اردو کے بڑے افسانہ نگار و ناول نویس عزیز احمد افسانوی دنیا میں اپنا حریف ایک کو سمجھتے تھے اب اس ایک کا ماجرا یہ تھا کہ اس کے والد افسانہ نگار اوراماں بھی ناول نگار،وہ خوبصورت بھی بہت تھیں،وہ ہندوستان کی تاریخ، ثقافت کے الجھائو اور فنون ( رقص،موسیقی،ڈرامہ ، انگریزی ادبیات کو جاننے والے باذوق مہذب افراد) کو سلجھائو کے حربے خیال کرتی تھیں،سجاد حیدر یلدرم اور بنت الباقر کی بیٹی قرۃ العین حیدر پاکستان اور بھارت کی اشرافیہ میں بھی بہت مقبول تھیں ۔ یلدرم غیر منقسم ہندوستان میں انگریزی سوٹ پہننے والے ایک بڑے افسر ،ترک زبان جانتے تھے،عراق کے قونصل خانے میں مترجم رہےعربی سے ترکی کے، سر پر ترکی ٹوپی نہیں رکھتے تھے یہی نہیں وہ جزائر انڈیمان و نکوبار میں رہے جسے کالا پانی کہتے تھے،جہاں اٹھارہ سو ستاون میں انگریز سرکار کے باغی اورہمارے مجاہدینِ آزادی کو بھیجا گیا مولانا فضلِ حق خیرآبادی کا نام غالب کے خطوں میں آیا،حالانکہ غالب احتیاط کر رہے تھے کہ ملکہ وکٹوریہ کی عام معافی سے پہلے ان کے خلاف کوئی نیا مخبر کچھ اور نہ جڑ دے۔ مولانا نے بھی کتاب لکھی مگر ایک اور باغی مولانا محمد جعفر تھانیسری کی کتاب’’کالا پانی یعنی تواریخ عجیب ‘‘ اردو داں دنیا تک پہنچی کہ اسے اردوکی پہلی خود نوشت کہا گیا۔ اس میں یہاں کے دلدلی کیچڑ،سانپ،بچھو اور دیگر زہریلے کیڑوں کا ذکر ہے ۔ تاہم مولانا نے اپنی ورزشوں کے ساتھ رسیلے پھلوں کا ذکر کیا ہے اور اپنی مہارت کا بھی کہ کس طرح انہوں نے پرندوں کے ساتھ جانوروں کو بھی سدھا لیا تھا ۔ انگریزوں کے پیشِ نظر یہ بھی تھا کہ ان سخت جان باغیوں سے ان جزائر سے صفائی بھی کرائی جائے اور اگر مدراس،اوڑیسہ ، چاٹگام کے پہاڑی اور شاید افغانستان (بشمول خیبر پختون خوا) وغیرہ سے زیادہ سخت جان جرائم پیشہ قیدی خواتین کو بھی یہاں بھجوا دیا جائے اورعورت مرد تعلق کو قانونی شکل دی جائے تو ایک طرف نو آبادیات کو وسعت مل جائے گی،یہاں کے مقامی باشندوں کا بھی صفایا ہو جائے گا اورجن مصنوعات کی انگریزوں کو ضرورت ہے وہ بھی ان قیدیوں کی مشقت تیار کرتی رہے گی ۔ یلدرم نے مزاحیہ انداز میں اپنے ایک دوست کو لکھا کہ مجھے جو مشقتی جزائرانڈیمان میں ملے تومجھے بڑا مزہ آیا جب پتہ چلا کہ میرا باورچی کسی کو زہر کھلا کے یہاں آیا ہے اور جو حجام روزانہ اُسترا تیز کرکے اپنا ہنر دکھاتا ہے وہ کسی کا گلا کاٹ چکا ہے۔ خودقرۃالعین حیدر نےبہت کچھ لکھا مگر وہ ان جزائر کے قدیم باشندوں یا یہاں لائی جانے والی عورتوں کے بارے میں نہیں لکھ سکیں۔ البتہ جب عزیز احمد نے اپنا طویل تاریخی افسانہ ’مدن سینا اور صدیاں‘ لکھا تو قرۃالعین حیدر نے اس پر پھبتی کسی کہ یہ نصابی تاریخ کا ایک ورق ہے پھر عینی کی پرستار ایک خوبصورت پٹھانی نثار عزیز بٹ نے لکھ دیا کہ زمانہ طالب علمی میں میَں عزیز احمد کو شوق سے پڑھتی تھی اور شاید ایک مکتوب بھی لکھ مارا ۔ تاہم عزیز احمد نے آخری دور میں تین کمال کے افسانے لکھے ایک تو زرّیں تاج جو ماضی کے حسن پرست ایرانی معاشرے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کوئی محمد علی باب جیسا پیغمبری کا بھی دعویٰ کرے تو اسے اپنی رفاقت کے لئے ایک حسین و جمیل خاتون کی ضرورت ہے،دوسرا ’خدنگِ جَِستہ‘ اُچھلا ہوا یا اچانک آیا ہوا تیر،کہ سکندر اعظم کی پیروی میں تیمور نے دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھا اس کے دادا پردادا نے لوگوں کو قتل کرکے ان کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے یا ان میں گھوڑیوں کے دودھ سے بنی شراب پی،مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ جو اس کے گُھٹنے پر تیر لگا ہے ،شاہی جرّاح نے اس پر مرہم بھی لگایا ہے مگر ایک تپِ دق ہے جس کے ہزاروں جراثیم اس سکندرِ ثانی کے بدن میں داخل ہوگئے اسی طرح تیسرا افسانہ ہے ’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں‘‘جو ضیا الحق دور میں پڑھتے اور پڑھاتے ہوئے اٹھارہ سو ستاون کے باغیوں کو ماننے والوں کو لگتا تھا کہ وہ اس حاکم کی دستار پر ہاتھ ڈال رہے ہیں جو نام تو ہر وقت دینِ متین کا لیتا ہے مگر ایک قاضی یا چیف جج کو ساتھ ملا کر جس مخالف کو چاہے پھانسی پر لٹکا دیتا ہے، کوڑے مارتا ہے،سنگسار کرتا ہے۔اس عید پر کروڑوں مسلمانوں نے امریکی بڑھک باز اور اسرائیل کی سفاک قیادت کے اتحاد کے خلاف دعائیں مانگیں کچھ ناگہانی تیروں کے لئے،مگر ابھی تک تو پوپ پال کی دل آزاری بھی انہیں کچھ نہیں کہہ رہی۔
صابر ظفر کی نئی کتاب کی ایک غزل کے تین شعر دیکھئے:
جھوٹا ہویا سچّا...وعدہ ہو سکتا ہے
صلح نہیں ہو سکتی ...جھگڑا ہو سکتا ہے
جیسا ہم سوچیں، کیا...ویسا ہو سکتا ہے؟
اسی طرح تونسے کے سرائیکی شاعر ہیں،فریاد ہیروی ان کا مجموعہ ہے مشرق دے خدا نال۔کہنے کو ان کی کتاب ڈیرہ غازی خان کے ایک ناشر بے باک ادبی میڈیا نے شائع کی ہے مگر میں اتنا زیادہ بے باک نہیں اس لئے ان کے دو تین بھولے بھالے،کملے جہیں شعر دیکھئے:
دوزخ دی کھڑکی کُھلی کھڑی اے
جنّت دا سیک وی سہندےپئے ہیں
تریجھے درجے دے ہیں شہری
چوتھی دفعہ جانڑدے پئے ہیں
پُتراں کوں لوگ چاتی گئین
میَں دھی دا بال گِھن آیاں
او میڈا سر چاتی گئے
میَں اوندی شال گِھن آئیاں
میرا ارادہ تھا اپنے کلاس فیلو کامریڈ صلاح الدین حیدر کی کتاب روسی ناول: چند مطالعات پر کچھ لکھنے کا۔ فخر بلوچ جلدی چلا گیا،اس کا بیٹا کاشف بلوچ اپنے والدِ گرامی پر لکھنا اپنا ذاتی استحقاق سمجھتا ہے اس لئے کامریڈ کا بیٹا معین حیدر جوالا مُکھی ضرور ہے پھر بھی میرا خیال ہے کہ وہ اس کتاب پر پہلے لکھ لے۔آخر صدر ٹرمپ بھی ایران امریکہ معاہدے پر ایک نازک انٹر ویو اپنی بیٹی کو دے رہے ہیں۔