• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرہ ارض پر مغرب کی بالادستی کا دورختم اور مشرق کے عروج و اقبال کا سورج بلند ہورہا ہے۔ یہ دعویٰ کسی کا بھی ہو عالمی منظر نامے پر تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں کی روشنی میں بالکل درست نظر آتاہے۔ اس کا ایک غیرمعمولی مظاہرہ پچھلے چند دنوں میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے سربراہ ولادی میر پیوٹن کے دورہ چین کی شکل میں ہوا۔ صدر ٹرمپ بیجنگ سے جس کیفیت میں لوٹےفیض احمد فیض ؔ نے اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچ رکا ہے کہ

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے

عالمی میڈیا اس دورے کی ناکامی کی تفصیلات سے بھرا پڑا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ تجارت و معیشت سمیت جن معاہدوں کی توقع واشنگٹن کو بیجنگ سے تھی ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہوا۔حالانکہ یہی صدر ٹرمپ کچھ ہی مدت پہلے جب دوسری بار اپنے ملک کے سربراہ بنے تو اُن کے زعم اور طنطنے کا عالم یہ تھا کہ پوری دنیا کو ڈرا رہے تھے کہ وہ جس ملک پر چاہیں فوج کشی کرسکتے ہیں اور اس عمل سے انہیں ان کے اپنے دماغ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔

انہوں نے چین ہی نہیں اپنے مغربی اتحادیوں تک کی برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کرکے یہ تاثر دیاکہ گویا سب اب تک امریکہ کے پیسوں پر پل رہے تھے ۔ اسی ترنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر میزائل برسا دیے اس یقین کے ساتھ کہ تہران ان کی جھولی میں پکے آم کی طرح آ گرے گا لیکن بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود ایران کے لوگ انکل سام کیلئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے اور جو سپر پاور ویت نام اور افغانستان میں برسوں کی لڑائی کے بعد پسپائی پر مجبور ہوئی تھی، ایران کے مقابلے میں دنوں اور ہفتوں میں جنگ کے بجائے مذاکرات کی خواستگار ہوگئی ۔ پاکستان نے عالمی امن کی خاطر ایران اور امریکہ کو جنگ کے میدان کے بجائے مذاکرات کی میز پراپنے اختلافات طے کرنے پر تیار کرنے کی خاطر سفارت کاری کا سلسلہ شروع کیا جو پہلے ہی مرحلے میں کامیابی کی منزل تک پہنچ گیا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے خود کو فاتح ثابت کرنے کی خاطر ایران کو دھمکیاں دینے کا راستہ اپنایا تاہم ایرانی قیادت نے اپنی خودداری و خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا باعزت رویہ اختیار کرکے امریکہ کیلئے مزید سبکی کا سامان کردیا۔یہی سبب ہے کہ پچھلے دور صدارت میں ٹرمپ کا دورہ چین جتنا کامیاب رہا تھا، اس بار نتائج اس کے بالکل برعکس رہے۔ اس مدت میں چین نے جنگی مہارت اور اسلحہ سازی کے ساتھ ساتھ معیشت کے میدان اور عالمی اثر و رسوخ میں بھی بے پناہ ترقی کرلی۔

اس صورت حال میں صدر ٹرمپ کا دورہ چین ناکام ہونا ہی تھا کیونکہ اب وہ ایک ایسی عالمی طاقت کے نمائندے تھے جوبلند چوٹی سے نیچے لڑھک رہی ہے جبکہ چین مسلسل نئی بلندیوں کی جانب رواں دواں ہے۔اس حوالے سے روس کا بھی چین سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سوویت یونین نے فوج کشی کے ذریعے اپنی حدود کو اگرچہ بہت وسیع کرلیا تھا اور جنگی طاقت کے اعتبار سے بھی امریکہ کا ہم پلہ تھا لیکن کھلے جبر پر مبنی ہونے کے باعث اس کا نظام سات عشروں ہی میں زمیں بوس ہوگیا۔یوں امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور بن کر امریکی بالادستی پر مبنی نیوورلڈ آرڈر کا راگ الاپنے لگا۔

درپیوٹن نے روس کے حالات بہتر بنانے میں اگرچہ بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن سوویت یونین کے دور سے آج کے روس کا کوئی مقابلہ نہیں۔چنانچہ ان کا دورہ چین اگرچہ متعدد معاہدوں پر منتج ہوا لیکن اپنے قومی مفاد کے حوالے سے جن بڑی کامیابیوں کی توقع روسی قیادت کو تھی وہ حاصل نہیں ہوئیںکیونکہ بیجنگ اب ہر حوالے سے ماسکو سے کہیں آگے ہے اور کسی کیلئے ممکن نہیں کہ اس کی مرضی کے خلاف اس سےکوئی مطالبہ منوا سکے ۔ اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ چینی قیادت نے پوری قوم کی شرکت کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت ، زراعت، تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اور تمام محاذوں پر ترقی کی مسلسل اور انتھک جدوجہد جاری رکھی اور اپنا نظام جبراً دوسروں پر مسلط کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، نتیجتاً آج یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب دنیا کی قیادت چین اور اس کے اتحادی ملکوں کے ہاتھوں میں آنے والی ہے ۔

پاکستان چین کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ دونوں کی دوستی لازوال ہے۔بھارت کو شکست فاش دے کر اور ایران امریکہ جنگ میں سب کے نزدیک معتبر ثالث کا مقام حاصل کرکے پاکستان نے غیرمعمولی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرانے میں بھی چین اور پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیاہے، چین کی حمایت کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی کے ایک دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے امکانات روشن ہیں ۔

یہ سب عالمی قیادت کے مغرب سے مشرق کو منتقل ہونے کی کھلی علامات ہیں اور اس میں ان شاء اللہ پاکستان بھی کلیدی اہمیت کے مقام پر فائز ہوگا جس کا ایک واضح اشارہ یہ ہے کہ ٹرمپ اورپیوٹن کے دورے کے فوراً بعد چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے سے وزیراعظم پاکستان چین کا دورہ کریں گے جس میں ایران امریکہ مذاکرات سمیت انتہائی اہم عالمی امور پر بات ہوگی۔ پاکستان کیلئے پچھلے سوا سال میں اقوام عالم میں سربلندی کی راہوں کا یوں کشادہ ہوجانا یقیناً اس رب جلیل کی خصوصی کرم فرمائی ہے جسکے نام پر یہ ملک بنا تھا لیکن عالمی سطح پر پیدا ہونے والے مواقع اسی صورت میں کارگر ثابت ہوں گے جب داخلی محاذ پر بھی معاملات ٹھیک کیے جائیں جن میں ہر قسم کی کرپشن کا خاتمہ، تمام معاملات میںمیرٹ اور شفافیت کا مکمل اہتمام ،تعلیمی نظام کا جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جانا اور تمام شہریوں کیلئے انصاف کی فوری اور ارزاں فراہمی کا یقینی بنایا جانا لازمی ہے۔

تازہ ترین