• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے دوران ملاقات بالکل درست کہا اور دونوں ممالک کی عشروں پر محیط دوستی کی اصل کو بیان کیا کہ چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد ، تفہیم اور تعاون پر مبنی ناقابل شکست دوستی قائم کی ہے ۔ اس ایک فقرے میں اور ناقابل شکست دوستی کی اصطلاح نے ان تمام امور کا احاطہ کر لیا ہے کہ جو اس دوستی کے ذیل میں دونوں برادر ممالک کر رہے ہیں ، چاہے وہ اسٹرٹیجک معاملات ہوں ، سفارتی امور پر مؤقف یا اقتصادی تعاون۔ سب کچھ ہی ناقابل شکست رہا ہے اور اس بات کی بھی حد درجہ ضرورت ہے کہ ان تمام امور کا بھی بغور جائزہ لیا جائے جو اس دوستی کو کسی بھی حوالے سے زک پہنچانے کی کوشش کر چکے ہیں تا کہ ان معاملات کا بر وقت تدارک کیا جاسکے لیکن یہ واضح رہنا چاہئے کہ زک پہنچانے کی کوششیں ماضی میں بھی ناکامی کی کالک ہی منہ پر مل سکی تھیں اور اب بھی ان کا نصیب ایسا ہی ہوگا ۔ میں ایسی کوششوں کے حوالے سے اس لئے گفتگو کر رہا ہوں کہ اس دوستی کے نتائج برآمد ہونے سےنہ صرف کے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید بہتر سے بہتر ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ اس کیساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سیاست پر بھی یہ اپنا نقش چھوڑ رہے ہیں اور اب جب پاکستان کے تعلقات سعودی عرب سے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے فریم ورک کی باز گشت سنائی دے رہی ہے تو ہمارا پڑوسی انڈیا گزشتہ مئی کے بعد سے اس کوشش میں مصروف ہے کہ پاکستان کی حیثیت کو کم ثابت کیا جائے اور چین کیلئے بھی مسائل ثابت کئے جائیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے وہ پاکستان میں متحرک چینی باشندوں کو نقصان پہنچانے میں ماضی میں بھی ملوث رہا ہے اور آئندہ بھی اس کا کردار ایسا ہی ہوگا اور دشمن اپنی طاقت کو ثابت کرنے کی غرض سے ہی عین اس دورے کے دوران بلوچستان میں ٹرین پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تا کہ پاکستان کے حوالے سے کسی طرح بھی تذبذب کی کیفیت کو قائم کیا جاسکے ۔ 75ویں سفارتی تعلقات کی سالگرہ کے موقع پر معاشی معاہدوں کا ہونا بہت خوش آئند ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ان معاہدوں میں کیوں کہ بہت سارے ایم او یوز شامل ہیں اور ایم او یوز کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوتے بلکہ اس پر بات چیت کا آغاز ہوتا ہے تو وزیر اعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ وطن واپسی کے بعد ایک ٹاسک فورس کا قیام ضرور عمل میں لائیں جو روزانہ کی بنیاد پر اس بات کو ممکن بنائے کہ یہ ایم او یوز باقاعدہ معاہدوں میں ڈھل جائیں کیوں کہ اگر صرف یہ ایم او یوز تک ہی معاملہ محدود رہا تو ایسی صورتحال میں اس دورے سے تمام نتائج حاصل نہیں کئے جا سکیں گے ۔ صدر شی نے اپنے عہد اقتدار میں اس بات کا تہیہ کیا کہ وہ چین کے عالمی طاقت ہونے کے تاثر کو منصہ شہود پر لے کر آئينگے مگر اس عالمی طاقت کا تصور سامراجی انداز کا نہیں ہوگا ۔ انہوں نےبی آر آئی انیشیٹو،گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ، گلوبل سیکورٹی انیشیٹو ، گلوبل گورننس انیشیٹو جیسے تصورات پیش کئے اور ان کو عملی جامہ بھی پہنانا شروع کر دیا ۔ ان تمام میں بی آر آئی ایک ایسا پروگرام ہے کہ جس سے سی پیک کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ جڑا ہوا ہے ۔ میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران کئے گئے ایم او یوز کو بھی عملی شکل میں لانے کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لانا چاہئے، اس تجویز کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم سی پيک پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں لائی گئی تبدیلی کے بعد سی پيک کی رفتار کچھوے کی رفتار کی مانند بھی نہیں رہ گئی تھی اور میں بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہا، بھلا اس وقت کی حکومت نے تو کیا توجہ دینا تھی مگر اب تو اس حکومت کو ماضی کا قصہ بنے ہوئے بہت وقت گزر گیا ہےلیکن ابھی تک سی پیک کے پہلے فیز کا اہم ترین منصوبہ ایم ایل ون بھی جہاں تھا وہاںہی ہے اور یہ بات حقیقت ہے کہ ایم ایل ون کے بغیر سی پیک کے پہلے فیز کو مکمل سمجھنا درست نہیں ۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کی حکومت اس خواہش کے ساتھ قائم کی ہے کہ پاکستان کی مکمل طور پر معاشی بحالی کا مقصد حاصل کیا جاسکے چاہے اس کی جتنی مرضی بڑی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے اور یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی بلکہ ترقی میں اہم ترین عامل اس کے چین سے اقتصادی تعلقات ہیں اور ان تعلقات میں اگر کہیں بھی کوئی مسئلہ آرہا ہو تو اس کو بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کر دینا چاہئے ایم ایل ون سے لے کر موجودہ دورے کے دوران کئے گئے معاہدوں ، ایم او یوز پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے شہباز اسپیڈ کی ضرورت ہے تا کہ اگلے عام انتخابات سے قبل پاکستان کی معاشی بحالی کا ہدف حاصل کر لیا جائے اور عوام اسکے ثمرات سے بہرہ مند ہو رہے ہوں ، خیال رہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کا راز بھی اسی میں پنہاں ہے ۔

تازہ ترین