حج کا سفر محض ایک عبادت یا معمول کا سفر نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی، ایمان کی تجدید اور اسلامی تاریخ سے عملی وابستگی کا ایک عظیم سفر ہے۔ اس سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے پاکستانی حجاج کے لیے انتظامات گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور بہتر محسوس ہوئے۔ اس روحانی سفر کا آغاز 13 مئی کی رات ہوا، جب رات گئے ہم گھر سے روانہ ہو کر کراچی ایئرپورٹ پہنچے۔ عام طور پر بین الاقوامی پرواز کے لیے چار گھنٹے پہلے پہنچنے کی ہدایت کی جاتی ہے، مگر دو گھنٹے قبل پہنچنے پر اندازہ ہوا کہ حج جیسے عظیم سفر میں وقت کی پابندی کتنی ضروری ہے، کیونکہ بورڈنگ کاؤنٹر بند ہو چکا تھا۔ تاہم وہاں موجود پروٹوکول افسر نے تعاون کرتے ہوئے تمام مراحل مکمل کروائے اور بورڈنگ پاس حاصل کرنے میں مدد دی۔کراچی ایئرپورٹ پر سعودی امیگریشن کے کاؤنٹر قائم کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے حجاج کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد طویل قطاروں اور اضافی کارروائیوں سے گزرنا نہیں پڑا۔ ایئرپورٹ کا ماحول دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے انسان پہلے ہی سعودی عرب میں داخل ہو چکا ہو۔ مختلف مقامات پر موجود عملہ نہایت خوش اخلاقی کے ساتھ رہنمائی کر رہا تھا۔
تقریباً ڈھائی گھنٹے کے فضائی سفر کے بعد جدہ پہنچے، جہاں سہولیات کا بہتر انتظام دیکھنے میں آیا۔ماضی میں جدہ ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران شدید رش اور طویل انتظار حجاج کے لیے ایک بڑی آزمائش بن جاتا تھا، لیکن اس بار کراچی میں ہی سعودی امیگریشن مکمل ہونے کی وجہ سے جدہ پہنچنے کے بعد کسی خاص دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی بسیں تیار کھڑی تھیں، جو حجاج کو ان کی رہائش گاہوں تک پہنچا رہی تھیں۔ پاکستانی حج مشن کے خدام ہر جگہ خدمت کے لیے پیش پیش نظر آئے۔حج کے سفر کے دوران دستاویزات کی اہمیت کا بھی بخوبی احساس ہوا۔ مختلف مقامات پر بار بار ویزا، پاسپورٹ، ٹکٹ اور سرکاری کارڈ چیک کیے جا رہے تھے۔ حاجی کیمپ میں پہلے ہی ہدایت دی گئی تھی کہ تمام ضروری کاغذات کی چار چار نقول اپنے پاس رکھیں، کیونکہ جدہ سے مکہ تک بھی کئی مقامات پر ان دستاویزات کی جانچ کی گئی۔
مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد رہائش کے لیے مخصوص عمارتوں کو ہوٹل کے بجائے بلڈنگ نمبر سے پہچانا جاتا ہے۔ بلڈنگ نمبر 109میں قیام کے دوران ایک خوشگوار بات یہ محسوس ہوئی کہ وہاں زیادہ تر حاجی پاکستان، خصوصاً کراچی سے تعلق رکھتے تھے، جس کی وجہ سے اجنبیت کا احساس ختم ہو گیا۔ سعودی انتظامیہ کی جانب سے پاسپورٹ حفاظتی طور پر اپنے پاس رکھ لیے گئے، جو واپسی سے ایک دن قبل واپس کیے جانے تھے۔رہائش، صفائی اور کھانے پینے کے انتظامات مجموعی طور پر تسلی بخش تھے۔ کمروں میں محدود افراد کی رہائش کے باوجود سہولیات مناسب تھیں۔ تین وقت کا کھانا، ناشتے کے ساتھ چائے، مختلف اقسام کی دالیں، سبزیاں، گوشت، چکن، پھل، دہی اور مشروبات باقاعدگی سے فراہم کیے جا رہے تھے۔ لاکھوں حجاج کے لیے روزانہ اتنے بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کرنا یقیناً آسان کام نہیں، مگر انتظامیہ کی کوششیں نمایاں محسوس ہو رہی تھیں۔ ایک موقع پر ناشتے میں دی جانے والی مخصوص روٹی پسند نہ آنے پر شکایت کی گئی تو اگلے ہی دن اس کی جگہ فرمائشی بریڈ یعنی ڈبل روٹی فراہم کر دی گئی، جو انتظامی جوابدہی کی ایک اچھی مثال تھی۔حجاج کو ناسک کارڈ بھی جاری کیا گیا، جسے ہر وقت گلے میں رکھنا ضروری تھا۔ یہ دراصل ايک طرح کا شناختی کارڈ تھا، جس کے بغیر حرم اور دیگر مقدس مقامات میں داخلے کے دوران مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔مکہ مکرمہ میں عمرے کی ادائیگی اس روحانی سفر کا پہلا بڑا مرحلہ تھا۔ جب بیت اللہ کا پہلا دیدار ہوا تو دل بے اختیار ہو گیا۔ کعبۃ اللہ کے گرد طواف کے دوران انسان خود کو دنیا کی ہر فکر سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی دراصل حضرت ہاجرہؑ کی اس عظیم جدوجہد کی یاد ہے، جب وہ اپنے ننھے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے لیے پانی کی تلاش میں ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے اسے عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔حج کے اصل ایام شروع ہوتے ہی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے مراحل کی اہمیت مزید واضح ہونے لگتی ہے۔ آٹھ ذوالحجہ کو حجاج احرام باندھ کر منیٰ روانہ ہوتے ہیں، جہاں پانچ وقت کی نماز ادا کر کے رات عبادت میں گزارتے ہیں۔ منیٰ دراصل قربانی، صبر اور عاجزی کی تربیت گاہ ہے، جہاں دنیا کے امیر و غریب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔نو ذوالحجہ کو میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ حج کا سب سے اہم رکن ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’الحج عرفہ‘، یعنی عرفات میں حاضری کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان جب ایک ہی لباس میں، ایک ہی رب کے حضور ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ منظر قیامت کے دن کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ عرفات میں جبلِ رحمت کے قریب مانگی جانے والی دعائیں انسان کے دل کو عجیب سکون عطا کرتی ہیں۔
عرفات سے غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانگی ہوتی ہے، جہاں کھلے آسمان تلے رات گزاری جاتی ہے۔ وہیں حجاج رمیِ جمرات کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔ دس ذوالحجہ کو بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد قربانی، حلق یا قصر اور پھر طوافِ زیارت ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ بعد ازاں ایامِ تشریق کے دوران تینوں جمرات کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اگر حجاج بارہ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جائیں تو تیسرے دن کی رمی لازم نہیں رہتی، بصورتِ دیگر تیرہ ذوالحجہ کو بھی رمی ادا کرنا پڑتی ہے۔
حج انسان کو صبر، برداشت، نظم و ضبط، مساوات اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا درس دیتا ہے۔ یہاں بادشاہ اور مزدور، امیر اور غریب، کالے اور گورے سب ایک ہی لباس میں نظر آتے ہیں۔ دنیا کی تمام پہچانیں مٹ جاتی ہیں اور صرف بندگی باقی رہ جاتی ہے۔ حج کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر کے غرور، خواہشات اور شیطانی وسوسوں کو کنکریاں مار کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائے۔