پاکستانی معیشت اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر ایس اینڈ پی گلوبل نے مارکیٹ انٹیلیجنس رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مانیٹری پالیسی آئندہ بھی محتاط رہنے کا امکان ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری ہے مگر مہنگائی اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ مہنگائی، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلی بڑے معاشی خطرات ہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 27-2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل کا کہنا ہے کہ دسمبر 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 19.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ مضبوط ترسیلات زر سے بیرونی مالیاتی صورتحال مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود رہنے کی توقع ہے۔
پرنسپل اکانومسٹ ایس اینڈ پی گلوبل احمد مبین کا کہنا ہے کہ قرض ادائیگیوں کے باعث مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے باوجود اسٹیٹ بینک سے محتاط مانیٹری پالیسی جاری رکھنے کی توقع ہے۔ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی معاشی منظرنامے پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
احمد مبین کے مطابق اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل معاشی منظرنامے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔