لگتا تو یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوغلی حکمت عملی ابھی دنیا کو مزید نا معلوم مدت تک جنگ کے خوف اور امن کی امید کے درمیان معلق رکھے گی۔ وجہ یہ ہے کہ اگر امن کا قیام سچ مچ ان کا مقصد ہوتا تو وہ اسلام آباد مذاکرات اور اس کے بعد بار بار ملنے والے قیام امن کے مواقع کو ایسی لاپروائی سے ضائع نہ کرتے جیسے ایک ناسمجھ شریر بچہ اپنے قیمتی کھلونوں کو توڑتا ہے۔ فی الوقت تو جنگ بندی عملاً ختم ہے ۔ ایران پر امریکہ کے حملے اور جواباً امریکہ کی اتحادی خلیجی ریاستوں پر ایران کے حملے ازسرنو شروع ہوگئے ہیں۔ اسی گرماگرمی میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ کے حوالے سے بوقت تحریر یہ خبر بھی گرم ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں میںجنگ بندی میں توسیع اور ساٹھ روزہ مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوگیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کی منظوری باقی ہے ۔ تاہم اسلام آباد مذاکرات سے لیکر ان کے اب تک کے رویے کوسامنے رکھا جائے تو زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ منظوری کے بجائے وہ پھر کوئی اڑنگا لگا دیں گے اور بنتی ہوئی بات بگڑ جائے گی۔ پچھلے چند روز کے دوران بھی ایک طرف مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے مسلسل امید افزا خبریں آتی رہیں لیکن ساتھ ہی صدر ٹرمپ کے حکم پر ایران پر حملوں کی دھمکیاں اور پھر ان پر عمل بھی شروع ہو گیا۔جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید کے اس فتوے کے تحت کہ جوہری ہتھیار بنانا، انہیں ذخیرہ کرنا اور استعمال کرنا اسلامی شریعت کی رو سے حرام ہے، ایران کا مستقل مؤقف ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنائے گا لیکن صدر ٹرمپ اس کے باوجود یہ گردان جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اسی ہفتے انہوں نے پاکستان سمیت امن کیلئے کوشاں مسلم ملکوں کو جن میں سعودی عرب اور قطر خاص طور پر اہم ہیں ، دھمکایا ہے کہ ایران امریکہ مفاہمت کیلئے انہیں ابراہیم اکارڈ کو قبول کرنا یا بالفاظ دیگراسرائیل کو جائز ریاست تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے معاہدہ ابراہیمی میں ایران کی شمولیت کی ناقابل فہم توقع بھی ظاہر کی حالانکہ اگر اسے یہی کرنا ہوتا تو ایرانی قوم جان مال سب کچھ قربان کرنے کے جذبے کے ساتھ بیک وقت اسرائیل اور امریکہ سے ٹکر لے کر اپنی نہایت قیمتی عسکری، سیاسی، سفارتی شخصیات اور سائنسی ماہرین کی جانیں داؤ پر کیوں لگاتی ۔ لہٰذا بظاہر زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات سے تیل کے دام روز بڑھتے گھٹتے رہیں گے۔ منافع خور سٹہ باز مافیا کے وارے نیارے جاری رہیں گے۔ عالمی معیشت بے یقینی کی دلدل میں پھنسی رہے گی اور یوں کرہ ارض پر استحکام کے بجائے افراتفری کی گرفت مضبوط ہوتی جائے گی ۔ اس کے بعد بھرپور جنگ نہ بھی ہوئی تو دنیا کے اربوں انسانوں کا حال آج سے کہیں زیادہ ابتر ہوچکا ہوگا ۔ بصورت دیگر جنگ کی تباہ کاریاں روئے زمین کے بہت سے بارونق خطوں کو ویرانوں میں تبدیل کرچکی ہوں گی ۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نقصانات سے کہیں زیادہ نقصان پوری انسانی دنیا کو اٹھانا پڑے گا کیونکہ آج جنگ کو سائنس و ٹیکنالوجی نے ماضی کی نسبت سینکڑوں گنا زیادہ تباہ کن بنادیا ہے جبکہ سابقہ جنگوں کا ایک سرسری جائزہ ہی سینے میں دل رکھنے والے کسی بھی انسان کو خون کے آنسو رلا دینے کو کافی ہے۔
محتاط اندازوں کے مطابق پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ فوجی اور ڈھائی کروڑ شہری مارے گئے۔زخمی اور عمر بھر کیلئے معذور ہونے والوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔جنگ کی بھٹی میں جھونکے گئے مالی وسائل آج کے حساب سے ایک سو ستر ٹریلین ڈالر بنتے ہیں۔ویت نام ، عراق اور افغانستان کی جنگیں بھی لاکھوں انسانی جانوں اور کھربوں ڈالر کے مالی وسائل کے زیاں کا سبب بنیں۔ جار ی ایران امریکہ جنگ پر آنے والے خرچ کا اندازہ بھی ایک ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ وسائل اگر زمین کے باسیوں کی زندگیاں آسان بنانے، دنیا سے غربت مٹانے، تباہ کن ماحولیاتی تبدیلی کی راہ روکنے، دولت کے ظالمانہ ارتکاز کو ختم کرنے ، ہر بچے کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کرنے ، بین الاقوامی تنازعات کے منصفانہ حل کو یقینی بنانے اور انسانی فلاح کی دیگر مدات میں خرچ کیے جاتے تو کرہ ارض کو جنت کا نمونہ بنایا جاسکتا تھا۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ دنیا کو جاری جنگوں سے نجات دلانے اور آئندہ جنگ کے خطرات سے بچانے کی خاطر پوری دنیا کے رجحان ساز اہل علم و دانش، ذرائع ابلاغ سے وابستہ درد مند افراد، سیاسی و سماجی رہنما، عدالتوں کے مسند نشین، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کرنے والے ہوشمند حکمراں ایک عالم گیر تحریک برپا کریں۔ امریکہ کی رائے عامہ کو خاص طور پر سمجھایا جائے کہ جنگوں کی آگ بھڑکانے کا جو کھیل ان کی قیادت کھیل رہی ہے، اس میں دوسرے ہی نہیں خود ان کا ملک بھی بھسم ہوسکتا ہے۔ معاشی بحران کروڑوں کھاتے پیتے خوشحال لوگوں کو فاقہ کشی سے دوچار کر سکتا ہے۔ جدیدہولناک ہتھیار لمحوں میں ہنستی بستی آبادیوں کو راکھ کا ڈھیر بناسکتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ایران یا عرب دنیا ہی نہیں پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔لہٰذا اپنے حکمرانوں کو جنگ جنگ کھیلنے سے باز رکھنا خود امریکیوں کی بقا کیلئے ناگزیر ہے۔ ایرانی قیادت کو بھی اس حقیقت کے پیش نظر خلیجی ملکوں پر حملوں کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے کہ ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ریاستوں پر حملوں سے اسرائیل کے مقاصد پورے ہوں گے کیونکہ عرب ممالک اور ایران کی لڑائی لازمی طور پر خلیجی ریاستوں میں اسرائیل کی فوجی مداخلت اور یوں گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرے گی۔لہٰذا امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں میںبھرپور تعاون پورے شرق اوسط اور پوری عالمی برادری کے مفاد کا ناگزیر تقاضا ہے جبکہ اس کے برعکس رویہ سب کیلئے تباہی کا پیغام لائے گا۔