ایرانی فوج کے ترجمان محمد امر اکرمینیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملوں کا سلسلہ روکنے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کردی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں سے اپنے حملے روک دیے، چونکہ ہماری حکمتِ عملی مکمل طور پر جوابی کارروائیوں پر مبنی تھی، اس لیے ہم نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی حکام بظاہر اندرونی اختلافات کا شکار ہیں اور ان کے پاس واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی سرگرمیوں کا حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکمتِ عملی خود امریکی حکام کے لیے بھی واضح نہیں ہے جس کا اندازہ امریکی عہدیداروں بالخصوص صدر کے بیانات اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع پہلے ہی باب المندب آبنائے تک پھیل چکا اور اگر امریکا نے حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔