برصغیر کی سیاست میں ’’ڈرائنگ روم اور چائے خانہ سیاست ‘‘ کی اپنی الگ روایت رہی ہیں۔ سرد، گرم راتیں، دھواں بھرا کمرا، چائے کی پیالیاں اور ملک کے مستقبل پر بحث،یہی وہ ماحول تھا جسے ’’ڈرائنگ روم سیاست‘‘ کہا جا تا تھا۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں کئی ایسے تاریخی بنگلے، حویلیاں اور گھر تھے جہاں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں، بلکہ سیاسی بیٹھکیں، خفیہ مشورے اور جوڑ توڑ ہوتے تھے۔
پرانے کراچی کے بنگلوں میں اکثر لمبے برآمدے، اونچی چھتیں، لکڑی کے دروازے، ہرا بھرا لان، جہاں صحافی انتظار کرتے، کہیں کہیں کلاسک سیاسی ماحول ہوتا، لکڑی کی میزیں، ایرانی قالین، بڑے دروازے، پیانو بھی ہوتا، حقہ بھی اور پاندان بھی، جہاں اکثر و بیشتر حکومتیں بنتیں، ٹوٹتیں، اتحاد ہوتے اور کبھی کبھی ایک فیصلہ،ایک جملہ بیٹھک کے اختتام پر پورے سیاسی منظر نامے کو بدل دیتا۔ یہ سیاسی بیٹھکیں صرف سنجیدہ بحثوں تک محدود نہیں ہوتی تھیں،بلکہ ان میں دلچسپ جملے، حاضر جوابی، طنزومزاح، خفیہ منصوبے اور غیر متوقع واقعات بھی ہوتے تھے۔
بعض سیاست دانوں، صنعت کاروں، وڈیروں، صحافیوں اور بیوروکرٹیس کے گھروں میں بیٹھکیں ہوتی تھیں، جہاں خفیہ اتحادوں پر باتیں ہوتیں، الیکشن حکمت عملی طے کی جاتی۔کئی ایسی بیٹھکیں ہوئیں جو وقت کے ساتھ سیاسی داستانوں کا حصہ بن گئیں،ان میں مزاح بھی تھا، چالاکی بھی اور بعض اوقات حیران کُن موڑ بھی آئے۔
ان بیٹھکوں میں چائے کا خاص کردار تھا، کئی سینیر صحافی کہتے ’’پاکستان میں آدھی سیاست چائے کی پیالی میں ہوتی ہے۔‘‘ لیکن ان بیٹھکوں میں صرف چائے نہیں پی جاتی تھی، قوم کی قسمت بھی لکھی جاتی تھی، دوران گفتگو احتیاط بھی بہت کی جاتی۔
مثلا بعض سیاست دان اہم نکات پر بحث کرتے ہوئے پنکھا تیز چلا دیتے، ریڈیو آن کر دیتے، لان میں چلتے ہوئے مدھم آواز میں باتیں کرتے، تاکہ کوئی ان کی گفتگو سن نہ لے، بات بنتے بنتے بگڑ نہ جائے۔ اُس وقت سیاسی رپورٹر بہت خطرناک سمجھے جاتے تھے۔
جس گھر میں بیٹھک ہوتی، صحافی سُن گُن لینے وقت سے پہلے پہنچ جاتے، وہاں کے ڈرائیوروں سے دوستی، خانساموں سے معلومات اور چوکیداروں سے اشاروں کنایوں میں پوچھتے رہتے، کبھی صرف اتنا پتا چل جاتا کہ فلاں لیڈر تین چار گھنٹے رہا، فلاں سب سے پہلے آیا، سب سے آخر میں گیا، فلاں ناراض گیا، پھر یہ اگلے دن اخبار ات کی ہیڈ لائن بن جاتیں۔
کچھ اہم سیاست دان مخصوص صحافیوں کو بلاتے، اُن سے کہتے، آپ سے آف دی ریکارڈ باتیں کررہے ہیں، انہیں ابھی خبر نہیں بنانا، مگر دوسرے دن کے اخبارات کی ہیڈلائن آف دی ریکارڈ، آن ہوجاتی۔
1960کی دہائی میں جب ایوب خان کی حکومت تھی، تب کراچی کے جن بنگلوں میں اپوزیشن رہنما جمع ہوتے، وہاں کے دروازے مکمل بند، پردے گرے ہوئے، فون کم استعمال اور گفتگو آہستہ آواز میں ہوتی تھی۔ گاڑیاں گھر سے دور کھڑی کی جاتیں، تاکہ کسی کو اندازہ نہ ہو کہ اندر کون ہے۔ اُس وقت کہا جاتا تھا، کابینہ پہلے ڈرائنگ روم میں بنتی، اعلان بعد میں ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست کی دل چسپ روایت یہ بھی رہی ہے کہ،دن میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے والے رہنما رات کو ایک ہی میزپر مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے۔
1960 کی دہائی میں لکھم ہاوئس کو سیاست کا غیر رسمی ہیڈکوارٹر سمجھا جاتا تھا۔ یہاں رات گئے تک سگریٹ کے دھوئیں،چائے کے دور اور مذاکرات جاری رہتے تھے۔ یہ گھر سیاست کاطاقت ور مرکز تھا۔ عبداللہ ہارون کے گھر میں قیام پاکستان سے پہلے سیاسی بیٹھکیں اور اجلاس ہوتے تھے۔ اسی طرح لکشمی بلڈنگ صرف تجارتی عمارت نہیں تھی، بلکہ سیاست دانوں کی غیر رسمی بیٹھکوں میں سے ایک تھی۔
گورنر ہاؤس، برطانوی دورکی عمارت ہے۔ یہ کراچی کے اشرافیہ اور سیاست دانوں کی ملاقاتوں کے لیے مشہور تھی۔ یہاں ’’کیفے گرانڈ‘‘ بھی تھا، جہاں اہم شخصیات آیا کرتی تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد اہم سیاسی ملاقاتیں اور حکومتی نشستیں ہوتی تھیں۔ بانئی پاکستان بھی یہاں مقیم رہے۔ سہروردی کی وفات پر تعزیت کے لیے اہم شخصیات آئیں۔
1970 کی دہائی میں کراچی کے مختلف بنگلوں میں رات گئے تک سیاسی حکمت عملی بنتی بگڑتی رہی۔ اُس وقت ’’ڈرائنگ روم پولیٹکس‘‘ بہت مشہور ہوئی، اس کا مطلب یہ لیا جاتا کہ، اصل فیصلے اسمبلی سے زیادہ ڈرائنگ رومز میں کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ڈنر پوری حکومت کا مستقبل بدل دیتا تھا۔
ان رسمی ڈرائنگ رومز میں صرف قابل اعتماد لوگ، بغیر نوٹس لیے، بغیر ریکارڈنگ کیے بات کرتے تھے۔ پاکستان کی سیاست میں ’’سازش‘‘ کا لفظ بھی اُس دور میں عام ہوا، اکثر فیصلے عوامی جلسوں میں نہیں بند کمروں میں ہوتے تھے۔ اسی لیے خاص لوگ کہتے ’’اصل کھیل کہیں اور ہو رہا ہے‘‘۔
بھٹو صاحب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ، وہ اپنی حاضر جوابی اور ذہانت کے لیئے مشہور تھے۔ مخالف سیاست دانوں کو بھی اپنی گفتگو سے قائل کر لیتے تھے۔ 70کلفٹن میں وہ رات دیر تک اجلاس کرتے، کبھی غصے میں میز پر ہاتھ مارتے، کبھی ہنسنے لگتے اور پھر اختتام پر پوری حکمت عملی بدل دیتے۔
بھٹو صاحب اپنی برجستہ گفتگو کے لیے مشہور تھے۔ ایک سیاسی محفل میں انہوں نے مخالفین کے بارے میں کہا، ’’سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ آج بھی سیاسی تجزیوں میں دہرایا جاتا ہے۔ نواز شریف کے دور میں لاہور کی سیاسی بیٹھکیں بہت مشہور ہوئیں، جہاں چائے کے ساتھ بڑے فیصلوں کی خبریں نکلتی تھیں۔
1980۔90کی دہائی میں کراچی کی سیاست راتوں کو جاگتی تھی۔ نائن زیرو ایم کیو ایم کی تاریخی سیاسی بیٹھکوں اور فیصلوں کا اہم مرکز تھا۔
سیاسی بیٹھکیں کہاں کہاں ہوتیں، ذیل میں ان کے بارے میں مختصرا ملاحظہ کریں۔
رضیہ فرید، میگزین ایڈیٹر
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی دارالحکومت کراچی کو ملکی سیاست میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس شہر نے متعدد سیاسی، سماجی اور فکری تحریکوں کو جنم دیا، جس سے ملک کی سیاسی تاریخ پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔
یہ سیاسی تاریخ محض جلسوں، جلوسوں، انتخابی معرکوں اور اقتدار کے ایوانوں تک کی نہیں، بلکہ ان گھروں، نشست گاہوں اور بیٹھکوں کی کہانی بھی ہے جہاں فکر و نظر کے چراغ روشن ہوئے، نظریات نے جنم لیا اور جہاں قومی مسائل پر سنجیدہ مشاورت ہوتی، ملک کی ممتاز سیاسی و فکری شخصیات جمع ہوتیں، حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرتیں اور مستقبل کے سیاسی لائحۂ عمل پر غور و خوض کیا جاتا۔
کراچی میں آج بھی کئی ایسی تاریخی رہائش گاہیں ہیں جو محض اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں بلکہ ان میں قومی تاریخ کے زندہ اور تابندہ ابواب رقم ہیں۔ ذیل میں ان چند سیاسی بیٹھکوں کا ذکرملاحظہ کریں۔
جمشید نسروانجی، کراچی کے پہلے مئیر تھے، انہیں بابائے کراچی کہا جاتا ہے۔1886 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ زندگی کا بڑا حصہ خدمتِ خلق اور شہر کی ترقی کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی جمشید کوارٹرز میں واقع رہائش گاہ اپنے دور میں ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔
یہ محض ایک رہائشی مکان نہیں تھا بلکہ علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا ایک فعال اور متحرک مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ اس وقت کے نامور اہلِ علم، ادیب، سماجی رہنما اور سیاسی شخصیات باقاعدگی سے ملاقات کے لیے آتے تھے۔ ان نشستوں میں شہر کے مسائل، اور سیاسی حالات پرغور و فکر کیا جاتا تھا۔ یوں یہ مقام نہ صرف جمشید نسروانجی کی فکری و انتظامی بصیرت کا مظہر تھا بلکہ اس دور کا ایک روشن استعارہ تھا۔
مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم برطانوی عہد میں تحریکِ ریشمی رومال کے بانی تھے۔ 24 برس کی جلاوطنی کے بعد 1939ء میں کراچی کی بندرگاہ پر جہاز سے اترے تو ان کے استقبال کے لیے اہلِ سندھ اور ملک کے منتخب اصحابِ فکر و تدبر کا جمِ غفیر تھا۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی انقلابی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں مولانا محمد صادق کھڈوی کے قائم کردہ مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ مارکیٹ کو اپنی سرگرمیوں کا محور بنایا تو یہ مدرسہ صرف دینی تعلیم کا ادارہ نہیں رہا بلکہ آزادی کے متوالوں کی ایک فکری و سیاسی نشست گاہ بن گیا۔
یہاں باقاعدگی سے سیاسی بیٹھکیں منعقد ہوتیں، یوں کھڈا مدرسہ، لیاری میں تحریکِ آزادی کی جدوجہد کا ایک خاموش مگر مؤثر مرکز بن کر اُبھرا، جہاں سے حریت و بیداری کی ایک نئی روح پھوٹتی رہی۔
خان بہادر اللہ بخش خان گبول، لیاری کی سیاسی تاریخ کا ایک معتبر نام ہے۔ وہ سندھ کی ابتدائی انتخابی سیاست کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ دو مرتبہ کراچی کے میئر منتخب ہوئے۔ ان کے صاحبزادے بیرسٹر عبدالستار گبول وفاقی وزیر کے منصب تک پہنچے، جبکہ ان کے بھتیجے نبیل گبول بھی قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن، وفاقی وزیر و صوبائی ڈپٹی اسپیکر جیسے اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔
گبول خاندان لیاری کی سیاسی تاریخ میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیاری کے علاقے کلاکوٹ میں واقع ان کا گھر طویل عرصے تک سیاسی مرکز رہا، جہاں قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد میں اہم سیاسی نشستیں منعقد ہوتیں، ملک کی ممتاز شخصیات ان میں شریک ہوتی تھیں۔
حیدر منزل کو ایک منفرد سیاسی، تاریخی اور فکری مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ عمارت سولجر بازار کے علاقے مسلم کالونی میں، نشتر پارک (سابق پٹیل پارک) کے نزدیک واقع ہے، جو قوم پرست رہنما جی ایم سید کی رہائش گاہ کے طور پر معروف تھی۔ جی ایم سید 1929ء میں کراچی لوکل بورڈ کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ اسی زمانے میں جمشید نسروانجی مہتا کی خواہش پر 1933ء میں اس تاریخی عمارت کی تعمیر عمل میں آئی۔
سائیں جی ایم سید نے اس کا نام اپنے پر دادا سید حیدر شاہ سنائی کے نام پر حیدر منزل رکھا۔ سید حیدر شاہ نے سندھ میں ارغون دورِ حکومت سے قبل سید محمدمہدی جونپوری، کی کشتیاں سن( دادو) کے قریب دریائے سندھ میں ڈبوئی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حیدر شاہ سندھ کے ایک بڑے عالم مخدوم بلاول سے بہت متاثر تھے جنہوں نے اُس وقت مہدی جونپوری کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھا۔
1930ء کی دہائی میں جب برصغیر میں آزادی کی تحریک زوروں پر تھی، اسی زمانے میں سندھ اور کراچی کو بمبئی پریزیڈینسی سے الگ کرانے کی جدوجہد بھی جاری تھی، اس تحریک کا اہم مرکز حیدر منزل تھا۔ 1935ء میں سندھ کو بمبئی پریزیڈینسی سے الگ ایک مستقل صوبے کی حیثیت حاصل ہوئی۔حیدر منزل کی تاریخی اہمیت اس حقیقت سے بھی آشکار ہوتی ہے کہ برصغیر کے متعدد عظیم سیاسی رہنما یہاں تشریف لاتے۔
محمد علی جناح اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔ خان عبدالغفار خان جب بھی کراچی آتے، ان کا قیام اکثر یہیں ہوتا۔ ہندوستان کے کانگریسی راہنما مولانا ابوالکلام آزاد اور سبھاس چندر بوساور اللہ بخش سومرو کے نام بھی اس عمارت کی تاریخ سے وابستہ ہیں۔ مولانا آزاد نے اللہ بخش سومرو اور جی ایم سید کے درمیان اختلافات ختم کرانے کے لیے خصوصی طور پر دہلی سے کراچی کا سفر کیا تھا۔
1960ء کی دہائی کے آواخر میں، شیخ مجیب الرحمٰن بھی حیدر منزل آئے۔ نشتر پارک میں اپنے تاریخی جلسے کی تیاریوں کا مرکز بھی انہوں نے اسی عمارت کو بنایا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی حیدر منزل سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہی، خصوصاً قوم پرست جماعتوں اور سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں اس عمارت نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نامور رہنما یہاں آتے رہے، جن میں غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، حیدر بخش جتوئی، میراں محمد شاہ، سر شاہ نواز بھٹو، شاہ مردان شاہ دوم، بیگم نسیم ولی خان، جام صادق علی وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تشکیل پانے والے سیاسی اتحاد خاص طور سے قوم پرست اتحاد کی تشکیل بھی اسی منزل سے ہوئی۔
حیدر منزل محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ سندھ اور برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب تھی۔ اس کی دیواریں آزادی، مزاحمت، فکری مکالمے اور قومی شعور کی بے شمار داستانوں کی امین تھیں۔ اس تاریخی بیٹھک کوان کے خاندان نے ایک بلڈر کو فروخت کردیا، جسے مسمار کر کے اب یہاں ایک کثیر المنزلہ عمارت تعمیر ہو گئی ہے۔
نواب نبی بخش خان بھٹو ایک نامور وکیل اور باوقار سیاست دان تھے جنہوں نے برصغیر کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے اور اپنے سیاسی شعور، معاملہ فہمی اور عوامی خدمت کے جذبے کی بدولت سیاسی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہ نواز بھٹو کے بھائی تھے۔
قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے علاقے سولجر بازار میں نشتر پارک کے قریب واقع ان کی رہائش گاہ سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی تھی۔ اس گھر میں سیاسی مشاورت و گفت و شنید کی محفلیں سجتی تھیں۔ سندھ کی سیاست کے نمایاں رہنما سائیں جی ایم سید اور غلام حسین ہدائت اللہ سمیت دیگر معروف سیاسی رہنما اکثر یہاں اہم قومی و سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کرتے تھے۔
کراچی کے جہانگیر روڈ پر واقع لکھم ہاؤس برصغیر کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ کا ایک نہایت اہم مرکز تھا۔ یہ عظیم الشان رہائش گاہ برصضیر کی معروف علمی شخصیت جسٹس سر شاہ محمد سلیمان کے صاحبزادے احمد سلیمان اور اُن کی اہلیہ بیگم اختر سلیمان کی سکونت گاہ تھی۔
بیگم اختر سلیمان برصغیر کے نامور سیاسی رہنما اور سابق وزیرِ اعظمِ پاکستان حسین شہید سہروردی کی صاحبزادی تھیں، اس نسبت سے لکھم ہاؤس نہ صرف ایک خاندانی اقامت گاہ تھا بلکہ سیاسی سرگرمیوں کا بھی ایک مؤثر مرکز تھا۔
یہ مکان اپنے زمانے میں ممتاز قومی و سیاسی شخصیات کی آمد و رفت کا محور رہا۔ملک کی اہم سیاسی شخصیات، جن میں نوابزادہ نصر اللہ خان، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل، باقی بلوچ اور دیگر اکابرینِ سیاست ملاقاتوں اور مشاورت کے لیے جمع ہوتے۔ ملکی سیاست کے اہم فیصلے اور مستقبل کے لائحہ عمل طے کیے جاتے تھے۔
گارڈن ایسٹ کے علاقے میں ریاست بھاولپور کی درگاہ جمال دین والی کی ممتاز شخصیت مخدوم الملک غلام میران شاہ کے صاحبزادے مخدوم زادہ حسن محمود سابق وزیراعلی ریاست بھاولپور کی رہائش گاہ تھی۔ اس گھر میں مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا سید مردان شاہ سمیت معروف سیاسی شخصیات کی بیٹھکیں ہوا کرتی تھیں۔
گارڈن ایسٹ میں معروف ترقی پسند کامریڈ میر محمد بلوچ کی رہائش گاہ تھی۔ ان کے گھر عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں واحد بلوچ، لال خان دیگر معروف شخصیات کی اکثر بیٹھک ہوتی تھی، جن میں مزدوروں، کسانوں، پسے ہوئے طبقات کے حقوق اور عوامی مسائل پر گفتگو ہوتی تھی۔
خان بہادر محمد ایوب کھوڑو تین مرتبہ صوبۂ سندھ کے وزیراعلیٰ رہے۔ وہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی سیاست میں متحرک تھے۔ کراچی کے علاقے سولجر بازار میں نشتر پارک کے قریب ان کی رہائش گاہ سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی تھی۔
اکثر برصغیر کی نامور سیاسی اور سماجی شخصیات کی آمد و رفت رہتی تھی، جہاں ملکی حالات، قومی تحریکوں اور عوامی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہوا کرتی تھی۔ ان ممتاز شخصیات میں سر شاہنواز بھٹو، قاضی فضل اللہ، جی۔ ایم۔ سید، میر بندہ علی خان تالپور، پیرزادہ عبدالستار، آغا غلام نبی پٹھان، اللہ بخش سومرو، خان بہادر غلام محمد وسان، پیر الٰہی بخش، سید میراں محمد شاہ، قاضی اکبر، خان بہادر غلام رسول کیہر اور میر غلام علی خان تالپور جیسے قد آور رہنما شامل تھے۔ ان کی موجودگی اس امرکاثبوت ہے کہ خان بہادر محمد ایوب کھوڑو کی رہائش گاہ اُس دور کی سیاسی فکر و نظر کا ایک فعال مرکز تھی۔
سر عبداللہ ہارون قائداعظم کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی وکٹوریہ روڈ پر واقع رہائش گاہ ’’نصرت‘‘ اپنے دور میں سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھی۔ یہاں قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر آغا خان تک نے قیام کیا۔محترمہ فاطمہ جناح بھی قائداعظم کے ہمراہ یہاں تشریف لاتیں، ان کا قیام بھی اسی مکان میں ہوتا تھا۔
یہی وہ تاریخی گھر تھا جہاں قائداعظم نے کیبنٹ مشن پلان اور کرپس مشن جیسے اہم سیاسی معاملات پر غور و فکراور کئی اہم فیصلے کیے۔ اسی گھر کی بالائی منزل کے ایک بڑے کمرے میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے سبز کپڑے پر نشان لگا کر پاکستان کے پہلے قومی پرچم کے ابتدائی خدوخال کی منظوری دی۔ اس تاریخی مقام پر راجہ محمود آباد، نواب اسماعیل خان، مولانا حسرت موہانی اور دیگر ممتاز مسلم رہنما بھی آتے جاتے رہے۔
کراچی چڑیا گھر کے عقب میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر محمد ہاشم گزدر کی رہائش گاہ،کراچی کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم بیٹھک کے طور پر مشہور تھی ، جہاں سیاسی رہنما ملکی حالات پر غور و فکر اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کرتے تھے۔
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی کراچی میں سرکاری رہائش گاہ، جو “10 وکٹوریہ روڈ” کے نام سے معروف تھی، اُس دور کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بھی تھی۔ یہ تاریخی مکان پاکستان کے ابتدائی برسوں میں طاقت و سیاست کے اہم فیصلوں کا گواہ رہا، یہاں وقتاً فوقتاً ملک کی نامور شخصیات اور اعلیٰ سیاسی رہنما جمع ہوتے اور اہم امور پر مشاورت کرتے تھے۔ ان میں سابق وزیراعلیٰ سر غلام حسین ہدایت اللہ، سابق وزیراعظم غلام محمد، راجہ صاحب محمودآباد اور میر غلام علی تالپور جیسے بااثر رہنما شامل تھے۔
کراچی کے دل کلفٹن میں واقع موہٹہ پیلس نہ صرف اپنی شاندار طرزِ تعمیر کے باعث معروف ہے بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی ایک روشن حوالہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد محترمہ فاطمہ جناح ایک عرصے تک یہاں مقیم رہیں۔
1964ء کے صدارتی انتخابات میں جب محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو موہٹہ پیلس قومی سیاست کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ اس دور میں ملک بھر سے ممتاز سیاست دان، دانشور، صحافی، وکلا، ادیب اور سماجی رہنما ان سے ملاقات کے لیے یہاں آتےاورقوم کے مستقبل، جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی، عوامی حقوق کے تحفظ جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آتے تھے۔
پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں اپنی رہائش گاہ 70کلفٹن کراچی کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، جو جلد ہی پاکستان کی سیاست میں ایک علامتی اور متحرک مقام بن گیا۔ یہاں اہم سیاسی رہنما اور کارکن جمع ہو کر ملکی سیاست پر تبادلۂ خیال کرتے۔ 70کلفٹن محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ سیاست کا اہم مرکز تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد یہ مزید اہم ہو گیا۔ بے نظیر بھٹو نے یہیں سے اپنی سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھایا اور 1986 کے تاریخی عوامی جلوس کی قیادت بھی اسی مرکز سے کی۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ اس مقام کی سیاسی رونق کم ہوتی گئی، تاہم یہ گھر آج بھی بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ، جدوجہد، عروج و زوال اور قربانیوں کی ایک اہم اور علامتی یادگار ہے۔
کارساز روڈ کراچی پر واقع، کنگری ہاوس سندھ کی سیاسی و روحانی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ رہائش گاہ حُروں کے روحانی پیشوا اور سیاسی رہنما شاہ مردان شاہ پیر پگارا سے منسوب ہے، جنہیں اپنی سیاسی بصیرت اور منظم اثر و رسوخ کے باعث “کنگ میکر” سمجھا جاتا۔
یہ مقام محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ طویل عرصے تک سیاسی مشاورت، اتحاد سازی اور اہم قومی فیصلوں کا مرکز رہا، جہاں سندھ اور پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات وقتاً فوقتاً رہنمائی اور مشاورت کے لیے آتی رہیں۔ مختلف ادوار میں حکومت سازی اور سیاسی حکمت عملیوں کی تشکیل میں اس مرکز کا کردار نمایاں رہا، خاص طور پر 1977 کی تحریکِ نظامِ مصطفیٰ اور 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پیر پگارا کا سیاسی اثر مزید بڑھ گیا اور وہ قومی سیاست کے فیصلہ کن کرداروں میں شمار ہونے لگے۔
اس دوران کنگری ہاؤس سیاسی سرگرمیوں اور مشاورت کا اہم محور بن گیا۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنما بھی اس سیاسی مرکز سے وابستہ رہے ۔یوں کنگری ہاؤس سندھ کی سیاست میں ایک ایسے بااثر مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے جہاں طاقت، مشاورت اور سیاسی فیصلوں کی سمت متعین ہوتی رہی ہے۔
ممتازسیاستدان مشتاق مرزا مرحوم کا شمار نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کے قریبی رفقاء میں ہوتا تھا ۔ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کی سندھ میں تنظیمی و سیاسی سرگرمیوں کی قیادت بڑی حد تک ان ہی کے گھر مرزا ہاؤس (پی ای سی ایچ ایس) سے انجام پاتی رہی، جس نے وقت کے ساتھ ایک اہم سیاسی مرکز کی حیثیت اختیار کر لی۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں یہ گھر اپوزیشن سیاست کا اہم مرکز بن گیا، جہاں رہنما جمع ہو کر حالاتِ حاضرہ پر مشاورت اور آئندہ حکمتِ عملی طے کرتے تھے۔ اسی پس منظر میں یہاں ہونے والی معروف ’’حلیم پارٹی‘‘ محض سماجی نشست نہیں تھی بلکہ ایک غیر رسمی مگر مؤثر سیاسی مشاورت کا ذریعہ بھی تھی، جس میں ملک بھر کے سیاسی قائدین کھل کر تبادلۂ خیال کرتے تھے۔
ممتاز عالمِ دین، جید سیاست دان علامہ شاہ احمد نورانی کا گھر سمر سیٹ اسٹریٹ پر کچھی میمن مسجد سے ملحقہ تھا۔ یہ مکان محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ ملک کی سیاسی و مذہبی تاریخ کا ایک اہم سنگم تصور کیا جاتا تھا۔یہاں ملک بھر سے نامور سیاسی، مذہبی، علمی اور ادبی شخصیات آتی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں قومی سطح کی اہم شخصیات، جن میں نوابزادہ نصراللہ خان، مفتی محمود اور قاضی حسین احمد سمیت متعدد اپوزیشن رہنما شریک ہوتے اور اہم قومی امور پر مشاورت کیا کرتے تھے۔
یہی وہ مقام تھا جہاں مختلف سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں، اتحادوں کی بنیادیں رکھی گئیں اور ملک کے اہم قومی و سیاسی مسائل پر سنجیدہ غور و فکر ہوا۔ یوں یہ رہائش گاہ اپنی ظاہری سادگی کے باوجود پاکستانی سیاست میں مکالمے، مشاورت اور اتحاد سازی کا ایک نمایاں مرکز سمجھی جاتی تھی
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کا رہائشی پتہ 494/ 8تھا، تاہم ان کے پرانے ٹیلی فون نمبر کے آخری دو ہندسے ’’90‘‘ ہونے کی وجہ سے یہ مقام عوامی و سیاسی حلقوں میں ’’نائن زیرو‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، جو 1980 کی دہائی سے 2016 تک کراچی کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک مرکزی حوالہ بنا رہا، جہاں سے متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی و سیاسی سرگرمیاں منظم کی جاتیں۔
یہ رہائش گاہ محض ایک گھر نہیں بلکہ ایک سیاسی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئی، جہاں اہم فیصلے اور ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں، وقتاً فوقتاً ملک کی بڑی سیاسی شخصیات کی آمد و رفت بھی رہی۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی یہاں بانی ایم کیو ایم سے ملاقاتیں کیں۔ بعد ازاں جب الطاف حسین لندن منتقل ہو گئے تو بھی ’’نائن زیرو‘‘ کی سیاسی اہمیت ختم نہیں ہوئی اور مختلف ادوار میں کئی سیاسی رہنما یہاں مدعو کیے جاتے رہے۔ اسی تسلسل میں 2008 کے سیاسی منظرنامے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اس مقام کا دورہ کیا، جو اس کی سیاسی حیثیت اور اثر انگیزی کا ایک نمایاں حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
پپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے منسوب بلاول ہاؤس پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی و خاندانی تاریخ کا ایک باوقار مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ رہائش گاہ 1988 میں تعمیر کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سفر کی ابتدائی پہچان بھی یہی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ بلاول ہاؤس نہ صرف ایک رہائش گاہ ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی نسل در نسل قیادت کے تسلسل کی علامت بھی ہے، جہاں سے ایک نئی سیاسی قیادت نے اپنی عملی پہچان کا آغاز کیا وقت کے ساتھ یہ محض ایک رہائش گاہ نہیں رہی بلکہ سیاسی سرگرمیوں، ملاقاتوں اور قومی سیاست کے اہم فیصلوں کی ایک علامت بن گئی ہے ۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر چار میں مسلم لیگی رہنما جسٹس ظہیر الحسن لاری کی رہائش گاہ سیاسی حوالوں سے ایک اہم بیٹھک رہی ۔ ملک کے پہلے صدراتی انتخابات دو جنوری 1965ءکو منعقد ہوئے تو قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں متحدہ اپوزیشن کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا۔ انتخابات کے سلسلے میں یہاں اجلاس ہوتے تھے، جن میں خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمد علی، محمود الحق عثمانی اور حسین شہید سہروردی وغیرہ شریک ہوتے تھے۔