2008ء کے معاشی بحران میں ایک بہت ہی اہم عنصر توانائی بحران تھا ۔ اس وقت پیٹرول کی فی بیرل قیمت ایک سو سنتالیس ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو آج کے اعتبار سے ایک سو نوے ڈالر بنتی ہے ۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو فاتح بیرول نے آبنائے ہُرمز کی جاری صورتحال کو توانائی کی سلامتی کے حوالے سے تاریخ کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ صورتحال ماضی کے توانائی بحرانوں مثلاً1973، 1989اور 2022ءسے کہیں زیادہ سنگین ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان جو اس بحران سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور اگر معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو شدید متاثر ہوگا ،حکومت نے اس حوالے سے کیا پیش بندی کر رکھی ہے ۔ یہ گفتگو یورپی یونین اور پاکستان کے بزنس فورم میں شرکت کیلئے آئے یورپی دوستوں نے ایک ملاقات میںکی ۔ اس بات کی بھی یورپ میں بہت تشویش پائی جاتی ہے کہ پاکستان اپنی معاشی صورتحال کو اس طرح سے ترقی دینے کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا جیسا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت موجود ہے اور اسی طرح سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہیں ہو پا رہی اور جب ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو لا محالہ شرح ترقی پر اسکے منفی اثرات مرتب ہوتے چلے جائینگے ۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ صرف دہشت گردی یا لا قانونیت کو سرمایہ کاری کے راستے میں دیوار قرار نہیں دیا جا سکتا۔یورپی دوستوں کا یہ خیال ہے کہ بد امنی ، لاقانونیت اور دہشت گردی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ کسی نہ کسی شکل میں دنیا بھر میں موجودہے ۔ اس وجہ سے اسکو مورد الزام ٹھہرانا درست نتیجہ نہیں۔ سرمایہ کار کیلئے سب سے اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہاں پر اپنا سرمایہ لگا رہا ہے وہاں پر اس کا سرمایہ مکمل طور پر محفوظ ہونا چاہئے مگر پاکستان میں اس بابت صورتحال یہ ہے کہ قوانین ناقص ہیں جسکی وجہ سے اگر کوئی معاملہ اختلاف میں پڑ جائے اور قانونی عمل شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے کہ اس سے گلو خلاصی ممکن ہوپائے ۔ پھر جو قوانین موجود بھی ہیں ان پر بھی انکی روح کے مطابق عملدرآمد کی رفتار بہت سست روی کا شکار ہوتی ہے ۔ افسر شاہی کے مزاج سے تو ہم سب واقف ہی ہیں اور افسر شاہی اپنا یہ مزاج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی دکھانے سے باز نہیں آتی ،جو ظاہر ہے کہ ان کیلئے ایک ناقابل قبول رویہ ہوتا ہے ۔ یورپی یونین اور پاکستان کے اس بزنس فورم میں جی سیون ممالک میں سے ایک ملک تو ایسا ہے کہ وہاں سے صرف چار کمپنیوں نے شرکت کی اور یہ چاروں کمپنیاں پہلے سے ہی پاکستان میں مصروف عمل ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے یورپی یونین میں کس حد تک چاہت پائی جاتی ہے ۔ اور اس عدم چاہت کی بنیادی وجہ قانونی امور ہی ہیں ۔ اصولی طور پر تو یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قانونی امور کو بہتر طریقے سے نمٹائے۔ مگر کیونکہ ابھی تک یہ تمام مسائل جوں کے توںہیں اسی وجہ سے ان یورپی افراد نے مناسب خیال کیا کہ یہ چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی ملاقاتیں کریں ۔ معاملہ بالکل شفاف ہے کہ جب تک پاکستان میں قانونی اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور سرمایہ کار کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ اگر کوئی اختلاف ہو گیا تو کتنے عرصے میں عدالتی عمل مکمل ہو سکے گا اور اس عدالتی فیصلے پر بھی اس کی روح کے مطابق عمل درآمد ہوگا یا نہیں تو اس وقت تک پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور یہ مسائل صرف یورپی یونین تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر ملک کے سرمایہ کاروں کو اس حوالے سے مشکلات درپیش ہوتی رہتی ہیں ۔ ابھی ہمارے سامنے کی بات ہے کہ گدھے کے گوشت کے چین کو ایکسپورٹ کرنے پر مسائل سامنے آئے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ معاملات کو سنبھالنے کیلئے ایوان وزیر اعظم کو خود حرکت میں آنا پڑا حالانکہ اس بابت تفصیلات ایک عرصہ ہوا طے ہو چکی تھیں اور یہ افسر شاہی والے معاملات کوئی صرف آج تک ہی محدود نہیں ہیں ۔ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو اس وقت جاپان کے سفارتخانے نے مجھ سے پاکستانی آم کی ایکسپورٹ کے مسئلے پر رابطہ قائم کیا تھا ، معاملہ یہ تھا کہ جاپان میں پاکستانی آم کو ایکسپورٹ کیلئے ایک خاص مشين سے صاف کرکے بھجوانا تھا ۔ جاپانی یہ مشین خود لیکر آ گئے تھے مگر اسکی تنصیب میں روڑے اٹکا دیے گئے ۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں اس معاملےکو وزیر اعظم نواز شریف کے علم میں لائوں پھر جب یہ معاملہ وزیر اعظم نواز شریف کے علم میں آیا تو مسئلہ حل ہو سکا ۔ اب یہ تو سامنے کی بات ہے کہ ہر معاملے کو وزیر اعظم کی سطح پر نہ تو لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی لایا جانا چاہئے بلکہ اس کیلئے مؤثر قوانین کی تشکیل اور انکے بھرپور نفاذ کو یقینی بنایا جانا چاہئے کیوں کہ اس کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری تو کیا ملکی سرمایہ کاری کو بھی حرکت میں لانا ممکن نہیں ۔ سرمایہ کا تحفظ کاروبار کی بنیادی شرط ہے ۔