• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری ایک ایسا شعبہ ہے جو نہ صرف اس خطے کی تہذیب اور فن سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس نے گزشتہ 79 سال کے دوران ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کی فراہمی، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر میں ہاتھ سے تیار کردہ لکڑی کے پاکستانی فرنیچر کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہنرمند کاریگر نسل در نسل اپنی مہارت اور ثقافتی ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس شعبے کی اصل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں فرنیچر انڈسٹری کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیتے ہوئے اسکی ترقی کیلئے جامع اور دیرپا پالیسی اقدامات کرے۔

پاکستان فرنیچر کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے راقم نے ہمیشہ اس شعبے کی بہتری کے لئے ہر حکومت کو تجاویز دی ہیں۔ اس مرتبہ بھی بجٹ سے پہلے میں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں انہیں اس شعبے کی برآمدی صلاحیت اور فرنیچر انڈسٹری کو درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری فرنیچر انڈسٹری برآمدات بڑھانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کے لیے حکومت کی پالیسی سپورٹ، کم شرح سود پر قرضوں کی آسان فراہمی اور کاروبار دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اب بھی زیادہ تر غیر رسمی شعبے پر مشتمل ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے محدود وسائل کے ساتھ روایتی انداز میں کام کر رہے ہیں جبکہ دنیا جدید مشینری، خودکار پیداواری نظام، ڈیزائن ریسرچ اور برانڈنگ کی طرف بڑھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹلی، چین، ویتنام، ترکی اور ملائشیا جیسے ممالک جدید ٹیکنالوجی اور مربوط سپلائی چین کی بدولت عالمی مارکیٹ میں چھائے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں پیداواری لاگت بڑھنے، مالی وسائل تک محدود رسائی اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے یہ شعبہ مسابقت میں پیچھے رہ گیا ہے۔

ایسے حالات میں حکومت کو نئے مالی سال 27-2026ء کے بجٹ میں سب سے پہلے فرنیچر انڈسٹری کے لیے خصوصی ایکسپورٹ پیکیج متعارف کروانا چاہیے۔ اس کے تحت کم شرح سود پر قرضے، جدید مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں رعایت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے آسان فنانسنگ اسکیمیں متعارف کروائی جانی چاہئیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر کمرشل بینک فرنیچر انڈسٹری کو قرضوں کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں مارک اپ کی شرح بھی اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام کاروباری شخص بینکوں سے قرض حاصل کرنے سے گھبراتا ہے۔اس کیساتھ ساتھ بینکوں سے قرضوں کے حصول کا طریقہ کار بھی اس قدر پیچیدہ ہے کہ اسکے لوازمات پورے کرنا عام کاروباری بندے کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسلئے اگر حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں فرنیچر انڈسٹری کیلئے ایکسپورٹ فنانسنگ تک آسان رسائی فراہم کرے تو مقامی فرنیچر مینوفیکچررز جدید ٹیکنالوجی اختیار کرکے اپنی پیداواری صلاحیت اور معیار مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

اسی طرح خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں کمی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نرمی بھی ضروری ہے ۔ فرنیچر انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ حکومت پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے بجلی، گیس اور دیگر صنعتی سہولیات پر خصوصی رعایت دے۔ مجوزہ بجٹ میں فرنیچر ڈیزائن اور ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹس کے قیام کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہزاروں نوجوان اور خواتین اس شعبے سے وابستہ ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انہیں جدید ڈیزائننگ سافٹ ویئر، مشینری اور ویلیو ایڈیشن کی تربیت فراہم کی جائے۔ اس سے نہ صرف ہنر مند افرادی قوت تیار ہو گی بلکہ پاکستانی فرنیچر عالمی رجحانات کے مطابق ڈیزائن اور معیار کے میدان میں بھی بہتر مقام حاصل کر سکے گا۔ اس کے علاوہ حکومت کو ’’میڈ اِن پاکستان فرنیچر‘‘برانڈ کے فروغ کے لیے بین الاقوامی نمائشوں، تجارتی میلوں اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ پاکستانی فرنیچر اپنی مضبوطی، قدرتی لکڑی اور ہاتھ کی نفیس کاریگری کے باعث عالمی منڈی میں منفرد مقام حاصل کر سکتا ہے لیکن برانڈنگ، پیکیجنگ اور سرٹیفیکیشن کی کمی اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا نئی ابھرتی ہوئی منڈیاں ہیں جہاں متوسط طبقے کے پھیلاؤ کے باعث فرنیچر کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لئے اگر حکومت ان ممالک سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کرنے کے ساتھ ساتھ، لاجسٹکس اور برآمدی سہولیات کو بہتر بنائے تو ان ممالک میں بھی پاکستانی فرنیچر کی مانگ اور مسابقت میں اضافہ ہو گا۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ پاکستان فرنیچر کونسل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع پالیسی فریم ورک تیار کرے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست مواد، ڈیزائننگ میں اختراع کو فروغ دے کر عالمی معیار کے مطابق ٹھوس بنیادوں پر پیداواری نظام تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں نجی شعبے کو بھی صرف روایتی انداز پر انحصار کرنے کے بجائے جدت، تحقیق اور برانڈنگ کی طرف آنا ہو گا۔ اگر حکومت نئے بجٹ میں ان تجاویز پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرنے کیلئے اقدامات کرے تو فرنیچر انڈسٹری نہ صرف پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ یہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنرمندی کے فروغ اور ملک کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس طرح یہ محض ایک صنعتی شعبے کی ترقی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان میں وسیع تر معاشی تبدیلی اور پائیدار اقتصادی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

تازہ ترین