انگلش کا یہ محاورہ سب نے سنا ہوگا کہ Jack of all trades, but master of none اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص جو ہرکام تھوڑا بہت جانتا ہو لیکن کسی کام میں مہارت نہ رکھتاہو۔ مجھے بھی اس محاورے پر یقین تھا لیکن آج کل بالکل نہیں۔ جس قسم کا دور چل رہا ہے اس میں ہر کام کے بارے میں تھوڑا بہت جاننا بہت ضروری ہے۔آپ کسی ایک کام میں ماسٹربھی ہوں تب بھی کچھ نہ کچھ باقی کاموں کا پتا ہونا چاہئے۔اگر بندہ پوراالیکٹریشن نہیں اور گھر کے چھوٹے موٹے بجلی کے کام مثلاً بلب بدلنا، سوئچ بدلنا، ہولڈر بدلنا، پنکھے کا ڈِمر بدلنا ، ڈوربیل بدلنا وغیرہ آتاہوتواندازہ کیجئے کتنی آسانی ہوجاتی ہے۔جن کوٹونٹی کاسپلنڈر تبدیل کرنا، سنک کا پائپ لگانا، واشنگ مشین یا واٹرموٹرکاپٹہ بدلنا،ایکسٹینشن وائر کی جلی ہوئی تار بدلنا آتاہے انہیں ایسے چھوٹے کاموں کیلئے مکینک نہیں بلانے پڑتے۔آدھی رات کو اگر ایساکوئی کام خراب ہوجائے تو مکینک کے انتظار میں صبح تک خوار نہیں ہونا پڑتا۔یورپ امریکہ میں رہنے والے جانتے ہیں کہ وہاں تقریباً ہر بندے نے گھر میں ایک چھوٹی سی ورکشاپ ضرور بنائی ہوتی ہے تاکہ الیکٹریشن اور پلمبر کے کام خود کرسکیں۔وہاں کسی کاریگر کو بلانے کا خرچہ اتنا زیادہ ہے کہ لگ پتا جاتاہے۔آج کل تو ویسے بھی یوٹیوب پر ہر مسئلے کا عملی طریقہ موجود ہے۔میں کوشش کرتا رہتاہوں کہ نئے سے نئے مسائل کا حل تلاش کروں ۔ کل ہمارے گھر کا مائیکرو ویواوون خراب ہوگیا۔ اہلیہ کی طرف سے پہلا حکم یہی ملا کہ اسے آپ نے ہاتھ تک نہیں لگانا مکینک کے پاس لے کر جانا ہے۔ ایسی توہین میں برداشت تونہیں کرتا لیکن خون کے گھونٹ پی کرخاموش رہا۔آدھی رات کو میں نے اوون اٹھایا ا ورخاموشی سے دوسرے کمرے میں بیٹھ کر یوٹیوب کو اپنا مسئلہ بتایا۔وہاں سے ایک وڈیو دیکھی اور پورے اعتماد سے اوون کھول کر ایک تارکولگادیا۔جونہی اوون آن کیا ، ایک ہلکا سا دھماکا ہوا اوراوون بند ہوگیا۔الحمدللہ میں نے خاموشی سے اوون بند کیا اور کوئی شور پیدا کیے بغیر دبے پاؤں جاکر واپس کچن میں رکھ دیا۔آج میکینک کو دے کر آیا ہوں۔اُمیدہے جلد مل جائے گا۔
٭ ٭ ٭
میں صبح سیر کرنے قریبی پارک میں جاتا ہوں تو وہاں ایک بزرگ بھی ورزش کرتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ اِن کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ورزش کے بعدبھی یہ پارک میں ہی ایک طرف درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔قریبی چنے والے سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر وہیں لیٹ جاتے ہیں۔ اِن کے ہاتھ میں ایک کتاب ہوتی ہے جسے پڑھتے رہتے ہیں اور اونگھ آتی ہے تو اسی کا سرہانہ بنا کرلیٹ جاتے ہیںاورشام پانچ بجے تک یہ پارک میں ہی موجود رہتے ہیں۔اِردگردکے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پردیسی یا گھر سے نکالے ہوئے ہیں ۔بزرگ شکل وصورت سے پڑھے لکھے اور شریف انسان لگتے ہیں لہٰذا میں ایک دن گھر سے ناشتہ بنوا کے لے گیا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کریں۔ بہت خوش ہوئے۔پہلے انکار کیا لیکن پھر مان گئے۔گفتگو میں تھوڑی فرینکنس ہوئی توپتاچلا کہ دوگلیاں دور ہی ان کاذاتی گھر ہے اور کھاتے پیتے بندے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں سارا دن یہاں بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگے’’زندگی میں کچھ مخصوص وقت کیلئے گھر سے باہر رہنا بہت ضروری ہے ۔چاہے آپ دفتر جائیں، کسی دوست کے پاس جائیں یا کسی اور ایکٹیویٹی میں مصروف رہیں لیکن کم سے کم چھ سات گھنٹے گھر سے باہر ضرور رہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو بولے’گھرمیں رہ کر آپ بے شک باغبانی کرتے رہیں یا کتابیں پڑھتے رہیں گھروالوں کو آپ کی خاموش موجودگی سے بھی عجیب قسم کی اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔وہ ساری زندگی صبح سے شام تک آپ کی عدم موجودگی میں زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں لہٰذا جب آپ ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں تو اُنہیں لگنے لگتاہے کہ آپ کسی کام کے نہیں رہے۔
اکثرگھروالے ایسا کچھ کہتے تو نہیں لیکن ان کے تیور یہی بتاتے ہیں آپ کا کسی بات میں بولنا بھی انہیں برا لگنے لگتاہے۔یہ جملہ تو کئی دفعہ سن چکا ہوں کہ ’ابو آپ کو کچھ نہیں پتا‘ اس قسم کی سچویشن میں گھر والوں پر آپ کا کنٹرول ختم ہوجاتاہے اورآپ کی ضرورت زیادہ سے زیادہ مارکیٹ سے کوئی چیز لانے ، تنور سے روٹیاں یا صبح دودھ لانے تک محدود رہ جاتی ہے میں اس لیے صبح سے شام تک یہا ں بیٹھتاہوں اورکوئی نہ کوئی کتاب پڑھتا رہتاہوں ۔میں نے گھر میں بتایا ہوا ہے کہ میں ایک جگہ نوکری کر رہا ہوں۔ ایک بینک میں میں نے فکس ڈپازٹ کرایا ہوا تھا جس کا صرف مجھے علم تھا۔وہاں سے پیسے آتے ہیں تو گھر میں دے دیتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ آئی ہے۔ساڑھے پانچ بجے جب میں یہاں سے گھر جاتا ہوں تو بیوی میرے لیے پانی کا گلاس لے کرآتی ہے۔کھانے کا پوچھتی ہے ۔بچے یکدم محتاط ہوجاتے ہیں کہ باپ ابھی فالتونہیں ہوا۔بیٹے جب پیسے کمانے لگتے ہیں تو باپ بن جاتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ان سے کچھ مانگوں۔میں اس دوران اخبارات میں آنیو الے مختلف اشتہارات پر بھی اپلائی کرتا رہتا ہوں لیکن بوڑھا بندہ کسی کمپنی کو نہیں چاہیے۔‘‘ ان کی یہ بات سن کر مجھے بے اختیار ایک فلم یاد آگئی’روئی کا بوجھ‘۔یوٹیوب پرموجود ہے، موقع ملے تو دیکھئے گا۔