مجھے سینما میں فلم دیکھنا بہت پسند تھا لیکن اب میں نیٹ فلکس ، HBOیا ایمازون پر فلم دیکھ لیتاہوں۔سینما سے زیادہ لطف آتاہے۔اچھے ہیڈ فون کے ساتھ وی آر پلیئر کو عینک کی طرح لگا کر گھر بیٹھے سینکڑوں فلموں میں سے اپنی مرضی کی فلم منتخب کرکے دیکھتاہوں بورنگ لگے تو دوسری لگا لیتا ہوں اور سچ پوچھیں تو سینما سے زیادہ مزا آتاہے۔جب چاہا فلم روک لی، جب چاہا ریوائنڈ کرلی۔ نیم دراز ہوکر بھی فلم دیکھ لی اور صوفے پر بیٹھ کر بھی۔یہ جو ہمارے ہاں آئے دن شورہوتاہے کہ ہائے سینما گھر ختم ہورہے ہیں اس ماتم کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ موبائل نے شکل بدل لی، پرنٹ میڈیا نے شکل بدل لی،کتاب نے شکل بدل لی،شاپنگ آن لائن ہوگئی، کمپیوٹر نے شکل بدل لی تو سینمااپنی شکل کیوں نہ بدلے؟ایک دور تھا جب سینما جانا آؤٹ ڈور تفریح میں شمار ہوتا تھا لیکن اب اس کی بے شمار نئی شکلیں وجود میں آگئی ہیں ایسے میں سینما گھروں کا آباد ہونا کیوں ضروری ہے؟ فلمیں تو بنیں گی اور بنتی رہیں گی لیکن ان کو دِکھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی کیوں بری کہلاتی ہے؟ آپ سینما گھروں کے حالات دیکھیں، اچھی سے اچھی فلم بھی لگی ہو تو ہزار سیٹوں والے ہال میں سو لوگ بھی موجود نہیں ہوتے۔تو کیا اتنی محنت سے فلمیں بنا بنا کر یونہی سینما گھروں کے آتش کدوں میں ڈالتے رہنا چاہیے یا ڈیجیٹل میڈیاکا رخ کرنا چاہیے جہاں اسے ہزاروں لاکھوں دیکھنے والے میسر آئیں۔عشق کومحبوب،کتاب کو قاری اور فلم کو ناظر میسر نہ آئے تو کیا فائدہ ۔ماضی کی فلاپ فلمیں بھی ڈیجیٹل میڈیا پر موجود ہیں اورلاکھوں شائقین کے ویوزاِنہیں کامیاب کرا چکے ہیں۔جب پوری دنیا میں آپ کی تخلیق کو دیکھنے والی کروڑوں اسکرینیں موجود ہوں تو سو دوسو اسکرینوں پر فلم دکھانے کاکیا مقصد؟لوگ اپنی تفریح کا ذریعہ خود منتخب کرتے ہیں انہیں جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے سینما مت لائیں۔پرانا دور اچھا تھا، گزر گیا۔اب نئے دور کو ویلکم کریں اور زمانے کے ساتھ چلناسیکھیں۔سینما پر فلم صرف چلتی ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا پر دوڑتی ہے۔
٭ ٭ ٭
میرے ایک جاننے والے ہیں جو اسموکرہیں ۔ بہت زیادہ سگریٹ پیتے تھے لیکن پچھلے چند سالوں سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ سگریٹ کی ڈبی بہت مہنگی ہوگئی تھی۔آج کل وہ پھر بہت خوش ہیں کیونکہ امپورٹڈ سگریٹس آسانی سے مل رہے ہیں اور سستے بھی ہوتے ہیں۔پہلے تو حیرت ہوئی کہ اتنے امپورٹڈ سگریٹس آخراتنی آسانی سے آکیسے رہے ہیں پھر دلچسپ انکشاف ہوا کہ سستے ملنے والے سگریٹس پاکستان میں ہی غیرقانونی طور پر گھٹیا تمباکو سے بنائے جاتے ہیں لیکن ڈبی کا ڈیزائن اور نام ایسا رکھا جاتاہے کہ لگتاہے امپورٹڈ ہیں اوپر سے ڈبی کے ایک کونے پر کسی غیر ملک کا نام بھی لکھ دیا جاتاہے اورا سموکرز نہال ہوجاتے ہیں کہ چونکہ اوپر کینسروالی تصویر نہیں بنی ہوئی اس لیے یہ واقعی امپورٹڈ ہیں۔قطع نظر اس بات کے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے اس ساری صورتحال کا ایف بی آر کو کیا فائدہ ہورہا ہے؟سگریٹ نوشی تو جاری ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ یہ نقلی سگریٹ اصلی سمجھ کر خرید رہے ہیں اور پھیپھڑے برباد کر رہے ہیں۔توکیا ایف بی آر کو بھی کوئی فائدہ ہورہا ہے؟ بالکل نہیں۔
یہ لوکل امپورٹڈٹائپ سگریٹ ٹیکس کے دائرے میں آہی نہیں رہے کیونکہ چیک اینڈ بیلنس جتنا مرضی سخت کرلیں ان کی فروخت نہیں رک سکتی۔دکانوں والے عام بندے کو یہ سگریٹ دیتے ہی نہیں اور خاص بندے جانتے ہیں کہ جب بھی جائیں گے ڈبی مل جائے گی۔اگرتو یہی سلسلہ رکھناہے تو ایف بی آر سے گزارش ہے کہ جو کمپنیاں ٹیکس کے دائرے میں رہتے ہوئے سگریٹ بنا رہی ہیں ان کے ٹیکس کم کریں تاکہ کم ازکم سستی قیمت میں اگر سگریٹ فروخت ہوں تو ٹیکس ایف بی آر کو ہی جائے ۔
٭ ٭ ٭
اگر ہمیں کوئی پکڑکرکسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند کردے توایسا لگے گا جیسے ہماری زندگی ختم ہونے والی ہے لیکن کچھ دن بعد اگر وہ کھڑکی کا ایک پٹ کھول دے تو خوشی محسوس ہوگی کہ تھوڑی روشنی اور ہوا تو ملی۔ کچھ اور دن بعد اگر دوسرا پٹ بھی کھل جائے تو اور زیادہ مسرت ہوگی کہ مزید راحت نصیب ہوئی۔ اسی طرح کرتے کرتے اگر ایک دو مہینوں کے اندر کوٹھڑی میں روشنی، ہوا اور پانی کا مناسب بندوبست ہوجائے، کھاناپیٹ بھر کر ملنے لگے تو ایسا محسوس ہونے لگے کہ ہمیں ریلیف مل رہا ہے۔
کوٹھڑی میں بند ہونے کا احساس آہستہ آہستہ جاتا رہے گا۔ حکومت بھی یہی کر رہی ہے۔ مہنگائی آسمان پرپہنچا کر دھیرے دھیرے پانچ پانچ روپے کم کررہی ہے اور ہم خوش ہیں کہ ریلیف مل رہاہے۔تکلیف کو ریلیف کا روپ دینے کا یہ انداز بہت پرانا ہے اور ہرحکومت استعمال کرتی ہے۔ پچاس روپے کلو آلو اگر ساٹھ روپے کلو ملنے لگیں تو بہت غصہ آتاہے لیکن اگر قیمت پچاس روپے کلو کی بجائے سو روپے کلو ہوجائے اور اگلے ہر دن پانچ پانچ روپے کم ہوتے جائیں اور ستر روپے کلو پر آکر رک جائیں تو گونا گوں اطمینان نصیب ہوتاہے کہ شکر ہے قیمتیں ’معمول‘ پر آگئیں۔یہ نفسیاتی تسکین عوامی غیظ وغضب کو ٹھنڈا کرنے کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتیں کیوں بڑھتی ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ مارکیٹ میں ایک دکان سے دوسری دکان تک پھلوں کی قیمتوں میں فرق کیوں ہے؟ ایک جیسی ہی پراڈکٹ کے دو ریٹس کیوں ہیں؟ ایک ہی محلے کی چار دکانوں کی قیمتوں میں فرق کیوں ہے؟ اخبارات کی سرخیاں بتا رہی ہیں کہ پٹرول کی قیمت کم ہوگئی ہے حالانکہ سرخی ہونی چاہیے تھی کہ ’پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمت کچھ کم ہوگئی‘۔مہنگائی کے باعث عوام پریشان توہیں لیکن اس میں بھی ایک خوشی کی خبر موجود ہے۔بقول شخصے اگر حالات ایسے ہی رہے اور یونہی عوام کا تیل نکلتا رہا تو انشاء اللہ بہت جلد ہم بھی تیل نکالنے والے ملکوں کی تنظیم ’اوپیک‘ کا حصہ بن جائیں گے۔اسے انگریزی میں پتا نہیں کیا کہتے ہیں لیکن غالباً فرنچ میں کہتے ہیں’مرے کو ماریں شاہ مدار‘۔