصے میں بہت کچھ کیا ہے۔ خاص طور پر یتیم طلبہ و طالبات کو میڈیکل کے شعبے میں اپنی پڑھائی جاری رکھنے کیلئے موثر کوششیں کی ہیں۔ پاکستان، مصر، ترکی کے میڈیکل کالجوں میں ان بچوں کو داخلہ دلایا ہے۔ میں نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں غزہ میں اسرائیل کی بربریت کا ذکر کیا تھا کہ شہداء میں زیادہ تعداد خواتین ہی کی ہے۔ میں نے یہ آرزو بھی ظاہر کی کہ اٹلی کی خاتون وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کی سفاکی کی جیسے مذمت کی ہے اسرائیل سے اپنے معاہدے منسوخ کیے ہیں یہ جرات مرد وزرائے اعظم کو بھی میسر نہیں آئی۔ اطراف جارجیا میلونی کو بھی اعترافِ خدمت اعزاز پیش کریگا۔ پھلتا پھولتا پھیلتا کراچی سندھ کی پیشانی کا جھومر ہے۔ یہ کسی رکاوٹ کے بغیر سانس لیتا ہے تو پورا پاکستان بھی سانس لیتا ہے۔ قائداعظم کی جائے پیدائش، جائے تدفین کراچی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا 70کلفٹن کراچی میں ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کی جائے پیدائش کراچی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی لیڈی ڈفرن ہسپتال کراچی میں پیدا ہوئے۔ اس وقت کے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بھی کراچی ہی کی پیدائش ہیں ان کے والدین وہاب صدیقی، فوزیہ وہاب نے بھی کراچی میں ہی تعلیم حاصل کی یہیں شادی ہوئی یہ سب کراچی کے مقروض ہیں۔ پھر اس وقت کراچی قریبا ًتین کروڑ مختلف زبانیں بولنے والے مختلف ملکوں اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے بچوں، نو عمروں، نوجوانوں ،بزرگوں ،ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو آغوش میں لیے ہوئے ہے ۔

ایسے شہروں کا انتظام سنبھالنا یقیناً خوش نصیبی بھی ہے اور ایک ازمائش بھی۔ پارٹی کا شریک چیئرمین جب ملک کا صدر ہو اور صوبے میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہو تو اس شہر کے مئیر کو اہل کراچی کی توقعات پر پورا اترنے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ اس وقت فارم 45 اور 47 کی بحث ترک کر دیں۔ زیادہ سیٹیں جماعت اسلامی کی تھیں۔ میئر عبدالستار افغانی۔ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ بڑی اچھی حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ یہ بات بھولنے کی نہیں مگر وقتی طور پر اس کو بھی فراموش کر دیں۔ 2008سے سندھ میں پی پی کی حکومت ہے ۔ مرتضیٰ وہاب 19 جون 2023 ءسے مئیر کی مسند پر فائز ہیں۔

پہلے وہ اگست 2021 ء سے دسمبر 2022ء تک کراچی کے ایڈمنسٹریٹر بھی رہ چکے ہیں۔ یقیناً وہ کراچی کو اور کراچی انہیں پہچانتا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ عہدوں کیلئے صرف زیادہ سیٹیں یا عوام میں مقبولیت بنیاد نہیں ہے۔ بلکہ قبولیت ناگزیر ہے یہ کہاں سے ہونی چاہئے۔ اس پر بات کرتے ہوئے پر جلتے ہیں۔ اس وقت یہ تجزیہ مقصود ہے کہ جب تاریخ نے آپ کو ایک سنہری موقع دے دیا ہے تو اپ اپنی صلاحیت، پارٹی کی طاقت، صوبائی حکومت کی سرپرستی اور وفاقی حکومت کی آشیر باد سے اسے کیسے چلاتے ہیں۔ جناب مرتضی ٰ وہاب اردو بولنے والے ہیں لیکن سب اردو بولنے والوں میں مقبول نہیں ہیں۔ کراچی میں اردو بولنے والے مہاجرین کیساتھ ساتھ شاہ لطیف کی سندھی بولنے والے ۔رحمان بابا کی پشتو بولنے والے۔ کراچی کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر پرعزم بلوچ بھی بڑی تعداد میں ہیں بلکہ ساحلی شہر ہونے کے ناطے تو بلوچ ہی اصل کراچی والے ہیں۔ اسی طرح پارسی بھائی تعلیم صحت اور فلاحی اقدامات میں پیش پیش ہیں۔ جنوبی پنجاب سے سرائیکی بولنے والے بھی کراچی کی رگوں میں دوڑتے ہیں۔ پنجابی بولنے والے بھی شعبہ تجارت و صنعت میں کافی بڑی تعداد میں ہیں۔ گلگت بلتستان۔ آزاد جموں کشمیر کے بیٹے بیٹیاں بھی تعلیم صحت کے شعبوں میں نمایاں ہیں۔ کراچی امکانات کی جنت ہے۔

تاریخ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو پھر ایک سنہری موقع دیا ہے کہ وہ کراچی کے دل جیتے۔ کراچی کے وسائل اب بھی کراچی کے مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ مرتضیٰ وہاب اپنے آپ کو ایک با اختیار میئراور کراچی کے تمام لوگوں کو بلا امتیاز مذہب زبان، رنگ، نسل، پارٹی اپنا سمجھیں۔ سب کیلئےاحترام بروئے کار لائیں۔ کراچی کونسل کے منتخب ارکان ٹاؤن چیئرمینوں کو ایک ساتھ بٹھائیں۔ کراچی کو کراچی والوں کی عینک سے دیکھیں۔ اس شہر کے بے کراں افرادی، قدرتی ،معدنی وسائل کا تخمینہ لگائیں۔ تاریخ اور فطرت کا یہ عمل ہے کہ جب مختلف تہذیبیں اور ثقافتیں ہاتھ ملاتی ہیں تو نئی تہذیب کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ اس عمل کو کوئی غاصب ڈکٹیٹر روک سکا ہے نہ روک سکے گا ۔شہر محبت مانگتے ہیں۔ تنگ نظری نہیں۔ عہدے پولیس کے ہوں، محکمہ تعلیم کے، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے وہ تہذیبی نشوونما کے عمل کو روک نہیں سکتے۔ قدرت اور تاریخ سے تصادم کا حشر ہم خلیجی ریاستوں میں دیکھ رہے ہیں ۔مرتضی وہاب اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ انہیں 21ویں صدی کی ایسی فیصلہ کن دہائی میں کراچی کا میئر ہونا نصیب ہوا ہے ۔آپ کا خاندانی پس منظر ایک بڑی تہذیبی،سیاسی قوت ہے۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا ماضی بھی مزاحمت اور کامیابیوں سے مرصع ہے۔ کراچی کے ماہرین تعلیم، ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسر مختلف تنظیموں کے سربراہوں پر مشتمل۔ فرینڈز آف کراچی۔ کی ایک کونسل تشکیل دیں۔ کراچی کے ہر نوجوان کی صلاحیتوں کو کراچی کے استحکام، خوشحالی کیلئے بروئے کار لائیں۔ پھر وہ صبح حسیں ضرور طلوع ہوگی جسکی آرزو ہر پاکستانی کو ہے۔

تازہ ترین