• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور خلیجی ریاستوں میں مذاکرات کیوں نہیں

حرم پاک بھی، اللّٰہ بھی، قران بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی

ایک دو سال سے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بربریت اور خاص طور پر 28فروری سے چھڑی جنگ کے بعد سے اقبال بار بار یاد آتے ہیں ہم نے خود روزہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جو مناجات پیش کی تھیں ان میں بھی عرض کیا تھا۔

لے کے آیا ہوں مناجات مدینے والے

ٹھیک ہوتے نہیں حالات مدینے والے

کفر تو ملتِ واحد ہے ،منظم بھی ہے

ہوں مسلمان بھی اک ساتھ مدینے والے

مسلمانوں کے اتحاد کیلئے جتنی تحقیق کریں مایوسی بڑھتی جاتی ہے اس کے اسباب تلاش تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کا اظہار نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کیلئے سخت تعزیریں ہیں ایسے ایسے وسوسے اور خدشے ذہن میں بٹھا دیے گئے ہیں کہ محقق لرز اٹھتا ہے بہت کوششیں نظر آتی ہیں، ادارے وجود پاتے دکھائی دیتے ہیںلیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ان میں سے کوئی سامنے نہیں آتا ۔پھر مسلمان دولت مند امریکی چھتری سر پر اُٹھائے نظرآتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں نے ادارے نہیں بنائے۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سےمسلمانوں کے بکھرنے کی تاریخ پڑھتے جائیں۔ کہیں قبیلوں کے نام پر بانٹا گیا کہیں اپنے منظور نظر افراد کو مسلط کیا گیا۔ 1960 کی دہائی تک سب سے زیادہ سرگرم برطانیہ رہا ۔پھر امریکہ نے اپنے پر پھیلانا شروع کیے اور مسلمانوں کو اپنے سائے میں سمیٹتا چلا گیا۔ نہر سویز پر اختیارات کی جنگ 1956 میں لڑی گئی ۔اس وقت کے وزیراعظم پاکستان حسین شہید سروردی سے بیان منسوب کیا جاتا ہے۔ صفر +صفر برابر= صفر۔مسلمانوں کا اتحاد بے معنی ہے۔ یہی جملہ مصر کےسعد غول سے بھی وابستہ کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج تک ہوا یہی ہے۔1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے ذریعے کچھ مسلمان ریاستوں نے سر اٹھایا تو اسلام دشمنوں نے ان ممالک کے سربراہوں کے، اندرونی طاقتوں کے ذریعے ہی سرکردہ مسلمان لیڈروں شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو، انور سادات سوئکارنو کے تختے الٹے ،قتل کیا اور آخر میں معمر قذافی کی دردناک موت ۔حالیہ جنگ نے پھر مسلمانوں میں عسکری سیاسی سماجی اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے ۔ اس پرآج کی نسل کو غور کرنا چاہیے۔ یہ بھی عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ ایسا سوچنا ہی غیر حقیقت پسندانہ ہے ،مذہب کی بنیاد پر حکمرانی نہیں چلتی ہے اصل مسئلہ معیشت ہے، دولت ہے تو دولت کے حوالے سے بھی مسلمان ملکوں میں کوئی کمی نہیں ، زیادہ مسلمان ممالک افریقہ میں ہیں وہاں معدنی دولت کی قلت نہیں لیکن کوئی اسلامی مشترکہ ادارہ ایسا نہیں ہے جو ان ملکوں میں سونے ،تانبے ،یورینیم اور ان جیسی دوسری قیمتی دھاتوں، پتھروں کی دریافت اور ایکسپورٹ کیلئے کوشش کرے۔ اس پر چین ،روس ،امریکہ ہی متحرک دکھائی دیتے ہیں کہنے کو تو سب کہتے ہیں اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔ لیکن دولت مند اسلامی ممالک واشنگٹن کی رسی کو ہی مضبوطی سے تھامے ہوئے دکھائی دیتےہیں جو ان سے کوسوں دور ہے۔ دیوار بہ دیوار مسلمان ہمسائے آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ایک دوسرے کی ذہانت شعور اور وسائل سے استفادہ نہیں کرتے۔ فلسطین کے ہزاروں مظلوم 1948سے اپنی شناخت اپنے خاندان کی کفالت کیلئے لڑ رہے ہیں دولت مند اسلامی ممالک فلسطینیوں کو انکے حقوق، ریاست کی خود مختاری نہیں دلوا سکے۔ فلسطین کے حق میں سلامتی کونسل میں ہر قرارداد کو ویٹو کرنیوالے، اقوام متحدہ کو عملا ً ناکارہ بنانیوالے واشنگٹن کی خوشنودی دولت مند اور طاقتور اسلامی حکمرانوں کی اولین فطرت ہے۔ 1948سے کشمیری اپنے حقوق اور آزادی کیلئے لڑتے آ رہے ہیں لیکن انکے حقوق غصب کرنیوالے بھارت سے سب اسلامی ملکوں کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ حالیہ جنگ میں ایران، ایک مسلم ملک پر جب امریکہ اور اسرائیل حملہ آور ہوئے تو اسلامی ملکوں کی تنظیم کہاں رہی، ایران نے جواباً خلیج کے ملکوں پر میزائل داغے کے وہاں امریکی اڈے ہیں ۔یہ بھی سب اسلامی ممالک ہیں تو او آئی سی کہاں تھی۔ اوآئی سی کے 57 اسلامی ممالک ممبر ہیں اس کے بعد 1981ءسے قائم خلیجی ملکوں کی کونسل ہے ۔اس کا ہیڈ کوارٹر بھی ریاض ہے۔2000ءمیں ان ریاستوں نے اپنا ایک Joint defence agreement کیا جس میں یہ طے کیا گیا کہ کسی ہنگامی موقع پر خلیج کی چھ ریاستیں مشترکہ انتظام اور دفاع کریں گی پھر انہیں خلیج کے باہر کے ملکوں سے مصر، پاکستان، ترکی کی طاقتور فوجوں کی مدد کا بھی لکھا گیا۔ اس وقت خلیجی ملکوں کا دفاعی معاہدہ بھی حرکت میں نہیں آیا۔اسکے بعد

The Islamic Military

Counter Terrorism Coalition

جنوری 2017ءمیں قائم کیا گیا ۔ 41ممبر ہیں۔ ہیڈ کوارٹر اس کا بھی ریاض میں ہے ۔ان میں نمایاں ممالک سعودی عرب ،بحرین، بنگلہ دیش، جبوتی، مصر ،گبون ،گنی ،اردن ،کویت ،لبنان ،ملائشیا ،مالدیپ ،مالی، ماریطانیہ، نائجر، نائجیریا ،مسقط، پاکستان ،فلسطین، قطر ،سنیگال، سیرالیون ،صومالیہ، سوڈان، ٹوگو، تیونس ترکی، یمن، موزمبیق ا وریو اے ای ہیں ۔ان 41 میں سے سات ممالک ایک عرصے سے انتشار کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب خلیجی ممالک بھی جارحیت کا شکار ہیں تو یہ الائنس بھی حرکت میں کیوں نہیں آیا ۔ایران پر امریکہ اسرائیل کے حملوں کے بعد مذاکرات کے دوران ہم نے عرض کیا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس کی ثالثی کو عالمی سطح پر اسی لیے اہمیت بھی مل رہی ہے ۔یہی ثالثی پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت اپنے ہمسائے ایران اور خلیجی ملکوں سعودی عرب ،کویت ،بحرین ،قطر، متحدہ عرب امارات اور مسقط کے درمیان مخاصمت دور کرنے کی کوشش کرے ۔مجموعی طورپر یہ خلیجی ممالک کے سات کروڑ انسانوں کا تحفظ ہوگا جس میںکئی لاکھ پاکستانی بھی ہیں۔ کویت 35 بلین ڈالر، بحرین چار بلین ڈالر، قطر 71 بلین ڈالر، متحدہ عرب امارات 28 بلین ڈالر، مسقط 16 بلین ڈالر اور سعودی عرب 451 بلین ڈالر کے محفوظ ذخائر رکھتاہے ۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے پیشہ ور افواج ہیں اور اگر ترکی اور مصر بھی ساتھ ہوں تو یہ ایران کو اسرائیل کے مقابلے میں اور خلیجی ممالک کو ایران کے خدشات سے تحفظ فراہم کر سکتےہیں ۔اگر خلیجی ممالک، سعودی عرب متحدہ ،عرب امارات ،قطر ،بحرین ،کویت اور مسقط پاکستان ترکی اور مصر کی فوجی چھتری تلے ہوں گے تو اسرائیل کو بھی جرات نہیں ہوگی کہ وہ کسی اسلامی ملک پر حملہ کر سکے بلکہ وہ مظلوم فلسطینیوں پر ظلم بھی نہیں کر سکے گا ۔لبنان کی سرحدیں بھی پار کرنے کی ہمت نہیں ہوگی ۔حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب کمزور طاقت ہے وہ 10ہزار میل دُور سے تحفظ نہیں کر سکتا وہ صرف اسرائیل کی سرپرستی کرتا ہے۔ تاریخ عمومی اور تاریخ اسلامی بار بار للکار رہی ہے کہ پاکستان ،ترکی، مصر اور ملائشیا ایران اور خلیجی ریاستوں میں مفاہمت کیلئے اتنی ہی سر توڑ کوششیں کریں جتنی انہوں نے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے کی ہیں۔

تازہ ترین