بھارت میں مقررہ وقت سے صرف 10 منٹ پہلے دفتر سے نکلنے پر کمپنی کے سی ای او نے خاتون ملازمہ کو واٹس ایپ میسج بھیج دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس پیغام نے صارفین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ دفتر سے صرف 10 منٹ پہلے روانہ ہونے کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے انہیں ذاتی طور پر واٹس ایپ پر پیغام بھیجا، جس کے بعد وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں کہ آیا ملازمین کی اس حد تک نگرانی کرنا معمول کی بات ہے یا نہیں۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ کے فورم پر بھارتی خاتون نے ’مائی سی ای او ٹیکسٹ می فار لیونگ 10 منٹ ارلی‘ کے عنوان سے شیئر کیا۔
خاتون نے بتایا کہ کمپنی میں مستقل ملازمت شروع کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد پیش آنے والے اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ عملی زندگی ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مختلف اور مشکل ہے۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ میں شام 5 بج کر 43 منٹ پر، یعنی ڈیوٹی ختم ہونے سے تقریباً 10 منٹ پہلے دفتر سے روانہ ہوئی۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں کمپنی کے سی ای او کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جس میں پوچھا گیا کہ آپ آج کس وقت دفتر سے نکلیں؟ خاتون نے جواب میں بتایا کہ وہ 5 بج کر 43 منٹ پر روانہ ہوئی تھیں۔
خاتون کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی مایوس کن تھی کیونکہ کمپنی نے ان کے ذاتی طور پر ادا کیے گئے دفتری اخراجات کی واپسی میں، بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود، 17 روز لگا دیے تھے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کمپنی میں مینیجرز اکثر 1 گھنٹے تک وقفہ کرتے ہیں جبکہ دیگر ملازمین بھی تقریباً 30 منٹ کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
اس کے برعکس، وہ خود شاذ و نادر ہی مناسب وقفہ لیتی ہیں، تاہم پہلی مرتبہ صرف 10 منٹ پہلے دفتر سے نکلنے پر فوری طور پر ان سے بازپرس کی گئی۔
خود کو جنریشن زی سے تعلق رکھنے والی ملازمہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ کارپوریٹ زندگی ان کے تصور سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔
خاتون نے ایک اور معاملہ بھی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ میرے باس نے مجھے بغیر تنخواہ کے سوشل میڈیا انٹرن بھرتی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
ان کے مطابق مجھے کہا گیا کہ یا تو بلا معاوضہ انٹرن بھرتی کریں، ورنہ کمپنی کی تمام سوشل میڈیا ریلز خود تیار کریں۔
انہوں نے بتایا کہ میں کمپنی کے شعبۂ ایچ آر یعنی انسانی وسائل میں کام کرتی ہوں۔
یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد ریڈٹ صارفین نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے۔ متعدد افراد کا کہنا تھا کہ وہ کمپنیاں جو ملازمین کی کارکردگی کے بجائے صرف ان کے آنے جانے کے اوقات پر زیادہ توجہ دیتی ہیں، اکثر غیر صحت مند دفتری ماحول پیدا کرتی ہیں۔
کئی صارفین نے خاتون کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے کچھ تجربہ حاصل کریں اور پھر بہتر مواقع کی تلاش کریں۔
بعض صارفین نے اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں پیش آنے والے ملتے جلتے واقعات بھی بیان کیے، جن میں طویل سفر اور اضافی اوقات کار کے باوجود مزید ذمہ داریاں سونپے جانے کی شکایات شامل تھیں۔
اکثر صارفین کی رائے تھی کہ صرف 10 منٹ پہلے دفتر سے جانے پر سی ای او کا براہِ راست واٹس ایپ پیغام بھیجنا مؤثر قیادت کے بجائے ضرورت سے زیادہ نگرانی (مائیکرو مینجمنٹ) کی علامت ہے۔