برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین نے لندن کے مختلف فلیٹس میں خواتین کو رکھ کر ان کا استحصال کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے کینسنگٹن اور چیلسی کے علاقوں میں کم از کم 4 فلیٹس کرائے پر حاصل کیے جہاں متاثرہ خواتین کو رکھا جاتا تھا۔
یہ معلومات مبینہ طور پر ایپسٹین فائلز سے حاصل کی گئی ہیں، جبکہ ان فلیٹس میں رہنے والی کم از کم 6 خواتین نے سامنے آ کر خود کو متاثرہ قرار دیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بعض خواتین کو دباؤ ڈال کر ایپسٹین کے نیٹ ورک کے لیے مزید لڑکیوں کو بھرتی کرنے پر مجبور کیا گیا، متاثرہ خواتین کو پیرس لے جانے کے لیے ٹرین سروس یورو اسٹار کے ذریعے سفر کروایا جاتا تھا اور ریکارڈ کے مطابق 2011ء سے 2019ء کے دوران کم از کم 53 ٹکٹ خریدے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایپسٹین خواتین سے سوشل میڈیا اور اسکائپ کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتا تھا، حتیٰ کہ اپنی غیر موجودگی میں بھی وہ ان پر اثر انداز رہتا تھا۔
فلیٹس کا کرایہ، اخراجات، ویزا اور دیگر سہولتیں بھی ان خواتین کو فراہم کی جاتی تھیں، تاہم ان رہائش گاہوں میں گنجائش سے زیادہ افراد رکھے جاتے تھے جس کے باعث بعض خواتین کو صوفوں پر سونا پڑتا تھا۔
مزید یہ کہ متاثرین جن کا تعلق زیادہ تر روس اور مشرقی یورپ سے بتایا گیا ہے، ان کو مبینہ طور پر برطانیہ لایا گیا جبکہ 2015ء میں ورجینیا جیوفری کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر برطانوی پولیس نے باضابطہ تحقیقات نہیں کیں۔
جیوفری نے الزام عائد کیا تھا کہ مجھے لندن میں اسمگل کیا گیا اور برطانوی شاہی شخصیت پرنس اینڈریو نے میرا استحصال کیا۔
برطانوی پولیس نے مختلف ادوار میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات بین الاقوامی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں، تاہم انسانی حقوق کی وکیل نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات پر فوری اور مؤثر تحقیقات ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے آرٹیکل 4 کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کیں، تاہم اس معاملے پر مزید سوالات اور تشویش بدستور موجود ہے۔