امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی ہے۔
ادراۂ نورِ حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں عیدالاضحیٰ پر صفائی ستھرائی کا خراب ماحول رہا، پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ نے مل کر شہرِ قائد کو تباہ کر دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کراچی کے سربراہ میئر مرتضیٰ وہاب ہیں جبکہ 3 سال گز رگئے، سندھ سالڈ اور واٹر بورڈ کا نظام پرانا چل رہا ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ کراچی میں پانی کا شدید بحران ہے، آدھے شہر میں پانی نہیں ہے، ٹینکر مافیا سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے ٹاؤنز میں حیثیت سے بڑھ کر کام ہو رہا ہے، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہو گا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتِ حال تشویش ناک ہے، امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، امریکا میں غزہ کی بات کرنے والے طالب علموں کو یونیورسٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکا معاہدے میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، پاک ایران گیس لائن منصوبے پر کیا پیش رفت ہے؟ ایران کے ساتھ آزاد تجارت کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔
امیرِ جماعت اسلامی نے کہا کہ 3 جون کو اسلام آباد میں بجٹ تجاویز پر سیمینار کریں گے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں ختم کرنا ہوں گی، آئی ایم ایف مافیاز کے کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول میں 122 روپے کم کرنے چاہیے تھے، پیٹرول کی قیمت 3 سال کے لیے لاک کریں، معیشت کا پہیہ چلانا ہو گا ورنہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔
حافظ نعیم ارحمٰن کا کہنا ہے کہ 605 ارب روپے ٹیکس تنخواہ دار طبقے نے ادا کیا، ایف بی آر کے 25 ہزار ملازمین کا ٹیکس کلکشن میں کردار زیرو ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے یہ بھی کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں نام بے نظیر کا اور کام بے ضمیروں کا ہے۔