وفاقی آئینی عدالت میں آن لائن بینک فراڈ سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے نجی بینک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے شہری کی رقم واپس کرنے کی ہدایت برقرار رکھی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سارے ہیکرز بینکوں کے سسٹم کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں، اکاؤنٹ بعد میں کھلتا ہے لیکن ہیکرز کے پاس ڈیٹا پہلے پہنچ جاتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میرا بھی ایک نجی بینک میں اکاؤنٹ تھا، مجھے بھی فراڈ کی کال آئی تھی، مجھے کہا گیا کہ او پی ٹی آیا ہے، وہ شیئر کریں ورنہ اکاؤنٹ بلاک ہو جائے گا، تین چار سال سے اکاؤنٹ میں کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی تھی تو کہہ دیا کہ بند کردیں۔
عدالت نے بینکنگ سیکیورٹی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو محفوظ بنائیں تاکہ شہریوں کی رقوم محفوظ رہ سکیں۔
وکیل نجی بینک نے کہا کہ شہری نے خود اپنی ایپ سے ٹرانزیکشن کی تھی، شہری کا موقف ہے کہ اس کا نمبر چوری ہوگیا تھا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بینکنگ محتسب، صدر مملکت اور ہائیکورٹ نے بینک کےخلاف فیصلہ دیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے نجی بینک کی اپیل خارج کر دی۔
خیال رہے کہ لیہ کے رہائشی کے اکاؤنٹ سے 2022 میں15 لاکھ 34 ہزار روپے نکال لیے گئے تھے۔