اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا۔
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10 اعشاریہ 50 فیصد سے بڑھ کر 11 اعشاریہ 50 فیصد ہو گئی ہے۔
مانیٹری پالیسی کے مطابق اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو 1 فیصد بڑھا کر 11.50فیصد کردیا، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے انشورنس فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مارچ میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی ہے، خدشہ ظاہر کیا گیا ہے آنے والے مہینوں میں یہ 10 فیصد تک جا سکتی ہے، شرح سود بڑھانے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا ہے، شرح سود بڑھانے کا مقصد عالمی سطح پر قیمتوں کے بڑھنے کے اثرات کو ملکی معیشت میں پھیلنے سے روکنا ہے، رواں مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں معاشی ترقی 3.8 فیصد رہی۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور چار سال بعد عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز کے اجرا کی بدولت اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، اندازہ ہے کہ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، ایف بی آر کے ٹیکس وصولی ہدف میں اب تک 611 ارب روپےکی کمی ریکارڈ ہوئی، 611 ارب روپے کی کمی کا ریکارڈ ایک تشویشناک پہلو ہے۔
مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار میں5.9 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، 5.9 فیصد کا نمایاں اضافے سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری کا پتا چلتا ہے، اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ مہنگائی اگلے مالی سال کے بیشتر حصے میں 5 سے 7 فیصد کے مقررہ ہدف سے اوپر ہی رہے گی۔
معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ ضروریات کی چیزوں پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان بزنس فورم کا کہنا ہے کہ آج کی مانیٹری پالیسی کا اعلان واضح کر رہا ہے بجٹ میں ٹیکسز ہی ٹیکسز ہوں گے، معیشت اگر آئی ایم ایف نے چلانی ہے تو بزنس کمیونٹی کو واضح کر دیا جائے۔
اپنے بیان میں پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ شرحِ سود میں اضافہ سے نجی شعبے کو قرض میں مزید مشکلات ہوں گی، ہماری کاروباری لاگت خطے کے مقابلے میں پہلے ہی 34 فیصد زیادہ ہے، سنگل ڈیجٹ شرح سود سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملنے کی توقع تھی۔