• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ برصغیر کی قدیم ترین تہذیبوں کا وارث، پاکستان کی معیشت کا ستون اور قومی یکجہتی کا ایک اہم مرکز ہے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سندھ کے اندر ترقی، وسائل اور سیاسی اختیار کی تقسیم میں ایسا عدم توازن پیدا ہوا جس نے صوبے کے شہری اور دیہی حصوں کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔ آج اگر سندھ کے دیہی اضلاع میں غربت، بے روزگاری، پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی نمایاں ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ کراچی کا غیر معمولی ارتکاز طاقت اور وسائل بھی ہے۔یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کراچی سندھ کا دل ہے۔ کراچی پاکستان کا معاشی انجن، سب سے بڑا بندرگاہی شہر، مالیاتی مرکز اور لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار فراہم کرنے والا شہر ہے۔ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور کراچی کے استحکام کے بغیر قومی معیشت کا تصور بھی ممکن نہیں۔ مسئلہ کراچی کی ترقی نہیں بلکہ وہ عدم توازن ہے جس کے نتیجے میں پورا سندھ ایک شہر کے گرد گھومنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنایا گیا۔ اس فیصلے نے شہر کو غیر معمولی سیاسی، انتظامی اور معاشی اہمیت عطا کی۔ بعد ازاں اگرچہ دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہو گیا، مگر کراچی کی معاشی طاقت اور وسائل پر گرفت مسلسل مضبوط ہوتی گئی۔ ملک بھر سے سرمایہ کاری، صنعتیں، مالیاتی ادارے اور بڑے کاروباری مراکز کراچی میں جمع ہوتے گئے جبکہ اندرونِ سندھ کے بیشتر اضلاع ترقی کے اس عمل سے محروم رہے۔آج صورتحال یہ ہے کہ سندھ کے اکثر نوجوان روزگار کے لیے اپنے آبائی شہروں اور دیہات سے ہجرت کرکے کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، سانگھڑ، کشمور، جیکب آباد، قمبر شہدادکوٹ، دادو اور دیگر اضلاع کے ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں کراچی پہنچتے ہیں۔ یہ ہجرت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں مواقع پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر سندھ کے دیگر شہر کراچی جیسے کیوں نہیں بن سکے؟ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور نواب شاہ اپنی جغرافیائی اہمیت، تاریخی پس منظر اور آبادی کے لحاظ سے بڑے شہری مراکز بن سکتے تھے۔ مگر کئی دہائیوں سے سرکاری سرمایہ کاری، صنعتی منصوبہ بندی اور معاشی سرگرمیوں کا محور کراچی ہی رہا۔ نتیجتاً سندھ کے دیگر شہر ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وفاقی سطح پر سندھ کو اکثر کراچی کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ جب سندھ کا ذکر آتا ہے تو زیادہ تر گفتگو کراچی کے انفراسٹرکچر، ٹریفک، بندرگاہ، صنعت یا شہری مسائل تک محدود رہتی ہے۔ تھر کے خشک سالی زدہ علاقوں، دریائے سندھ کے کنارے آباد کسانوں، کچے کے علاقوں کے مسائل یا شمالی سندھ کی پسماندگی پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی دی جانی چاہیے۔

دریائے سندھ کی زمینوں پر آباد کسان آج بھی پانی کی قلت، زرعی بحران اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں۔ تھرپارکر کے عوام اب بھی صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کئی اضلاع میں جدید اسپتال، اعلیٰ تعلیمی ادارے اور صنعتی زون نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری طرف کراچی میں وسائل، سرمایہ اور مواقع کا ارتکاز مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

ایک سندھی قوم پرست نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ شناخت اور نمائندگی کا بھی ہے۔ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور لسانی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پورے صوبے کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر ترقی کا سارا ماڈل صرف کراچی کے گرد گھومتا رہے گا تو سندھ کے دیگر علاقوں میں احساسِ محرومی بڑھتا رہے گا۔ یہ احساسِ محرومی نہ صرف صوبائی ہم آہنگی بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔تاہم اس مسئلے کا حل کراچی دشمنی یا شہری و دیہی تقسیم کو ہوا دینا نہیں ہے۔ کراچی کے عوام بھی اپنے مسائل رکھتے ہیں۔ شہر کی آبادی، انفراسٹرکچر پر دباؤ، پانی کی قلت، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور بے ہنگم شہری پھیلاؤ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کراچی کے شہری بھی بہتر حکمرانی اور وسائل کے منصفانہ استعمال کے خواہاں ہیں۔ اس لیے سندھ کا مسئلہ شہری اور دیہی عوام کے درمیان تصادم پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک متوازن ترقیاتی ماڈل تشکیل دینا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں علاقائی توازن پر مبنی نئی معاشی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور نواب شاہ میں خصوصی اقتصادی زون قائم کیے جائیں۔ یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں اور ٹیکنیکل اداروں کا جال پورے صوبے میں پھیلایا جائے۔ دیہی اضلاع میں سڑکوں، آبپاشی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ سرکاری ملازمتوں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی علاقائی توازن کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ کراچی سے حاصل ہونے والی معاشی قوت کو پورے سندھ کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ کراچی اگر صوبے کا معاشی مرکز ہے تو اس کی کامیابی کے ثمرات بھی پورے سندھ تک پہنچنے چاہئیں۔ بندرگاہوں، صنعتی زونز اور تجارتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ترقی صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اس کے تمام صوبے اور تمام علاقے ترقی کریں۔ سندھ کی مضبوطی بھی اسی میں ہے کہ کراچی اور اندرونِ سندھ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔ اگر سندھ کے دیہی علاقے مسلسل محرومی کا شکار رہیں گے تو صوبے کی مجموعی ترقی کا خواب کبھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ ایک مضبوط، خود اعتماد اور ترقی یافتہ سندھ ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔

نوٹ: یہ کالم نگار کی ذاتی رائے ہے،اس حوالے سے کسی بھی دوسری رائے کی اشاعت کیلئے ادارتی صفحہ حاضر ہے

تازہ ترین