• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برصغیر پاک و ہند کے نامور دانشور، ادیب وصحافی الطاف حسن قریشی بھی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گئے انہوں نے 93سال عمر پائی۔وہ کافی عرصہ سے صاحب فراش تھے اورعلالت کے باعث انہوں نے اپنی مصروفیات محدود کر دی تھیں تاہم میرا ان سے فون پر رابطہ رہتا تھا۔ الطاف حسن قریشی کی وفات سے ایک عہد تمام ہوا ۔ میں نے مارچ 1970ء میں اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز روزنامہ جسارت ملتان سے کیا جسکے مدیراعلیٰ الطاف حسن قریشی تھے۔یوں میں انکی ’’شا گردی ‘‘میں آگیا۔ جب ان نئی کتاب شائع ہوتی تو وہ یہ کہہ کر کہ ’نواز رضا میرے شاگرد خاص ہیں ان کا حق بنتا ہے ‘ پبلشر قلم فائونڈیشن کے سربراہ عبدالستار عاصم کے ہاتھوں بھجوا دیتے۔ روزنامہ جسارت کراچی کے اجرا کے بعد میں اسلام آباد میں خدمات انجام دینے لگا اس دور میں الطاف حسن قریشی سے قربت حاصل ہوئی جو انکی وفات تک قائم رہی میں انکو اکثر اوقات تقریبات میں مدعو کرتا۔ وہ اسلام آباد تشریف لاتے تو فون پر اپنی آمد کی اطلاع دے دیتے اور میں انکی خدمت میں حاضر ہو جاتا۔ جب تک میجر ضمیر جعفری زندہ رہے وہ اسلام آباد میں انکے یا میجر مصطفیٰ شاہین کے ہاں قیام کرتے۔ ان سے قربت کا یہ عالم تھا کہ جب 1989ء میںشہدائےبہاولپور کی یادمیں راولپنڈی میں پہلی بڑی تقریب منعقد ہوئی تو انہوں نے میرے انکار کے باوجود نہ صرف مجھے اس تقریب کی نظامت سونپ دی بلکہ تقریب کے دعوت نامے پر متمنی شرکت کے طور پر میرا نام شائع کر دیا۔ الطاف حسن قریشی درویش صفت صحافی تھے میں ان کواپنی ایف ایکس گاڑی پرچکلالہ ائیرپورٹ سے آرمی ہائوس لے کر آیا جہاںجنرل ضیاء الحق کی فیملی قیام پذیر تھی۔ ان کو بڑی گاڑیوں پر سواری کا شوق نہیں تھا آرمی ہائوس میں انکی وساطت سے میری ہمایوںاختر عبد الرحمن اور ڈاکٹر انوار الحق سے پہلی ملاقات ہوئی۔ بلا شک و شبہ الطاف حسن قریشی 20 اور 21ویں صدی کے بڑے صحافی تھے۔انہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی شخصیات کے انٹرویوز کئے، انکا طرز تحریر اس قدر خوبصورت تھا کہ قاری تحریر کے سحر میں مبتلا ہو جاتا۔ الطاف حسن قریشی پاکستانی اُردو صحافت میں بڑا مقام رکھتے تھے ۔اگر ان کو بابائے صحافت کہا جائے تو یہ خطاب انکی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے اُن کی زیرِ ادارت ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ شائع ہوتا تھا جوپرنٹ کے دور میں ملک میں سب سے زیادہ پڑھا جانیوالا ماہنامہ تھا۔ان کے ادارے نے اردو صحافت کونامور لکھاری دئیے۔ الطاف قریشی کی یادداشت اس قدرمضبوط تھی کہ وہ انٹرویو کے نوٹس لیتے اور نہ ہی ریکارڈ کرتے لیکن جب انٹرویو قلمبند کرتے تو انٹرویو کا کوئی حصہ فراموش نہ ہوتا۔ وہ واقعات کے تاریخی و سیاسی پس منظر کو انٹرویو میں کچھ ایسے سموتے کہ قاری ایسے محسوس کرتا جیسے سب کچھ اس کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اُنکا اسلوبِ نگارش منفرد تھا ایسا محسوس ہوتا الفاظ انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ شاعرانہ ذوق بھی رکھتے تھے وہ خوبصورت نثر لکھنے کیساتھ ساتھ عمدہ شعر بھی کہتے تھے۔ ان کی تحریروں میں پاکستانیت کوٹ کوٹ بھری ہوتی تھی وہ علالت کے باوجود باقاعدگی سےروزنامہ جنگ میں کالم لکھتے رہے۔ انہوں نے 5جولائی1977ء کے مارشل لا کے بعد جنرل ضیا ء الحق کا تاریخی انٹرویو کیا جب یہ انٹرویو شائع ہوا تو پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی کہ جنرل ضیاء الحق نے نوجوانوں کو آگے بڑھ کر ملک کا انتظام سنبھالنے کی بات کی جو نوجوان فوجیوں کو بغاوت پر اکسانا ہے۔ ضیاء الحق نے ناکردہ جرم پرالطاف حسن قریشی کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا یہی کام ذوالفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف نے بھی کیا لیکن اس وقت کے دائیں بازو کے بڑے اخبار نویسوں کی مداخلت سے یہ معاملہ رفع دفع کرا دیاگیا۔

الطاف حسن قریشی کے نوک قلم کی تاب نہ لاتے ہوئے ان کے زیر ادارت شائع ہونے اخبارات و جرائد کے نہ صرف ڈیکلریشن منسوخ کئے بلکہ الطاف حسن قریشی کو پابند سلاسل کیا گیا۔ الطاف حسن قریشی مضبوط اعصاب کے مالک تھے وہ جیل یاترا سے کبھی گھبرائے اور نہ ہی حکمرانوں کی فر عونیت کے سامنے سر جھکایا۔ انہوں نے ’ادارہ امور پاکستان ‘بنایا جو تاحال قائم ہے۔

الطاف حسن قریشی اپنی ذات میں ایک ادارہ تھےانکی صحافتی زندگی کم و بیش پون صدی پر محیط تھی وہ نظریاتی صحافت کے سر خیل تھے عمر بھر اسلام اور نظریہ پاکستان کے قلعے کے محافظ کا کر دار ادا کیا۔اردو صحافت میں ڈائجسٹ کی بنیاد الطاف حسن قریشی نے رکھی ۔ وہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے پیروکار تھے انہوں نے چند ماہ قبل سید ابوالا علیٰ مودودی پر لکھے گئے مضامین و انٹرویوز پر مشتمل کتاب اپنے دستخطوں سے ’’پیارے مولانا‘‘ بھجوائی، مجھے زندگی بھر اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں گزشتہ سال دسمبر کو اپنی کتاب ’’مرد آہن محمد نواز شریف اقتدار، اپوزیشن، جلاوطنی اور جیل کہانی‘‘ کی تقریب رونمائی کیلئے لاہور آیا لیکن خواہش کے باوجود قریشی صاحب کی عیادت نہ کر سکا ۔ الطاف حسن قریشی نے پاکستان کے نظریاتی تشخص کی طویل جنگ لڑی۔ 1972ء میں، مارشل لا قوانین کے تحت جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں الطاف حسن قریشی،اعجاز حسن قریشی اور مجیب الرحمٰن شامی ’پنجاب پنچ ‘کے مدیر حسن نقی اور پبلشرمظفر قادرشامل تھے،ان کی شہرہ آفاق تحریر’محبت کا زم زم بہہ رہا ہے‘کا ان سے اختلاف رکھنے والوں نے مذاق اڑایا حالانکہ انہوں نے یہ تحریر سقوط ڈھاکہ سے پانچ سال قبل رقم کی تھی ۔

اردو زبان میں ہفت روزہ اورماہانہ صحافت کا ایک دور میں عروج تھا انہوں نے ایکسکلوژو رائٹ اپ کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا سوشل میڈیا کے دور میں روزنامہ و ماہنامہ صحافت میں معیار برقرار رکھنا مشکل کام ہے ۔الطاف حسن قریشی نے ہفتہ وار ماہنامہ صحافت کے ذریعے بائیںبازو کی صحافت کا مقابلہ کیا۔ الطاف حسن قریشی نےشیخ مجیب الرحمن کا انٹرویو ڈھاکہ میں کیا لیکن شیخ مجیب الرحمن1956ء کے آئین کی بحالی کی بات سے مکر گئے ۔ اس انٹرویو کے وقت حسین شہید سہروردی کی صاحب زادی بیگم اختر سلیمان بھی موجود تھیں انہوں نے کہا کہ شیخ مجیب الرحمٰن نے جو کچھ کہا وہی اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا ۔

تازہ ترین