آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
سیاسی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا لیکن انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ 67سال گزرنے کے باوجود یہاں سیاسی اور جمہوری استحکام پیدا نہیں ہو سکا ہے ۔ اس وقت بھی جمہوری نظام کو درپیش خطرات اور غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کے امکانات پر باتیں ہو رہی ہیں ۔ ہمیں بحیثیت قوم سنجیدگی سے یہ سوچنا چاہئے کہ سیاسی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں قائم ہونے والی ریاست میں سیاسی اور جمہوری عدم استحکام کے اسباب کیا ہیں ۔ اگر ہم اپنی تاریخ کا عالمی تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیں تو سیاسی عدم استحکام کے دیگر اسباب بھی ہوں گے لیکن سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس قدر مضبوط اور منظم نہیں رہیں ، جس قدر انہیں ہونا چاہئے تھا ۔ پاکستان کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ پر طبقہ اشرافیہ نے قبضہ کرلیا اور اس جماعت کا اپنے کارکنوں اور عوام سے رابطہ ٹوٹ گیا ۔ اس کے بعد دائیں اور بائیں بازو کی کئی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں ، جن میں جماعت اسلامی ، نیشنل عوامی پارٹی ( نیپ ) ، عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی خاص طور پر قابل ذکر تھیں ۔ یہ جماعتیں مخصوص نظریات کی بنیاد پر وجود میں آئیں اور ان میں کچھ انتہائی منظم بھی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں اور عوام کے ساتھ تعلق کو اس حد تک برقرار نہ رکھ سکیں ، جس حد تک

غیر سیاسی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری تھا۔ قیام پاکستان کے تقریباً تین عشروں بعد کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) نامی سیاسی جماعت کی تشکیل کے لئے کام شروع ہوا ، جو پہلے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( اے پی ایم ایس او) کی صورت میں وجود میں آئی ۔ پھر اس سے مہاجر قومی موومنٹ اور بعد ازاں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) قائم ہوئی ۔ ایم کیو ایم سے کسی کو نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایم کیو ایم ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے ، جس کا نہ صرف نظم و ضبط مثالی ہے بلکہ اس کا اپنے کارکنوں اور عوام کے ساتھ ایک گہرا رشتہ طویل عرصے سے برقرار ہے ، جس کی بنیاد اعتماد اور وسیع تر مشاورت ہے ۔ پاکستان میں ایسی مضبوط سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں سیاسی ادارے تب مضبوط ہوں گے ، جب سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی ۔
اس وقت ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں ایسی ہیں ، جن میں عہدیدار اور کارکن اپنی قیادت سے بوجوہ مایوس ہیں اور ان کے اور قیادت کے درمیان ایک خلیج موجود ہے ۔ عہدیداروں اور کارکنوں کی قیادت تک رسائی نہیں ہے ۔ اس لئے وسیع تر مشاورت اور مختلف معاملات پر اتفاق رائے بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کارکنوں اور عوام سے کوئی موثر رابطہ بھی نہیں ہے ۔ اس لئے مجموعی طور پر پاکستان میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کو روکنے کے لئے کوئی مزاحمت بھی موجود نہیں ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی جن کمزوریوں کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے ، ان کمزوریوں پر ایم کیو ایم نے بہت حد تک قابو پایا ہوا ہے ۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور کراچی کمیٹی پالیسی ساز فیصلے کرنے میں جس قدر با اختیار اور موثر ہیں ، اس قدر کسی دوسری سیاسی جماعت کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیاں ( سی ای سیز ) وغیرہ نہیں ہیں ۔ پھر رابطہ کمیٹی اور کراچی کمیٹی کا پارٹی کی تنظیم ، ذیلی تنظیموں اور عہدیداروں کے ساتھ جو با مقصد اور موثر رابطہ ہے ، وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کی سی ای سیز یا صوبائی کونسلز کا نہیں ہو گا ۔ کسی بھی اہم ایشو پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی جس طرح ہنگامی طور پر اجلاس بلا کر وسیع تر مشاورت کے بعد متفقہ موقف اختیار کرتی ہے ، اس طرح کوئی بھی سیاسی جماعت ہنگامی اور وسیع تر مشاورت کا راستہ اختیار نہیں کرتی ۔ دوسری سیاسی جماعتوں میں فیصلے صرف پارٹی قیادت ہی کرتی ہے ۔ ایم کیو ایم میں وسیع تر مشاورت کے بعد جو فیصلے کیے جاتے ہیں ، انہیں سب تسلیم کرتے ہیں اور اگر کوئی غلط فیصلہ بھی ہو جائے تو اس کے ذمہ دار بھی سب ہوتے ہیں ۔ اس لئے پارٹی میں اختلاف اور انتشار کی گنجائش کم رہ جاتی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر اس سے بہتر جمہوری طریقہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ ایم کیو ایم کی ایک اور خصوصیت بھی ہے ، جو اسے دوسری سیاسی جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اگر کوئی فیصلہ مشکل ہو تو نہ صرف کارکنوں کا جنرل باڈی اجلاس ہنگامی طور پر بلا لیا جاتا ہے بلکہ ہنگامی طور پر جلسہ عام بھی منعقد کر لیا جاتا ہے تاکہ کارکنوں اور عوام کو وسیع تر مشاورت میں شریک کیا جا سکے ۔ اس جمہوری عمل کی وجہ سے کارکنوں اور ایم کیو ایم کے حامیوں کا ایم کیوا یم کے ساتھ اعتماد کا رشتہ طویل عرصے سے برقرار ہے ۔ ایم کیو ایم نے اپنا ایک تھنک ٹینک بھی قائم کر رکھا ہے اور ایک انتہائی جدید ریسرچ نیٹ ورک بھی موجود ہے ۔ تھنک ٹینک اور ریسرچ نیٹ ورک پارٹی کو اپنے تجزیئے اور انفارمیشن فیڈ کرتا رہتا ہے ۔ یہ بھی ایم کیو ایم کے ایک منظم جماعت ہونے کا ایک ممتاز پہلو ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم میں محنت ، قابلیت اور قربانیوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا ایک میرٹ سسٹم موجود ہے ، جو اکثر سیاسی جماعتوں میں نہیں ہے ۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کا بہت خیال رکھتی ہے ۔ سیاسی جدوجہد کے دوران ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں ۔ ایم کیو ایم ان کے ورثاء اور اہل خانہ کی مسلسل دیکھ بھال کرتی ہے ۔ کسی دوسری سیاسی جماعت میں ایسا نہیں ہو گا کہ ہزاروں خاندانوں کی مستقل بنیادوں پر کفالت کی جائے ۔ ایم کیو ایم اپنے ہزاروں کل وقتی کارکنوں کی بھی کفالت کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن اس کی بہت بڑی طاقت ہیں ۔ وہ ایک گھنٹے کے اندر ہزاروں افراد کا جلسہ منعقد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ وہ حادثات اور آفات میں ایک منظم فورس کی حیثیت سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ 2005ء میں زلزلے میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی اس حیرت انگیز صلاحیتوں کا دنیا بھر نے اعتراف کیا ۔ ایم کیو ایم کے رضا کاروں میں فیلڈ اسپتال ، ڈسپنسریاں ، بلڈ بینک اور خیموں کے شہر آباد کیے ۔ ایم کیو ایم نے اپنے مالیاتی وسائل سے کئی ماہ تک ان کیمپوں میں متاثرین کی کفالت کی ۔ 2010ء کے سیلاب میں بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں نے دوسری سیاسی جماعتوں سے زیادہ کام کیا ۔ آج بھی آئی ڈی پیز کے بحران سے نمٹنے کے لئے ایم کیو ایم کے کارکن اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ انتہا پسندی کے خلاف بھی ان کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے ۔ کارکنوں ، عہدیداروں اور عام لوگوں کی پارٹی قیادت تک مکمل رسائی کا ایک نظام موجود ہے ، جو کسی اور جماعت میں نہیں ہے ۔ اگر ہمیں پاکستان میں اپنے سیاسی اداروںکو مستحکم بنانا ہے اور غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے تو ایم کیو ایم سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود دوسری سیاسی جماعتوں کو ایم کیو ایم کی طرح مضبوط اور منظم بنانا ہو گا۔