• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’میں ریپسٹ نہیں ہوں‘: حملہ آور کے الفاظ دہرانے پر ٹرمپ رپورٹر پر برس پڑے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ— فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ— فائل فوٹو

وائٹ ہاؤس کے عشیائے میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ حملہ آور کول ٹوماس ایلن کے منشور کا حوالہ دینے پر ایک رپورٹر پر شدید برہمی کا اظہار کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے حملہ آور کو ریڈیکلائزڈ، اینٹی کرسچن اور ایک شدید ذہنی مسائل کا شکار شخص قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد اتوار کے روز امریکی میڈیا سے گفتگو کے دوران رپورٹر نے مبینہ شوٹر کے اس کی فیملی کو بھیجے گئے آخری پیغام کا حوالہ دیا تو ٹرمپ غصے میں آ گئے۔

خیال رہے کہ حملہ آور نے آخری پیغام میں کہا تھا کہ میں اب اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار میرے ہاتھوں کو اپنے جرائم سے آلودہ کرے۔

امریکی صدر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اسی بات کا انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں گی، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا کریں گی، کیونکہ آپ خوفناک لوگ ہیں، واقعی خوفناک لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاں! اس نے یہ لکھا تھا لیکن میں ریپسٹ نہیں ہوں، میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کی طرف اشارہ تھا، تو ٹرمپ نے جواب دیے بغیر کہا کہ میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس بات کو اس انداز سے لیا جیسے اس میں ان کے اور بدنامِ زمانہ مجرم فنانسر جیفری ایپسٹین کے تعلقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہو، حالانکہ ملزم کے آخری پیغام میں ایپسٹین کا ذکر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کچھ بیمار شخص کی یہ بکواس پڑھ رہی ہیں؟ مجھے ایسے معاملات سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، مجھے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے، یہ ایک شدید ذہنی مریض شخص تھا۔

شوٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اس کا آخری پیغام پڑھا ہے، وہ ریڈیکلائزڈ ہے، وہ پہلے ایک مذہبی شخص تھا، پھر اینٹی کرسچن بن گیا، وہ غالباً ایک بہت بیمار شخص تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا میں سیاسی تشدد کی ایک وجہ ڈیموکریٹ رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ فائرنگ کے دوران میں زیادہ پریشان نہیں تھا، میں زندگی کو سمجھتا ہوں، یہ مجھ پر ہونے والا تیسرا قاتلانہ حملہ تھا۔

سیکیورٹی کی جانب سے انہیں فوری طور پر منتقل نہ کرنے کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، میں نے ان کے لیے اسے آسان نہیں بنایا، میں جاننا چاہتا تھا کہ معاملہ کیا ہے، میں واقعی واپس اندر جانا چاہتا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید