پاکستانی میوزک انڈسٹری سے وابستہ گلوکار ذیشان روکھڑی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے معاوضہ کم ہونے کے سبب فلم مکھو کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔
انہوں نے اس کے ساتھ ہی ہدایت کارہ سنگیتا پر کم معاوضہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سنگیتا نے اداکار معمر رانا کو فلم کے لیے صرف 5 لاکھ ادا کیے ہیں۔
خیال رہے کہ معمر رانا پاکستانی فلم انڈسٹری کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کے آغاز سے ہی مقبولیت حاصل کی اور پاکستانی سینما کے عروج کے دور میں کئی بڑی فلموں میں اداکاری کی۔ تاہم حالیہ عرصے میں اداکار کو مشکلات کا سامنا ہے، ان کی متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی رہا۔
دوسری جانب سنگیتا پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ ناصرف ایک کامیاب اداکارہ بلکہ ہدایت کارہ بھی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے حکومت کی فلم گرانٹ کے تحت مکھو کے نام سے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا، جس میں انہوں نے معمر رانا کو بھی کاسٹ کیا۔
اب گلوکار ذیشان روکھڑی کے ایک انٹرویو کے بعد اس فلم اور معمر رانا کے معاوضے سے متعلق ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ذیشان روکھڑی نے فلم میں کام کرنے کی پیشکش مسترد کرنے کے بعد ایک انٹرویو میں مبینہ طور پر فلم کے معاملات سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
ذیشان روکھڑی نے بتایا کہ مجھے فلم میں کردار کی پیشکش کی گئی تھی، جس کے لیے میں نے 8 دن کے کام کے عوض 1 کروڑ روپے معاوضہ طلب کیا تھا۔ بعد ازاں سنگیتا کی ٹیم نے مجھے بتایا کہ معمر رانا کو فلم کے لیے صرف 5 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔
ذیشان روکھڑی نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑے فلمی ستارے کو صرف 5 لاکھ روپے دینا مناسب نہیں، کیونکہ کسی بھی فنکار اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے ایسے رویے مددگار ثابت نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت سے بجٹ کم ملا ہوگا لیکن اگر ہمیں اپنی انڈسٹری کو آگے بڑھانا ہے، بالی ووڈ سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں بجٹ بھی پھر اسی حساب سے رکھنا ہوگا، فنکاروں کو بھی اسی طرح ادا کرنا ہوگا۔
اس معاملے پر انٹرنیٹ صارفین نے بھی مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کی (معمر رانا کی) اسٹار پاور ختم ہو چکی ہے، انہیں زیادہ معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ جس طرح کی فلم یہ ہے، اس کے لیے 5 لاکھ بھی زیادہ ہیں کیونکہ یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ فلم بہت پرانے انداز کی لگتی ہے، اسے کوئی نہیں دیکھے گا۔