28 فروری سے شروع ہونیوالی بے سمت جنگ نے بہت سے حقائق بے نقاب کیے ہیں۔ مجھے ایک بہت ہی الگ قسم کا تاریخی تجربہ ہو رہا ہے کہ غیر مسلم عیسائی امریکہ اور یہودی اسرائیل اپنے اپنے مذہب سے وابستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی گفتگو فوجی حکمت عملی اور خصوصاََ وزیر دفاع کے بیانات سب مسلمان ملکوں کے خلاف شدت پسند عیسائیوں کا بیانیہ ہیں۔ جبکہ مسلم حکمران ایران کے سوا سب سیکولر ہونے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایران کو بھی دو غیر مسلم ممالک چین اور روس سے فوجی اور ٹیکنیکل امداد مل رہی ہے۔ 57مسلمان ملکوں میں سے زیادہ تر خاموش تماشائی ہیں۔ 1969ءمیں مسلمان ملکوں کے اتحاد، تحفظ ،تعلیم ،سائنسی ترقی کیلئے قائم کردہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی بالکل غیر فعال ہے۔ اس کے سیکریٹریٹ سے روزانہ کوئی بیان جاری نہیں ہوتا وزرائے خارجہ تک کے اجلاس منعقد نہیں ہو رہے۔
وزرائے دفاع کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔57 اسلامی ممالک اجتماعی طور پر کوئی اقدام کرنے سے کیا امریکہ سے خوفزدہ ہیں یا اسرائیل سے ۔یا ان میں سے اکثریت کی اپنی خواہش ہے کہ فلسطینیوں کو اسی طرح خاموش مجبور اور پابند رکھا جائے۔ ایران کے مسلک کی وجہ سے دوسرے اسلامی ممالک ایران کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں ؟۔اس لیے بھی کہ ایران واحد اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مستقل فوجی مالی سیاسی حمایت کی ہے۔ شام ،عراق، لبنان میں اپنی حامی تنظیموں خاص طور پر حزب اللّٰہ کو تقویت دی ہے۔ حالیہ جنگ میں بھی وہ لبنان میں امن کی بات کر رہا ہے۔ جبکہ دوسرے اسلامی ممالک لبنان کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی غزہ میں دو سال سے جاری اسرائیلی بربریت کو مذاکرات کا موضوع بنانا چاہتے ہیں۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں ، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ آج بھی زیادہ تر سوالات اسی جنگ کے بارے میں ہوں گے۔ مذاکرات میں تعطل کیوں ہوا ۔امریکہ اسرائیل ایران پر اتنا ظلم کیوں کر رہے ہیں۔ اسلامی ممالک جواب دینے کیلئے متحد کیوں نہیں ہیں۔ یہ سوالات اولادیں صرف پاکستان میں ہی نہیں کر رہی ہیں۔ بھارت میں بھی مسلمان گھرانوں میں یہ استفسار ہو رہا ہے۔ مسلمان ممالک زیادہ تر افریقہ میں ہیں وہاں بھی بچے والدین سے یہ پوچھ رہے ہیں۔ وہاں اسلامی شناخت اس لیے بھی اجاگر ہو رہی ہے کہ عیسائیوں کے مذہبی سربراہ پوپ افریقی ممالک میں اپنا دیدار کروا رہے ہیں۔ سیاہ فام افریقی عیسائی بہت پرجوش ہیں۔ ہمارے بچے ہم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا مسلمانوں میں کوئی اس طرح کے متفقہ عالم دین نہیں ہیں جو مسلمان ملکوں کے مذہبی اقتصادی سماجی خاندانی حالات کا جائزہ لیں ۔مسلمان اجتماعی طور پر اپنے مذہبی شعائر کی ترویج اور عمل درآمد کیلئے منظم کیوں نہیں ہیں۔ مسلمانوں میں شدت پسند مسلح گروپ بنانے کی نوبت ہی کیوں آتی ہے اور کیا یہ القاعدہ داعش جیسی تنظیمیں واقعی مسلمان بناتے ہیں یا یہ بھی امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں سے وجود میں لائی جاتی ہیں ۔گزشتہ سال 21 جون 2025 میں استنبول میں اوآئی سی کے ایک ہنگامی اجلاس میں ایران پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کی گئی لیکن امریکہ کی براہ راست مذمت نہیں کی گئی صرف اسرائیل پر الزامات عائد کیےگئے ۔
مختلف کتابوں مضامین رپورٹوں کے مطالعے کے بعد مجھے یہ احساس بار بار ہو ا کہ مسلمان حکمرانوں کی اکثریت امریکہ کی مخالفت میں بہت محتاط رہتی ہے۔ ان کے اقتصادی اور عسکری معاملات کی چابی بھی امریکہ کے پاس ہے۔ اس لیے امریکہ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ دولت مند اسلامی ملکوں اور حساس محل وقوع والی مسلم ریاستوں سے اپنے تعلقات خوشگوار رکھے۔ انکے حکمرانوں کی تعریف کرے۔ ان کو ابراہیم ایکارڈ کے حوالے سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرے ۔ٹرمپ نے اس میعاد کے پہلے دو سال انہی کوششوں میں صرف کیے۔ ان دو سال میں ہی اسرائیل نے غزہ میں72 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید کئے ہیں۔ جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے وہ فلسطینیوں کی نسل ہی ختم کرنا چاہتا ہے ۔یہی کوشش امریکہ نے ایران کے ایک اسکول پر حملہ کر کے ایرانی نسل مٹانے کا عمل اختیارکرکے کی ۔حالیہ جنگ نے فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت سے توجہ ہٹائی حالانکہ اب بھی غزہ میں ہر روز فلسطینی قتل کیے جا رہے ہیں۔ بورڈ آف پیس میں بھی اسلامی ملکوں کو اسی لیے شامل کیا گیا ۔
امریکہ اور یورپ اس وقت تو اس جنگ کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔لیکن او آئی سی میں تقسیم پیدا کرنے میں امریکہ کا ساتھ برطانیہ فرانس اور جرمنی نے بھی دیا ہے ۔یورپی تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ او آئی سی کے 57 ممبران تین گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک طرف ایران ہے ،دوسری طرف سعودی عرب، پاکستان، ترکی،مصر، انڈونیشیا ۔تیسری طرف خلیجی ریاستیں۔ افریقی ممالک اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف پاکستان ،سعودی عرب، ترکیہ کی بھی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ امریکی صدر کو پچھلے سال خلیجی ممالک نے ہی دورے کی دعوت دی۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ۔ان ممالک نے ہی ایران کے مقابلے میں تحفظ کیلئے اپنے علاقوں میں امریکی فوجی اڈے بھی قائم کیے۔ دیکھا جائے تو امریکہ اور خلیجی ممالک اس جنگ کی تیاری کئی سال سے کر رہے تھے ۔امریکہ تو اس میں نیٹو کو بھی شامل کرنا چاہتا تھا مگر یورپی ممالک جو طویل جنگوں کے بھیانک نتائج دیکھ چکے ہیں۔ ویتنام اور افغانستان میں امریکی پالیسیوں کی شکست کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔اسپین اور اٹلی جیسے ملکوں نے تو ببانگ دہل مخالفت کی۔
اب جنگ بندی کے دوران خلیجی ملکوں کی خواہش تو یہ نظر آتی ہے کہ ایران کو کمزور کیا جائے مگر حکومت تبدیل نہ ہو۔ امریکی حفاظتی چھتری ان کے سروں پر قائم رہے ۔آبنائےہرمز کھل جائے تاکہ توانائی کے مسائل پیدا نہ ہوں ۔ ایران امریکی بحر ی ناکہ بندی کا فوری خاتمہ چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ اس سے ساری پابندیاں ہٹا لی جائیں۔ منجمد اثاثے بحال کیے جائیں ۔امریکہ حکومت کی تبدیلی پر زور نہیں دے رہا ہے ۔وہ افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔
ایرانی وفد پاکستان، روس ، مسقط کے دورے پر نکلا ہے۔ پہلا پڑاؤ اسلام آباد ہے۔ وہ امریکی وفد سے ملنا نہیں چاہتا لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ وہ بات چیت کر رہا ہے ۔میری ناقص فہم یہ کہہ رہی ہے کہ جب غیر مسلم اپنے مذہب کے لحاظ سے متحرک ہیں تو اسلامی ممالک متحد ہو کر او آئی سی کے ذریعے سفارتی اور اقتصادی دباؤ کیوں نہیں ڈال رہے۔ زیادہ تر مسلم حکمرانوں کے رویے سیکولر کسی حکمت عملی کے تحت ہیں یا امریکہ سے خوف کے تحت۔ او آئی سی کے ممالک متحد ہو کر اگر چین روس سے ہر قسم کی مدد مانگیں تو کیا امریکہ اسرائیل کی بربریت کا مقابلہ زیادہ مضبوطی سے نہیں ہوگا۔