• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض جملے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں اور ہواؤں کا رُخ بدل کررکھ دیتے ہیں ۔مثال کے طور پر روسو نے اپنی خودنوشت ’’Confession‘‘ میں فرانسیسی شہزادی Marie Antoinetteسے یہ جملہ منسوب کیا ہے کہ جب غربت کے ستائے لوگ شاہی محل کے باہر روٹی نہ ملنے پر احتجاج کررہے تھے تو شہزادی نے ان کی بھوک کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا ’’یہ لوگ Brioche کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ Brioche دراصل اس دور کے طبقہ امرا کیلئے بنائی جانے والی مہنگی میٹھی بریڈ تھی اس لئے یہ جملہ بعد میں عام فہم انداز میں یوں پیش کیا گیا کہ ’’یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے ؟‘‘۔

اس ایک جملے سے پورے فرانس میں بھونچال آگیا اور لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔آپ ماضی قریب کی مثال ملاحظہ فرمائیں ،بنگلہ دیش میں کیا ہوا؟ جولائی 2024ءمیں بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلباکے احتجاج کے دوران، وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس میں کی گئی تضحیک آمیز گفتگواور بالخصوص ایک جملہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ ایک پریس کانفرنس میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ حسینہ واجد نے طنزاً کہا تھا کہ: ’’اگر جنگِ آزادی کے مجاہدین کے پوتے پوتیاں کوٹہ حاصل نہیں کریں گے، تو کیا غداروں (رضاکاروں) کے پوتے پوتیاں کوٹہ حاصل کرئینگے؟‘‘۔ ’’رضاکار‘‘کی اصطلاح دراصل 1971ء میںپاک فوج کا ساتھ دینے والے طلبہ بالخصوص جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ یا اسلامی چھاترو شبر کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔شیخ حسینہ کے اس بیان کے بعدطلبہ و طالبات نے رات گئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز سے نکل کر یہ نعرے لگانا شروع کردیئے’’ہم کون تم کون، رضاکار رضاکار‘‘۔یوں یہ احتجاج ایک انقلابی تحریک میں بدل گیا اور شیخ حسینہ واجد کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔

اب بھارت میں ایک جملے نے ہلچل مچارکھی ہے۔ بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران ملکی نظام پر تنقید کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘سے تشبیہ دی۔دراصل جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جئے مالا باغچی پر مشتمل بنچ ایک ایسے وکیل کی درخواست پر سماعت کررہا تھا جس نے سینئر ایڈوکیٹ کا درجہ حاصل کرنے کیلئے پٹیشن دائر کی تھی۔درخواست کو قابل اعتنا نہ گردانتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ معاشرے میں پہلے ہی ایسے طفیلئے موجود ہیں جو نظام پر حملہ کرتے ہیں اور آپ بھی ان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں؟اور پھر انہوں نے نہایت سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ،کچھ نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں،جنہیں نہ کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ۔ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں ،کچھ سوشل میڈیا ،آرٹی آئی کارکن یا دوسرے کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملے شروع کردیتے ہیں۔نوجوانوں کو یہ بات بہت بری لگی کہ عدلیہ جو آئین کی محافظ ہے اس کا سربراہ تنقید کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کاحق استعمال کرنیوالے نوجوانوں کا موازنہ کیڑے مکوڑوں سے کررہا ہے ۔مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ابھیجیت دیپکے جنہوں نے پونے سے گریجویشن کے بعد چند برس تک عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کیا۔ اور پھر بوسٹن یونیورسٹی سے ڈگری لی ،انہو ں نے سوچا کہ آن لائن ایک پیروڈی پارٹی بنانی چاہیے جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہو۔یعنی اگر آپ ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے، ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ اس پارٹی میں شامل ہونےکیلئے انہوںنے وہی شرائط طے کیںجو بھارتی چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں بیان کی تھیں۔ جیسے آپ سست ہوں، بے روزگار ہوں اورمسلسل آن لائن رہنے والے ہوں۔گویا جسٹس سوریہ کانت نے جن بھی الفاظ کا استعمال نوجوانوں کو بے عزت کرنے کیلئے کیا، ابھیجیت دیپکے نے انھیں اس پارٹی کا رکن بننے کی اہلیت بنا دیا یعنی وہ سب کی سب خصوصیات اس پارٹی میں شامل ہونےکیلئےاُمیدوار میں ہونا ضروری قرار دیں۔ بس پھر کیا تھا چند ہی گھنٹوں میں اس تجویز نے کمال کر دیا اور ہر کوئی اس پر نہ صرف ردِعمل دینے لگا بلکہ اس نوزائیدہ جماعت کیلئے رجسٹریشن کروانے والوں کا تانتا بندھ گیا۔’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘کی ویب سائٹ پر ٹریفک بڑھنے لگی۔ سوشل میڈیا پر یہ جماعت ٹرینڈ کرنے لگی۔ انسٹاگرام پرپانچ دن میں اس کے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ6لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کیلئے خود کو رجسٹر بھی کر لیاہے۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور آن لائن سیاسی جماعت ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے اس قدر خائف ہوئی کہ اس کے ایکس اکاؤنٹ کوبھارت میں معطل کر دیا گیا ۔صرف دو گھنٹے کے اندر اس مہم کا نیا ہینڈل سامنے آیا اور اعلان کیا گیا ’’کاکروچ اِز بیک‘‘مگر پھر مودی سرکار نے گھبرا کر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی ویب سائٹ ہی بلاک کردی۔اس پارٹی کے پانچ مطالبات ہیں۔سب شہریوں کو مفت وائی فائی کی سہولت دی جائے کیونکہ انٹر نیٹ تعیشات میں شمار نہیں ہوتا بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔قیلولہ یعنی دوپہر کے وقت آرام کا موقع دیا جائے۔پارلیمنٹ میں ہفتہ وا ر شکایات کا سیشن ہو۔اگر کسی نوجوان کے سی وی پر ملازمت کے دوران وقفہ ہو تو اس پر سوالات نہ کئے جائیں اور سُستی کو لائف اسٹائل کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔آپ کواس پارٹی کے منشور اور مطالبات سے اندازہ ہورہا ہوگا کہ یہ جماعت ازراہ تفنن چیف جسٹس کے تضحیک آمیز ریمارکس کے ردعمل میں بنائی گئی تھی لیکن اب لگتا ہے کہ ’’عام آدمی پارٹی‘‘کی طرح ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے درد سر بننے جارہی ہے ۔میں حیران ہوں کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے برعکس پاکستان میں نئی سیاسی جماعتیں مقبول کیوں نہیں ہوتیں؟ریحام خان کی ’’ری پبلکن پارٹی‘‘ ہوسینیٹر مشتاق خان کی ’’پاکستان رائٹس موومنٹ ‘‘ہوگلوکار جواد احمد کی ’’برابری پارٹی‘‘ہو یا پھراقرار الحسن کی ’’عوام راج پارٹی‘‘... یہ جماعتیں نوجوانوں کی توجہ حاصل کیوں نہیں کرپاتیں ؟عمران خان کی ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘کو بھی جب تک گود نہیں لیا گیا تب تک یہ برسراقتدار نہیں آسکی ۔آخر اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

تازہ ترین